تاثیر 15 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ/ پورنیہ، 15 ستمبر: بہار کے ایک روزہ دورے پر آئے وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز پورنیہ ہوائی اڈے کا افتتاح کیا، اور ریاست کو 40 ہزار روپے سے زیادہ کے مختلف پروجیکٹوں کا تحفہ بھی دیا۔ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے ایک طرف نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) حکومت کی کامیابیوں کو درج کرایاتو دوسری طرف انہوں نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس کو نشانہ بنایا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز پورنیہ کے شیش باڑی میدان میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ملک میں دراندازہے اسے باہر جانا ہوگا۔ دراندازی کو روکنا نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی مضبوط ذمہ داری ہے۔ جو لوگ ان لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، میں ان سے کہتا ہوں کہ بھارت میں بھارت کا قانون چلے گا، نہ کہ دراندازی کرنے والوں کی من مانی۔
بہار میں اسپیشل ووٹر ریویژن (ایس آئی آر) اور گھسنے والوں کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) دخل اندازی کرنے والوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ اپوزیشن ووٹ بینک کے لیے یہ کام کر رہی ہے لیکن دراندازوں کو بھگانے کے لیے ڈبل انجن والی حکومت کام کرے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن نے بہار کا استحصال کیا۔ یہ لوگ بہار سے نفرت کرتے ہیں۔ کانگریس-آر جے ڈی نے بہار کو بدنام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسی ذہنیت والے لوگ بہار کا کبھی بھلا نہیں کر سکتے۔ اپنی تجوریاں بھرنے والے غریبوں کے گھر کیوں بھریں؟ اس سے پہلے کانگریس-آر جے ڈی حکومت میں سرکاری اسکیموں میں گھوٹالے ہوئے تھے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گذشتہ حکومتوں نے بھی مکھانہ اور مکھانہ کسانوں کو نظر انداز کیا۔ جو آج یہاں گھوم رہے ہیں، انہوں نے میرے آنے سے پہلے مکھانہ کا نام بھی نہیں سنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پورنیہ کے لوگوں کو آر جے ڈی اور کانگریس کی غلط حکمرانی کا نقصان اٹھانا پڑا، لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔ میں اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھوں گا جب تک ہر غریب کو مستقل مکان نہیں مل جاتا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس پارٹی بہار کا موازنہ بیڑی سے کر رہی ہے۔ یہ لوگ بہار کو ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے۔ آر جے ڈی کے دور حکومت میں قتل، عصمت دری جیسے واقعات عام تھے۔ اب این ڈی اے حکومت میں خواتین جیویکا دیدی اور ڈرون دیدی بن رہی ہیں۔ آر جے ڈی-کانگریس کے لیے اپنے خاندان کی فکر کرنا سب سے بڑا کام ہے، لیکن مودی کے لیے عوام ہی ان کا خاندان ہے۔ اس لیے میں کہتا ہوں… سب کا ساتھ، سب کا وکاس۔ ملک کی ترقی کے لیے بہار کی ترقی ضروری ہے۔ بہار کی ترقی کے لیے سیمانچل کی ترقی ضروری ہے۔

