سپریم کورٹ کا دانشمندانہ فیصلہ

تاثیر 16 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بھارت کی سپریم کورٹ نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو مکمل طور پر روکنے سے انکار کرنے کے ساتھ ہی نئے ترمیمی قانون کی بعض متنازع شقوں پر روک لگا کر ایک متوازن اور دانشمندانہ فیصلہ سنایا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف آئینی اصولوں کی پاسداری کرتا ہے بلکہ مذہبی آزادیوں کے تحفظ کو بھی یقینی بناتا ہے۔ سوموار (15 ستمبر، 2025) کو سنا ئے گئے اس فیصلے کے ذریعہ       ’’یونائیٹڈ وقف مینجمنٹ، ایمپاورمنٹ، ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ، 2025 ‘‘کی ان شقوں کو معطل کردیا گیا ہے، جو مسلمانوں کے مذہبی حقوق کو براہ راست متاثر کر سکتی تھیں۔ عدالت نے 100 سے زائد درخواست گزاروں کی درخواست پر فیصلہ سنایا ہے، جنہوں نے اس نئے ایکٹ کو مسلم املاک پر’’رینگتا ہوا قبضہ ‘‘ قرار دیا تھا، جبکہ مرکزی حکومت نے اسے عوامی و نجی املاک پر’’ بے تحاشہ تجاوزات‘‘ کے خلاف ضروری اقدام بتایا تھا۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس اے بی مسیح پر مشتمل بینچ نے 128  صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں یہ واضح کیا ہے کہ پورے قانون کو روکنے سے انکار فریقین کے، اس ایکٹ کی تمام دفعات کے خلاف جامع چیلنج پیش کرنے کے حقوق کو متاثر نہیں کرے گا۔ عدالت نے 1923 میں بنائے گئے قانون سے موجودہ قانون تک کی تاریخ کا مطالعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عرضی گزاروں نے تمام وقف قانون کو چیلنج نہیں کیا ہے۔ تاہم بعض شقوں، جنھیں چیلنج کیا گیا ہے، ان میں سے بعض کوقانونی تحفظ کی ضرورت ہے۔‘‘عدالت عظمی نے کہا ہے کہ نئے وقف ترمیمی قانون کی متعلقہ شق اس وقت تک معطل رہے گی جب تک کہ حکومت اس سوال کے تعین کی تشریح کا کوئی ضابطہ اختیار نہیں کرتی ہے کہ آیا کوئی شخص کم از کم پانچ برس سے اسلام کےطریقہ کار پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔‘‘عدالت نے  یہ بھی کہا ہے کہ ’’اس طرح کے ضابطے کی عدم موجودگی میں اس قانون کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ واضح ہو کہ مرکزی حکومت نے ملک کے وقف قانون میں بڑے پیمانے پر ترمیم کرنے کے بعد ایک نیا قانون منظور کیا تھا، جس میں نہ صرف جائدادیں وقف کرنے کو مشروط کر دیا گیا تھا بلکہ اس کا بیشتر انتظام اور اختیار بھی حکومت کے تابع کر دیا گیا تھا۔وقف کے انتظامات دیکھنے والے مرکزی اور ریاستی اداروں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ نامزد غیر مسلم ارکان کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
گذشتہ مئی میں جب یہ قانون نافذ کیا گیا تھا تو اس وقت حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس قانون کا مقصد وقف کی املاک کے لیے ایک بہتر اور شفاف نظام فراہم کرنا ہے۔مگرمسلم عرضی گزاروں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ مرکزی اور ریاستی وقف بورڈز میں صرف مسلم ارکان شامل کیے جائیں۔ ان کی یہ دلیل تھی کہ وقف ایک خالص مذہبی عمل ہے اور دیگر مذاہب کی طرح مسلمانوں کے مذہبی امور کی ذمہ داری صرف مسلمانوں کو ہی دی جانی چاہئے۔اس پر عدالت عظمی نے کہا ہے کہ مرکزی وقف کونسل کے 22 ارکان میں چار سے زیادہ اور ریاستی وقف بورڈز میں 11 میں سے 3 سے زیادہ غیر مسلم ارکان نامزد نہیں کیے جا سکتے ہیں۔عدالت نے عرضی گزاروں کی یہ درخواست تسلیم نہیں کی ہے کہ ریاستی بورڈز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مسلم ہی ہوں گے۔ تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جہاں تک ممکن ہو، اس عہدے کے لئے کسی مسلم افسر کو ہی مقرر کیا جائے۔عدالت عظمی نے نئے قانون کی اس شق پر بھی روک لگا دی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ وقف کی زمین پر حکومت سے کسی تنازعے کی صورت میں کلیکٹر کی رپورٹ آنے تک وہ مخصوص جائداد وقف کی ملکیت نہیں رہے گی۔عدالت عظمی کا کہنا ہے کہ ’’کلیکٹر کو ملکیت کا حق طے کرنے کا مجاز بنانا اختیارات کی تقسیم کے اصولوں کے منافی ہے۔ کیونکہ ایگزیکٹیو کو شہریوں کے حقوق کے تعین کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘‘ فیصلے کے مطابق جب تک کسی متنازع وقف ملکیت کا حتمی فیصلہ ٹریبیونل اور ہائی کورٹ سے نہیں آ جاتا تب تک نہ وقف بورڈ کو اس جائیداد سے بے دخل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی رینیو ریکارڈ میں کوئی تبدیلی کی جا سکے گی۔ حالانکہ عدالت عظمی نے آثار قدیمہ اور دوسری تاریخی عمارتوں کو وقف کے دائرے میں لانے کے قانون کو ختم کیے جانے کی شق میں کوئی دخل نہیں دیا ہے۔ جبکہ مسلمانوں کا دعویٰ تھا کہ صرف مسلمان ہی ایسی عمارتوں کو وقف میں لینے کے مجاز ہیں۔ عدالت نے اس دلیل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ اور جمعیۃ علماء ہند نے بعض اہم دفعات پر پابندی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر خوشی ظاہر کی ہے۔کانگریس کے ترجمان جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’ اس فیصلے سے حکومت کی سازش اور ارادوں پرروک لگ گئی ہے۔‘‘ سی پی آئی (ایم) اور ڈی ایم کے نے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی ترامیم کو ختم کرنے کی جانب پیش رفت قرار دیا ہے۔ جبکہ حکمراں بی جے پی کا بھی دبی زبان میںکہنا ہے کہ ’’یہ ایک مثبت پیش قدمی ہے۔‘‘یعنی مجموعی طور پر سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ متوازن اور دانشمندانہ ہے۔اس کے ذریعہ مذہبی حقوق اور قومی مفاد کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ فیصلہ سیاست بازی پر آئین کی بالادستی کو مضبوط کرتا ہے۔ چنانچہ اس فیصلے کا تمام سطحوں پر خیرمقدم کیا جانا چاہئے۔