نیپال کی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ

تاثیر 13 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

پڑوسی نیپال کی سیاسی تاریخ میں ایک نئی صبح طلوع ہوئی ہے۔سابق چیف جسٹس اور 73 سالہ سوشیلا کارکی نے جمعہ کی شام کو ملک کی پہلی خاتون عبوری وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ یہ تقرری صنفی مساوات کی طرف بڑھتا ہوا ایک تاریخی قدم ہے۔ حالیہ دنوں میں نیپال ملک سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ’’جن زی‘‘کے شدید احتجاجات اور تشدد کی زد میں رہا ہے۔ کے پی شرما اولی کی حکومت کے خلاف کرپشن اور سوشل میڈیا پر پابندیوں کے خلاف شروع ہو ئے مظاہرے بالآخر ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا سبب بن گئے، جس کے نتیجے میں اولی کو مستعفی ہونا پڑا اور پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا گیا۔ انتخابات اب 21 مارچ، 2026 کو منعقد ہوں گے۔ اس کےبعد ملک کو ایک نئی جمہوری سمت ملنے کی امید ہے۔
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ ایک منظم احتجاجی تحریک کا نتیجہ ہے۔ نیپال کے نوجوانوں نے، جو سوشل میڈیا کی پابندیوں سے براہ راست متاثر ہوئے، اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ رپورٹس کے مطابق، اولی کی حکومت نے 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی تھی، جو آزادی اظہار کی خلاف ورزی تھی۔ یہ احتجاج جلد ہی تشدد میں تبدیل ہو گئے، وزراء کے گھروں کو نذر آتش کیا گیا اور متعدد نوجوانوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔’’جن زی‘‘ کی اس تحریک نے نہ صرف حکومت کو گرانے میں کامیابی حاصل کی بلکہ نئی قیادت کے انتخاب میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ سشیلا کارکی کو اس عہدے کے لیے منتخب کرنے میں نوجوانوں کی حمایت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔یہ انتخاب ان کی غیر جانبدارانہ اور انصاف پسندانہ شبیہ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔
سشیلا کارکی کی تقرری آسان نہیں تھی۔ انہوں نے حلف اٹھانے سے قبل کئی شرائط رکھیں، جو ملک کی آئینی اور سیاسی ساخت کو مستحکم کرنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ پہلی شرط پارلیمنٹ کی تحلیل تھی تاکہ عبوری حکومت کو مکمل اختیار مل سکے۔ دوسری، تمام سیاسی جماعتوں اور نوجوانوں کی مکمل حمایت۔ تیسری، احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والوں کی اموات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات۔ یہ شرائط نہ صرف کارکی کی حساسیت کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ یہ بھی دکھاتی ہیں کہ وہ ملک کو ایک شفاف اور منصفانہ نظام کی طرف لے جانا چاہتی ہیں۔ عبوری وزیراعظم کے طور پر حلف برداری سے قبل آئین میں ترمیم کی ضرورت پڑی تھی۔ آئین میں سابق جج کو براہ راست پارلیمنٹ میں لانے کا کوئی پروویژن موجود نہیں تھا۔ آرمی چیف اور صدر کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی یہ ممکن ہوا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تقرری نیپال کی سیاسی عدم استحکام کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ کارکی کی شبیہ ایک سخت گیر اور کرپشن مخالف شخصیت کی ہے۔ ملک کی چیف جسٹس کے طور پر ان کی جو خدمات رہی ہیں، ان سے وہاں کے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ تاہم، چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔ عبوری حکومت کو انتخابات تک ملک کو مستحکم رکھنا ان کی اولین ترجیح ہوگی، معاشی مسائل حل کرنے ہوں گے اور نوجوانوں کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا۔ ’جن زی‘‘کی تحریک نے پوری دنیا کو دکھادیا ہے کہ نوجوان اب خاموش نہیں رہیں گے؛ وہ تبدیلی چاہتے ہیں اور اسے حاصل کرنے کے لئے ہر طرح سے تیار ہیں۔ یہ صورتحال بنگلہ دیش کی حالیہ تبدیلیوں سے مشابہت رکھتی ہے جہاں نوجوانوں نے حکومت گرانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر، بھارت نے اس تبدیلی کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کارکی کو مبارکباد دیتے ہوئے نیپال کی  ترقی، امن اور خوشحالی کے لئے بھارت کی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ نے بھی سشیلا کارکی کی تقرری کو بھارت و نیپال دونوں ممالک کے لئے خوش آئند بتایا ہے۔ سشیلا کارکی کا بھارت سے گہرا تعلق ہے۔انہوں نے وارانسی سے تعلیم حاصل کی ہے اور سسرال بھی وہیں ہے۔ یہ رشتہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے، خاص طور پر جب دونوں کے درمیان اقتصادی اور ثقافتی روابط گہرے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کارکی کے دور میں سرحدی مسائل اور تجارتی تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔
نیپال کی عبوری وزیر اعظم کی حیثیت سے سشیلا کارکی کی تقرری امید کی ایک کرن ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ کچھ چیلنجز درپیش ہیں۔ کیا کارکی ملک کو استحکام دے سکیں گی؟ کیا انتخابات شفاف طریقے سے ہوں گے؟ اس طرح کے سوالوں کے جواب تو آنے والا وقت ہی دے سکےگا۔اس کے لئے نیپال کو ایک متحد اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لئے تمام فریقوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ’’جن زی‘‘ کی طاقت نے تو پوری دنیا کو یہ دکھلادیا ہے کہ جمہوریت زندہ ہے اور ملک کے نوجوان اس کی حفاظت کے لئے ہر طرح سے تیار ہیں۔ نیپال کی سیاسی تاریخ کا یہ نیا باب ملک کو ایک روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے،بشرطیکہ صحیح سمت میں معقول اقدامات کیے جائیں۔
**********************