تاثیر 21 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے اعلان سے قبل وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے عوام کے دل جیتنے کے لئے اپنی انتخابی تیاریوں کو تیز کر دیا ہے۔ خواتین اور نوجوانوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے متعدد نئی اسکیموں کا اعلان کیا گیا ہے، جو نہ صرف ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے بلکہ سماجی اور معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کی ایک مربوط حکمت عملی بھی ہے۔
نتیش کمار کی حکومت نے خواتین کےلئے ’’مکھیہ منتری مہیلا روزگار یوجنا ‘‘کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت 50 لاکھ خواتین کو پہلی قسط کے طور پر 10,000 روپے دیے جائیں گے۔ بعد میں، چھ ماہ کے کاروباری جائزے کے بعد، ہر خاتون کاروباری کو 2 لاکھ روپے کی امداد فراہم کی جائے گی۔ اس اسکیم کی کل لاگت 21,000 کروڑ روپے ہے، جو خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ اس کے علاوہ، ’’مکھیہ منتری بالیکا سائیکل یوجنا‘‘، جس کے تحت نویں جماعت کی طالبات کو سائیکل کے لیے مالی امداد دی جاتی ہے، اور کنیا اتھان یوجنا، جس کے تحت لڑکیوں کو گریجویشن تک مالی مدد فراہم کرائی جاتی ہے، خواتین ووٹرز میں نتیش کی مقبولیت کو مستحکم کیا ہے۔ بہار کے کل ووٹرز میں خواتین کا تناسب 48 فیصد ہے، اور 2006 میں مقامی اداروں میں خواتین کے لئے 50 فیصد ریزرویشن اور 2016 میں سرکاری ملازمتوں میں 35 فیصد کوٹے جیسے اقدامات نے ان کی سیاسی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا ہے۔
نوجوانوں کو راغب کرنے کے لیے’’مکھیہ منتری نشچے سویم سہایتا بھتہ یوجنا‘‘ کا دائرہ بڑھایا گیا ہے۔ اس کے تحت اب 12ویں پاس کے علاوہ گریجویٹس کو بھی دو سال تک 1,000 روپے ماہانہ بھتہ ملے گا۔ اس اسکیم سے 12 لاکھ نوجوان مستفید ہوں گے، اور اس پر 2,800 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ دیگر اقدامات میں 1.89 کروڑ صارفین کے لیے 125 میگاواٹ مفت بجلی کے لیے 5,000 کروڑ روپے، سماجی تحفظ پنشن کو 400 سے بڑھا کر 1,100 روپے ماہانہ کرنے کے لیے 9,300 کروڑ روپے، اور 16 لاکھ تعمیراتی مزدوروں کے لئے 5,000 روپے فی کس وستر بھتہ کے لئے 800 کروڑ روپے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، جیویکا، آنگن بااڑی، اور آشا کارکنوں کے اعزازیہ میں اضافہ بھی اہم ہے۔ ان تمام اسکیموں سے سالانہ 40,000 کروڑ روپے کا اضافی خرچ متوقع ہے۔
مذکورہ اعلانات نتیش کی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں کہ وہ اپوزیشن کے وعدوں، جیسے کہ آر جے ڈی کی ’’مائی بہن‘‘ اسکیم، جو ہر خاندان کی ایک خاتون کو 2,500 روپے ماہانہ بھتہ دینے کا وعدہ کرتی ہے، کا مقابلہ کریں۔ نتیش نے 18 ستمبر کو ایکس پر اعلان کیا کہ وہ اس بھتہ اسکیم کے ذریعے نوجوانوں کو مسابقتی امتحانات کی تیاری اور تربیت کے مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، معاشی چیلنجز اس حکمت عملی کے لیے خطرہ ہیں۔ بہار کا قرضہ-جی ڈی پی تناسب 2025-26 میں 37 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو 2021-22 میں 30-32 فیصد تھا۔ سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق، 2022-23 میں ریاستی آمدنی کا 22 فیصد قرضوں کی ادائیگی اور سود پر خرچ ہوا۔ 3.2 لاکھ کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ، نئی اسکیموں کا بوجھ معیشت پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
اپوزیشن، خاص طور پر آر جے ڈی، نے ان اعلانات کو’’الیکشن سے قبل کی خیرات ‘‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔ آر جے ڈی کے ترجمان نول کشور کا کہنا ہے کہ یہ اعلانات ترقی، روزگار، اور غربت کے خاتمے میں ناکامی کو چھپانے کی کوشش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دو دہائیوں سے اقتدار میں رہنے والی حکومت سے وعدوں کے بجائے نتائج کی توقع کی جاتی ہے۔ اس کے جواب میں این ڈی اے کے جنرل سیکریٹری منیش ورما نے کہا ہےکہ یہ اسکیمیں عوام کے لئے حکومت کی ذمہ داری کو ظاہر کرتی ہیںچنانچہ انہیں خیرات کہنا درست نہیں۔
نتیش کمار کی پچھلی کامیابیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ووٹرز کی نفسیات کو سمجھنے میں ماہر ہیں۔ انہوں نے خواتین اور نوجوانوں کو اپنی پالیسیوں کا مرکز بنایا ہے، جو انتخابی طور پر اہم ہیں۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا یہ اسکیمیں پائیدار ترقی، روزگار اور غربت کے خاتمے جیسے دیرینہ مسائل کو حل کر پائیں گے؟ معاشی دباؤ اور بڑھتی ہوئی عوامی توقعات کے پیش نظر، نتیش کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں کتنی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اگر یہ اسکیمیں صرف انتخابی فائدے کے لیے ہیں، تو عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ دوسری طرف، اگر یہ اقدامات پائیدار نتائج دیتے ہیں، تو یہ نتیش کی سیاسی پوزیشن کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں۔
**********

