تاثیر 20 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
دمشق،20ستمبر:شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد تعلقات معمول پر لانے کے بجائے سرحدی حدود کے معاہدے کی بحالی ہے۔عبوری حکومت کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کسی بھی سطح پر تل ابیب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ترکی کے اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے بعد شام کے ٹی وی نے عبوری صدر کا بیان نشر کیا۔
قطر پر حالیہ حملے کے بعد اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اگر سوال یہ ہے کہ کیا مجھے اسرائیل پر بھروسہ ہے؟ میں اسرائیل پر بھروسہ نہیں کرتا ہوں۔‘انھوں نے واضح کیا کہ شام لڑنا ضرور جانتا ہے لیکن وہ جنگ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔عبوری صدر نے سویدا کے واقعات کا حوالا دیتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کے ساتھ جب مذاکرات مکمل ہونے ہی والے تھے کہ سویدا میں پرتشدد واقعات شروع ہو گئے۔‘انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد شام اور اسرائیل کے مابین 1974 میں طے ہونے معاہدے کو بحال کر لیا جائے تاکہ شام کے جنوبی علاقوں سے اسرائیل کا قبضہ ختم ہو سکے۔یاد رہے کہ 1973 کی عرب جنگ کے بعد شام کے کئی علاقوں پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد 1974 میں دونوں ممالک کے مابین سرحدی حدود پر معاہدہ ہوا تھا۔شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے کئی علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔

