نیپال :عوامی طاقت کا عروج

تاثیر 10 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

جنوبی ایشیا کے سیاسی منظر نامے میں حالیہ برسوں میں ایک ایسی تبدیلی کی لہر اٹھی ہے، جس نے روایتی طاقت کے ڈھانچوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ معاشی بحران، بدعنوانی، اور نوجوان نسل کی مایوسی سے جنم لینے والے عوامی احتجاج نے سری لنکا، بنگلہ دیش، اور اب نیپال میں خود سر حکمرانوں کی حکومتوں کو اکھاڑ پھینکا ہے۔ یہ واقعات نہ صرف سڑکوں پر تشدد اور ہنگاموں کی داستان رقم کرتے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ جمہوری نظام میں عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔ سیاسی رہنماؤں کے لئے یہ ایک عبرتناک سبق ہے کہ عوامی جذبات اور مطالبات کو طویل عرصے تک نظر انداز کرنا ایک ایسی طاقت کو بیدار کر دیتا ہے، جو کسی بھی اقتدار کو چیلنج کر سکتی ہے۔
سری لنکا کا واقعہ اس کی سب سے واضح مثال ہے۔ 2022 میں ملک شدید معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہوا۔ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر ختم ہو گئے، ایندھن اور ادویات کی قلت نے عوام کی زندگی کو اجیرن بنا دیا، مہنگائی آسمان چھو رہی تھی، اور قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہو گیا تھا۔ نتیجتاً، ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ طاقتور راجپاکشے خاندان، جو دہائیوں سے اقتدار پر قابض تھا، عوامی غم و غصے کی زد میں آ گیا۔ مہندھا اور گوٹابایا راجپاکشے کو نہ صرف اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ ان کے گھروں کو آگ لگائی گئی، اور صدر گوٹابایا کو محل چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ معاشی ناکامیوں کو بروقت حل نہ کرنے سے عوامی غصہ کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔
اسی طرح، بنگلہ دیش میں 2024 کے آغاز سے حالات خراب ہو گئے۔ مہنگائی، بے روزگاری، اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف طلبہ اور نوجوان سڑکوں پر نکل آئے۔ طلبہ تنظیموں اور اپوزیشن کی حمایت سے یہ احتجاج تشدد پر تشدد ہو گیا، جس کے نتیجے میں وزیر اعظم شیخ حسینہ، جنھیں جنوبی ایشیا کی ’’آئرن لیڈی‘‘ کہا جاتا تھا، کو ملک چھوڑ کر بھارت میں پناہ لینی پڑی۔ اب وہ بھارت میں مقیم ہیں، جبکہ بنگلہ دیش میں ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم ہوئی ہے۔ یہ انقلاب ظاہر کرتا ہے کہ طویل حکمرانی میں بدعنوانی اور جبر عوام کو کس طرح متحد کر دیتا ہے اور طاقت کا غلط استعمال اقتدار کی بنیادیں کس قدر کمزور کر دیتا ہے۔
اب نیپال کی تازہ ترین صورتحال دنیا کے سامنے ہے، جہاں 9 ستمبر 2025 کو وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ عوامی غم و غصے نے نیپال میں خانہ جنگی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر پابندی کا فیصلہ عوامی ناراضگی کا باعث بنا، جسے طلبہ اور نوجوانوں نے سنسرشپ اور بدعنوانی کی پردہ پوشی کی کوشش قرار دیا۔ اس فیصلے نے کٹھمنڈو میں’’جنریشن زیڈ احتجاجات ‘‘ کو جنم دیا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ملک گیر تحریک بن گیا۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ کا گھیراؤ کیا۔ وزراء اور سیاسی رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر حملے کیے، اور وزیر اعظم کی نجی رہائش گاہ کو آگ لگا دی۔چند طاقتور وزراء کو دوڑا دوڑا کر پیٹا گیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 20 سے زائد افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہوگئے۔ حالات اس قدر بگڑ گئے کہ کٹھمنڈو اور دیگر شہروں میں کرفیو نافذ کرنا پڑا، اور فوج کو سڑکوں پر اتارا گیا۔ بالآخر، اولی نے صدر رام چندر پوڈیل کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا، جس کے بعد صدر راج نافذ ہو گیا۔ حکومت نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے 15 روزہ انکوائری کمیشن تشکیل دیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر پابندی رات گئے ختم کر دی گئی، لیکن احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ واقعہ ڈیجیٹل دور میں عوامی جذبات کو دبانے کی کوششوں کے سنگین نتائج کو عیاں کرتا ہے۔
مذکورہ تینوں واقعات سے واضح ہے کہ جنوبی ایشیا میں عوامی طاقت کو کمزور سمجھنا ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ نظام میں عوام کا اعتماد بحال رکھیں، جمہوری اداروں کو مضبوط کریں، اور شفاف و جوابدہ حکمرانی کو یقینی بنائیں۔ معاشی مسائل، بدعنوانی، اور نوجوانوں کی مایوسی کو حل نہ کرنے سے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے، جو کسی بھی رہنما کی سیاسی زندگی کو یکدم ختم کر سکتا ہے۔ حکمرانوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار عوام کی طرف سے ایک عارضی امانت ہے، اور اسے ضائع کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو ایسے بحران ناگزیر ہیں۔ عوام کی آواز اور ان کے تقاضوں کو کچل کر کوئی بھی حکمران تاریخ کو بار بار دہرانے سے نہیں روک سکتا ہے۔ خود سر اور مطلق العنان حکمران کا انجام وہی ہوگا، جو سری لنکا، بنگلہ دیش، اور اب نیپال میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔
**********