آفسیٹ پرنٹرس ایسوسی ایشن نے کاغذ پر جی ایس ٹی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا

تاثیر 9 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 09 ستمبر:ملک میں پرنٹنگ اور پیکیجنگ صنعت کی نمائندگی کرنے والی آفسیٹ پرنٹرس ایسوسی ایشن (او پی اے) نے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سے اپیل کی ہے کہ 22ستمبر 2025سے نافذ ہونے والی پیپر اور پیپر بورڈ پر مجوزہ جی ایس ٹی کی شرح میں اضافہ (12 فیصد سے 18فیصد) کو واپس لیا جائے ۔
ایسوسی ایشن نے اگرچہ کارٹن، باکس اور کیس (ایچ ایس این 4819 10 اور 4819 20) پر جی ایس ٹی کو 12فیصد سے کم کرکے 5فیصد کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے،لیکن متنبہ کیاہے کہ پیپر پر18فیصد کی بلند شرح صنعت کی92فیصد مائیکرو اور چھوٹی اکائیوں کو بری طرح متاثر کرے گی۔ یہ اکائیاں مل کر ملک کے جی ڈی پی میں 1.2 لاکھ کروڑ کا حصہ ڈالتی ہیں اور تقریباً 25 لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔
او پی اے کے صدر پروین اگروال نے کہا کہ پرنٹنگ اور پیکیجنگ تعلیم،ایف ایم جی سی، دوائیوں،خوردہ اور برآمدات جیسے شعبوں کے خاموش انجن ہیں۔ صرف پیکیجنگ ہی بھارت کے 80,000 کروڑ کے پیپر مارکیٹ کا تقریباً 65فیصد حصہ ہے۔ جب تیار پیکیجنگ پر جی ایس ٹی 5فیصد اور کچے پیپر پر18فیصد لگایا جائے گا، تو13فیصد کا انورٹیڈڈیوٹی اسٹریکچرپیدا ہو گا،اس سے رقم پھنس جائے گی،مقابلہ کم ہوگا اور صنعت کی تقریباً30فیصد مائیکرو یونٹس ایک سال کے اندر بند ہونے کے دہانے پر پہنچ جائیں گی۔یہ نہ صرف تجارت بلکہ 25لاکھ لوگوں کے روزگار اور1.2لاکھ کروڑ کی معیشت کو خطرے میںپڑجائے گی۔