تاثیر 5 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
ووٹر لسٹوں کی خصوصی شدید نظرثانی (ایس آئی آر) کی مخالفت کی ہوا اب مغربی بنگال پہنچ گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، جو بنگالی فخر کی علمبردار سمجھی جاتی ہیں، نے اعلان کیا ہے کہ وہ ووٹر لسٹ سے ایک بھی نام کاٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ممتا بنرجی دوسرے اپوزیشن لیڈروں کی طرح ایس آئی آر کو غریبوں، مہاجرین اور اقلیتوں کو ووٹ سے محروم کرنے کی سازش قرار دیتی ہیں۔ایس آئی آر کے نام پر65.5 لاکھ ووٹرز کے نام کاٹے جا نے کا معاملہ بہار میں تو پہلے سے ہی طول پکڑے ہوا ہے، مگر اس کی وجہ سے اب بنگال کی سیاست بھی گرم ہو گئی ہے۔ ممتا بنرجی نے بی جے پی کو بنگالی مخالف، نچلی ذات مخالف اور فرقہ پرست جماعت قرار دیا ہے۔دوسری جانب راہل گاندھی کی ’’ووٹر ادھیکار یاترا‘‘ کے دوران پی ایم نریندر مودی کی ماں کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے احتجاج میں 4 ستمبر کو بی جے پی کے’’بہار بند‘‘ کے دوران پارٹی کارکنان کے ذریعہ عام لوگوں کے ساتھ کی گئی بد سلوکی کا معاملہ عوام کی زبان کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر چھایا ہوا ہے۔
بنگال میں ایس آئی آر کے خلاف اٹھی لہر کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ خالی عہدوں کو پر کیا جائے اور ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کی تیاری شروع کی جائے۔ الیکشن کمیشن کی اس ہدایت کو نشانہ بناتے ہوئے ممتا بنرجی نے بی جے پی پر سخت حملہ کیا ہے۔بی جے پی کو بنگال اور بنگالیوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کے ذریعہ غیر قانونی طور پر ملک میں رہنے والوں کو نشان زد کرنے کے نام پر حقیقی شہریوں کو ہدف بنا نے کی سازش ہے۔ انہوں نے جی ایس ٹی میں تبدیلیوں کا سہرا اپنے سر باندھا ہے اور بی جے پی پر ملک بیچنے کا الزام لگایا ہے۔ساتھ ہی انھوں نے پیش گوئی کی ہے کہ بی جے پی کا خاتمہ جلد ہی ہونے والا ہے۔ پچھلے دنوں، اس معالے کو لیکر مغربی بنگال اسمبلی میں بھی زبردست ہنگامہ ہوا تھا۔ ہنگامہ اس قدر شدید تھا کہ اپوزیشن لیڈر سوویندو ادھیکاری کی معطلی کے خلاف احتجاج کرنے والے بی جے پی کے پانچ ایم ایل اے بھی معطل ہو گئے۔ بی جے پی لیڈر وں نے بہار کی طرح مغربی بنگال میں بھی ایس آئی آر شروع کرنے کی اپیل کی۔ان کا دعویٰ تھا کہ شفاف انتخابات کے لیے اس کی اشد ضرورت ہے۔ بی جے پی لیڈر وں کا کہنا تھا کہ تریمول کانگریس دراندازوں کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے بچا رہی ہے۔ ان کے دعوے کے مطابق ایس آئی آر کے توسط سے ریاست سے 35-40 لاکھ جعلی ووٹرز ہٹائے جا سکتے ہیں۔
واضح ہو کہ ایس آئی آر کے تحت 65.5 لاکھ ووٹرز کے نام کاٹے جا چکے ہیں، اور مزید 35 لاکھ نام خطرے میں ہیں۔ آر جے ڈی کے تیجسوی یادو اور کانگریس کے راہل گاندھی اسے’’ووٹ چوری‘‘ قرار دیتے ہیں۔ اسی تناظر میں’’ووٹر ادھیکار یاترا‘‘ کے دوران دربھنگہ میں پی ایم مودی کی والدہ کے لیے نازیبا الفاظ استعمال ہوئے، جس کے ردعمل میں این ڈی اے نے 4 ستمبر کو 5 گھنٹے کا بندبلایا تھا۔ مودی نے پچھلے دنوں، اپنی ماں کے نام کے ساتھ کسی سر پھرے کے ذریعہ کئے گئے نازیبا الفاظ کے استعمال کو تمام ماؤں کا اپمان قرار دیا تھا، جبکہ بی جے پی نے کہا کہ بہارکے عوام جواب دیں گے۔حالانکہ اپوزیش لیڈر تیجسوی یادو نے اس’’بند‘‘ کو’’سپرفلاپ‘ ‘ قرار دیا ہے۔ساتھ ہی یہ الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی نے عورتوں اور اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی کی اور درد زہ سے تڑپتی ہوئی خاتون کو اسپتال لے جا رہے امبولنس کے ساتھ ساتھ دیگر ایمبولینسوں کو بھی روکا۔
اِدھر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ تو ایس آئی آر کو لیکر الگ الگ دعوے اور الگ الگ الزامات و خدشات ہیں۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ جعلی ووٹرز کو ہٹانے اور انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے ضروری ہے۔ مگر دوسری طرف یہ خدشات بھی ہیں کہ یہ عمل دستاویزات کی کمی کی وجہ سے غریبوں کو ووٹ سے محروم کر سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی اس پر اعتماد کے بحران پر تشویش ظاہر کی ہے۔ بنگال میں یہ تنازع بنگالی شناخت اور امیگریشن کے حساس مسائل سے جڑا ہے۔ ممتا کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی نے الیکشن کمیشن کے گھیراؤ کی دھمکی دی ہے۔ جبکہ مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سوویندو ادھیکاری نے لاکھوں نام کاٹے جانے کے خدشے کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایس آئی آر کا یہ تنازع 2025 کے بہار اور 2026 کے بنگال انتخابات کے مزاج کو ایک نیا رخ دینے کے لئے تیار ہے۔ اگر ایس آئی آر سیاسی ہتھیار بن گیا تو ظاہر ہے کہ جمہوریت کی بنیادیں کمزور ہوں گی۔ الیکشن کمیشن کو اپنے کام میں مزید شفافیت لانے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی ذاتی مفاد پر مبنی سیاست سے بالاتر ہو کر عوام کے مفاد کی سیاست کو اپنانا چاہئے۔ ظاہر ہے، ووٹ صرف حق نہیں، جمہوریت کا دل بھی ہے۔ اسے بچانا سب کی ذمہ داری ہے۔ ووٹ کا حق اگر محفوظ نہیں رہا تو یقین جانئے جمہوریت بھی تماشہ بن کر رہ جائے گی۔

