روس کا یوکرین پر بڑا فضائی حملہ، تین افراد ہلاک، 30 سے زائد زخمی

تاثیر 21 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

کیف،21ستمبر:یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی نے یوکرین پر رات گئے ہونے والے بڑے فضائی حملے میں کم از کم تین افراد کی ہلاکت اور30 ??سے ??زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔صدر زیلینسکی کے مطابق ملک بھر کے مختلف علاقوں میں کیے جانے والے ان روسی حملوں میں ’دانستہ حکمت عملی‘ کے تحت نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ شہریوں میں خوف کا احساس پیدا کرنے کے لیے ایک رہائشی عمارت پر براہ راست میزائل مارا گیا ہے۔یوکرین کی فضائیہ کا دعویٰ ہے کہ ماسکو نے 619 ڈرون اور میزائل داغے ہیں۔دوسری جانب روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس کے بڑے پیمانے پر کیے گئے حملے میں ہتھیاروں کا استعمال بھرپور اور درست استعمال کیا گیا جس دوران فوجی صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔روس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ساراتوف کے علاقے پر یوکرین کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملے میں چار افراد مارے گئے ہیں۔کیئو کا کہنا ہے کہ اس نے وہاں ایک بڑی آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا ہے۔ یوکرین کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہمسایہ سمارا کے علاقے میں ایک اور روسی آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا ہے۔بی بی سی دونوں ملکوں کے ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔یاد رہے کہ سرحد پار سے ڈرون حملے جنگ کی ایک نمایاں خصوصیت بن چکے ہیں۔ رواں سال جولائی میں یوکرین کی جانب ڈرون حملے نے روس کو اپنے تقریبا تمام ہوائی اڈوں کا آپریشن روکنے پر مجبورکر دیا تھا۔یوکرین منظم طریقے سے روسی تیل اور دیگر اہم صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے جس نے اس کی روس کے ساتھ جاری جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔