اے آئی ایم آئی ایم کی حکمت عملی

تاثیر 12 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے قریب آتے ہی ریاست کی سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ خاص طور پر مسلم ووٹرز، جو ریاست کی کل آبادی کا تقریباً 19 فیصد حصہ ہیں، انتخابات کے نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتے ہیں۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے بہار صوبائی صدر اختر الایمان نے کل آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کے گھر پر ڈھول بجاتے ہوئے اتحاد کی اپیل کی تھی، لیکن ان کا دروازہ نہیں کھلا ۔ اختر الایمان نے واضح کیا  ہےکہ اگر اے آئی ایم آئی ایم کو عظیم اتحاد میں شامل نہیں کیا گیا تو ووٹوں کا بکھراؤ ہو گا، جس سے فرقہ وارانہ طاقتیں مستفید ہوں گی۔ وہ بلا شرط صرف چھ سیٹیں مانگ رہے ہیں۔ انھیں نہ تو کوئی وزارت چاہئے اور نہ ہی مسلم وزیر اعلیٰ کا مطالبہ ہے۔
بہار میں مسلم آبادی کی بات کی جائے تو 2011 کی مردم شماری کے مطابق یہ 16.9 فیصد تھی، جو اب تخمینوں کے مطابق 19 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ریاست کی کل آبادی تقریباً 13 کروڑ ہے، جس میں مسلم ووٹرز کی تعداد لگ بھگ 2.5 کروڑ ہے۔ یہ ووٹرز تقریباً 40 سے 50 اسمبلی سیٹوں پر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، خاص طور پر شمالی اور مشرقی بہار میں۔ مسلم ووٹرز کی تقسیم علاقائی طور پر ناہموار ہے؛ کچھ اضلاع میں ان کی تعداد 30 فیصد سے زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر، سیمانچل علاقہ، جو ارریہ، کٹیہار، کشن گنج اور پورنیہ اضلاع پر مشتمل ہے، مسلم اکثریتی علاقہ ہے، جہاں مسلم آبادی 47 فیصد تک ہے۔ یہاں ریاست کے تقریباً 50 فیصد مسلم ووٹرز رہتے ہیں۔اسی وجہ سے یہ خطہ تھوڑا حساس بھی ہے۔ سیمانچل کی 24 اسمبلی سیٹیوں پر سبھی سیاسی جماعتوں کی نظر رہتی ہیں۔ مسلم ووٹرز کی اکثریت کی وجہ سے
یہ مانا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا جھکاؤ جس پارٹی کی جانب ہوگا ، وہ کامیاب ہو سکتی ہے۔
اے آئی ایم آئی ایم کی حکمت عملی بھی سیمانچل کو مرکز میں رکھ کر تیار کی جا رہی ہے۔ 2020 کے اسمبلی انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم نے سیمانچل میں پانچ سیٹیں جیتی تھیں، جو اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا ثبوت ہے۔ پارٹی کے قومی صدر اسد الدین اویسی نے دہلی میں اعلیٰ سطحی میٹنگ میں بہار انتخابات کی تیاریوں پر زور دیا ہے۔میٹنگ میں پارٹی تنظیم کو مضبوط بنانے، کارکنوں کو متحرک کرنے اور نظریاتی پیغام کو عوام تک پہنچانے کی حکمت عملی طے کی گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اے آئی ایم آئی ایم عظیم اتحاد سے جڑ نے کی خواہش رکھتی ہے، لیکن آر جے ڈی کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے وہ اکیلے میدان میں اترنے کو تیار ہے۔ اختر الایمان نے الزام لگایا ہےکہ آر جے ڈی کے لوگوں کو مسلم ووٹ تو چاہئے، لیکن نمائندگی دینے سے گریز ہے۔اختر الایمان کا یہ تبصرہ صد فیصد صداقت پر مبنی ہے۔شاید کوئی بھی سیکولر جماعت نہیں چاہتی ہے کہ بہار میں مسلم قیادت فروغ حاصل ہو۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ آر جے ڈی کی سرد مہری سیمانچل میں مسلم ووٹوںکے بکھراؤ کا سبب بن سکتی ہے، جس کا سیدھا فائدہ  این ڈی اے کو ہوگا۔ سیمانچل میں اے آئی ایم آئی ایم کی موجودگی سیکولر ووٹوں کو تقسیم کر سکتی ہے، جیسا کہ 2020 میں دیکھا گیا، جب اس نے آر جے ڈی اور کانگریس کے ووٹ کاٹے۔ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں سیمانچل کی تین سیٹیں کانگریس نے جیتیں، جو مسلم ووٹرز کی اتحادی ترجیح کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن اگر اے آئی ایم آئی ایم اکیلے لڑے تو یہ صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ فرقہ وارانہ طاقتوں کے خلاف سنجیدہ ہے اور بہار کی ہم آہنگی کے لیے قربانی دینے کو تیار ہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم کی سیاست مسلم شناخت پر مبنی ہے، جو سیمانچل جیسے علاقوں میں مؤثر ثابت ہوتی ہے، جہاں غربت، پسماندگی اور نقل مکانی جیسے مسائل غالب ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ بہار کی سیاست میں مسلم ووٹرز کو صرف ووٹ بینک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ان کی لیدر شپ ابھرے ، اس کی فکر کسی بھی سیکولر پارٹی کو نہیں ہے۔یہی وجہ ہے بہار اسمبلی میں مسلم نمائندگی خاطر خواہ نہیں ہے۔ صرف 19 مسلم ایم ایل اے ہیں، جو آبادی کے تناسب سے بہت کم ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کی اپیل اس خلا کو پر کرنے کی کوشش ہے، لیکن اتحاد کی عدم موجودگی میں یہ ووٹ کی تقسیم کا سبب بن سکتی ہے۔ آر جے ڈی اور کانگریس کو چاہیے کہ وہ اس پہلو پر ٹھنڈے دماغ سے غور کریں، ورنہ فرقہ وارانہ طاقتیں فائدہ اٹھائیں گی۔ اختر الایمان کا نعرہ ’’لالو-تیجسوی اپنے کان کھول ، تیرے دروازے پر بج رہا ہے ڈھول‘‘ بہار کی سیاست کے پرانے دروازے پر ایک نئی دستک کی مانند ہے۔آنے والے انتخابات میں سیمانچل کی جنگ مسلم ووٹرز کی ترجیحات پر منحصر ہو گی،جہاں اتحاد ہی کامیابی کی ضمانت ہو سکتا ہے۔ اگر سیکولر پارٹیاں متحد نہ ہوئیں تو 2025 کا نتیجہ غیر متوقع ہو سکتا ہے۔