تاثیر 24 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بہار اسمبلی انتخابات کی تیاریاں زوروں پر ہیں، اور اس میدان میں این ڈی اے اور عظیم اتحاد (انڈیا الائنس) کی حلیف جماعتیں اپنے اپنے اتحاد سے زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کے لئے پریشر پولٹیکس کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔ یہ رسہ کشی ایسی ہے کہ ہر کوئی اپنی طاقت کا دعویٰ تو کر رہا ہے، لیکن زمینی حقیقت سے آنکھیں بھی چرا رہا ہے۔ انتخابات کی تیاری کی اس بھاگ دوڑ میں، جہاں اتحاد کی بنیاد پر کامیابی کا خواب بنا جا رہا ہے، وہاں ہر حلیف جماعت سے وابستہ کچھ تلخ حقیقتیں سامنے آ رہی ہیں۔ یہ صورت حال نہ صرف اتحادوں کی کمزوری کو عیاں کر رہی ہے بلکہ بہار کی سیاست کے اندر کی سیاست کو بھی سامنے لا رہی ہے۔
سب سے پہلے این ڈی اے کی طرف دیکھیں توچراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی (آر) 40 سیٹوں کا مطالبہ کر رہی ہے۔ چراغ پاسوان کی حالیہ کارکردگی کو دیکھیں تو 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے این ڈی اے کے ساتھ مل کر پانچ کی پانچ سیٹیں جیتیں، اور 29 اسمبلی سیگمنٹس میں آگے رہے۔ لیکن یہ کامیابی اتحاد کی مرہون منت تھی، نہ کہ ان کی انفرادی طاقت کی۔ 2020 کے اسمبلی انتخابات میں وہ اکیلے 134 سیٹوں پر لڑے تھے، مگر صرف ایک پر جیتے، اور ان کاوہ ایم ایل اے بھی بعد میں جے ڈی یو میں چلا گیا۔ ان کے والد رام ولاس پاسوان جیسے قد آور لیڈر کے دور میں بھی لوجپاکی اسمبلی میں کارکردگی گرتی چلی گئی تھی،2005 میں 29 سے شروع ہو کر ان کی سیٹوں کی تعدا د 10، 3، 2 اور پھر 1 تک پہنچ گئی۔ چراغ پاسوان لوک سبھا کی کامیابی کو اسمبلی کی بنیاد بنا کر مطالبہ کر رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اسمبلی کا میدان ان کے لئے ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ اتحاد سے الگ ہونے کے بعد ہی ان کی اصل طاقت کا امتحان ہوگا۔
اسی طرح جیتن رام مانجھی کی ہندوستانی عوامی مورچہ (سیکولر) 20 سیٹوں کا دعویٰ کر رہی ہے۔ 2024 میں وہ پہلی بار ایم پی بنے، وہ بھی این ڈی اے کے ساتھ۔ 2020 میں اتحاد میں رہ کر 7 سیٹوں پر لڑے اور 4 پر انھوں نے جیت درج کی ، مگر ووٹ شیئر صرف 0.89 فیصد تھا۔ 2015 میں این ڈی اے میں 21 سیٹوں پر لڑ کر صرف ایک پر انھیں کامیابی ملی ، اور خود دو سیٹوں سے لڑے تو ایک پر جیت پائے ۔ مانجھی صاحب کہہ رہے ہیں کہ 15-20 سیٹیں نہ ملیں تو 100 پر اکیلے لڑیں گے ۔حالانکہ زیادہ سیٹوں کا مطالبہ کرکے وہ پہلے بھی ناکام ہو چکے ہیں۔
اپیندر کشواہا کی آر ایل جے ڈی بھی 10 سیٹوں کی خواہش مند ہے۔ کشواہا صاحب پالا بدلنے کی سیاست کے ماہر ہیں،کبھی این ڈی اے میں، کبھی اس کے خلاف۔ ان کا بہترین دور 2014 کا تھا ،جب مودی لہر میں تین کی تین لوک سبھا سیٹیں جیتیں اور مرکزی وزیر بنے۔ مگر 2015 کے اسمبلی میں 23 سیٹوں پر لڑ کر صرف 2 جیتیں۔ 2019 میں یو پی اے میں رہ کر پانچ سیٹوں پر لڑے، خود دو پر ہارے۔ 2020 میں اے آئی ایم آئی ایم اور بی ایس پی کے ساتھ 104 سیٹوں پر لڑے، ایک پر بھی جیت نہیں ملی۔ 2024 میں این ڈی اے میں رہ کر لوک سبھا ہارے۔ اکیلے لڑنے کا تجربہ انہیں بتاتا ہے کہ زیادہ سیٹیں بھی جیت کی ضمانت نہیں، پھر بھی مطالبہ جاری ہے۔
اب عظیم اتحاد کی طرف آئیں تو کانگریس 76 سیٹوں کا مطالبہ کر چکی ہے، جو 2020 کی 70 سے چھ زیادہ ہے۔ کانگریس نے 2020 میں 70 پر لڑ کر 19 جیتیں، مگر اب راہل گاندھی کی یاترا کا سہارا لے کر دعویٰ کر رہے ہیں کہ پارٹی کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو اکیلے لڑنے کی بھی سوچ رہے ہیں۔ مگر 2000 کے بعد آر جے ڈی کے بغیر ان کی کارکردگی دیکھیں تو 2010 میں اکیلے 243 سیٹوں پر لڑ کر صرف 4 سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا تھا۔ 2015 میں لالو-نتیش کے ساتھ 27 سیٹیں ملیں۔ اتحاد کے بغیر کانگریس کی حقیقت کیا ہے، اس کا ندازہ شاید خود کانگریسیوں کو نہیں ہے۔اسی طرح مکیش ساہنی ڈپٹی سی ایم کی پوسٹ اور تقریباً 60 سیٹوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 2019 میں تیجسوی کے ساتھ لوک سبھا ہارے، 2020 میں این ڈی اے میں رہ کر اسمبلی ہارے۔ جو لیڈر خود ہار چکا، وہ ڈپٹی سی ایم کا دعویٰ کر رہا ہے۔بھاکپا مالے (آئی پی ایف) 40 سیٹوں کی خواہش مند ہے۔ 1990 میں اکیلے 82 پر لڑ کر 7 پر کامیاب ہوئے، مگر 2020 میں آر جے ڈی کے ساتھ 12 جیتے تو اب زیادہ کا مطالبہ ہے۔ بھاکپا کو 11 سیٹیں چاہئیں۔ سب کی آرزوئیں بلند ہیں، مگر جیت کی زمینی حقیقت بے حد کمزور۔
ظاپر ہے،زیادہ سیٹوں کے لئے جاری یہ داخلی پریشر پولٹیکس دونوں اتحادوں کو کمزور کر سکتی ہے۔ ماضی کی ناکامیاں بتاتی ہیں کہ زیادہ کا لالچ کنگالی کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر ذرا صبر اور حقیقت پسندی اختیار کی جائے تو شاید اتحاد مضبوط رہیں اور انتخابات میں کامیابی ملے۔ہمارے رہنماؤں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ بہار کو اب خوابوں کی سیاست سے زیادہ حقائق پر مبنی قیادت کی ضرورت ہے۔

