وزیر اعلیٰ کا اعلان – کرناٹک میں 22 ستمبر سے دوبارہ ہوگی ذات پات کی مردم شماری

تاثیر 12 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بنگلورو، 12 ستمبر: وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پسماندہ طبقات کمیشن کی قیادت میں نئی ذات کی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے پسماندہ طبقات کمیشن کے چیئرمین مدھوسودن نائک کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی 22 ستمبر سے 7 اکتوبر تک ریاست بھر میں دوبارہ سروے کرے گی۔
وزیر اعلیٰ سدارامیا جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ سدارامیا نے کہا کہ فی الحال دوبارہ سروے پر 420 کروڑ روپے خرچ ہوں گے اور اگر ضرورت پڑی تو مزید فنڈز بھی دیے جائیں گے۔ سدارامیا نے اس مردم شماری کو سب کو برابری دلانے کے مقصد سے اہم قرار دیا اور تمام شہریوں سے اس میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو اس سروے میں پوچھے گئے 60 سوالات کے جوابات دینے چاہئیں۔ معاشرے میں بہت سی ذاتیں اور مذاہب ہیں۔ تنازعہ اور عدم مساوات ہے، لیکن آئین کہتا ہے کہ سب کو یکساں مواقع اور سماجی انصاف ملنا چاہیے۔ امبیڈکر نے کہا تھا کہ معاشی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی عدم مساوات ہے۔ اگر اس جمہوریت کو زندہ رہنا ہے تو عدم مساوات کو ختم کرنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر عدم مساوات ہے تو اس کا شکار عوام جمہوریت کی عمارت کو تباہ کر دیں گے۔ معاشرے میں عدم مساوات کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔