بہار کی خواتین کے لئے نئی صبح کا آغاز

تاثیر 25 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

آج26 ستمبر، 2025  ہے۔آج بہار کی خواتین کے لئے ایک نئی اور سنہری صبح کے آغاز کا دن ہے۔آج پی ایم نریندر مودی اپنے ہاتھوں سے ’’بہار مہِلا روزگار منصوبہ‘‘ کی پہلی قسط کے طور پر 75 لاکھ خواتین کے بینک اکاؤنٹس میں دس دس ہزار روپے منتقل کریں گے۔ اس تاریخی لمحے میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار بطور مہمان خصوصی شریک ہوں گے۔ یہ 7500 کروڑ روپے کی رقم کوئی معمولی امداد نہیں، بلکہ خود انحصاری، عزت نفس، اور خوابوں کو پرواز دینےکے ایک عظیم وعدے کی تکمیل ہے۔ یہ منصوبہ خواتین کو سلائی بنائی، کھیتی باڑی، یا پشو پالن جیسے چھوٹے کاروباروں کے ذریعے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع فراہم کرنے والا ہے۔ یہ نہ صرف خواتین کی معاشی حالت کو مضبوط کرے گا بلکہ بہار کی معاشی و معاشرتی تصویر کو ایک نئی جہت بھی دے گا۔مانا جا رہا ہے کہ خواتین اس منصوبے سے فائدہ اٹھا کر اپنے خاندانوں اور سماج کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔
تصور کریں، ایک دیہی خاتون جو اپنے گھر کے چھوٹے سے آنگن میں سلائی مشین چلاتی ہے یا اپنے کھیت میں نئی فصل اگاتی ہے۔ اس کے چہرے پر خود اعتمادی کی چمک اور ہاتھوں میں اپنے خوابوں کو سچ کرنے کی طاقت ہے۔ یہ منصوبہ ایسی ہی خواتین کےلئے ہے، جو نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنانا چاہتی ہیں بلکہ اپنے خاندان اور سماج کو بھی مضبوط بنانا چاہتی ہیں۔ اس منصوبے کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ صرف ابتدائی امداد تک محدود نہیں ہے۔ جو خواتین اپنا کاروبار شروع کریں گی، ان کی ترقی کو دیکھتے ہوئے انہیں دو لاکھ روپے تک کی اضافی مالی امداد دی جائے گی۔ یہ ایک ایسی سیڑھی ہے، جو خواتین کو معاشی استحکام کی بلندیوں تک لے جائے گی۔ اس سے نہ صرف ان کی انفرادی زندگی بدلے گی بلکہ ان کے بچوں کی تعلیم، صحت، اور مستقبل کے مواقع بھی بہتر ہوں گے۔
یہ منصوبہ بہار کی ہر اس خاتون کے لئے کھلا ہے ،جو اس ریاست کی مستقل رہائشی ہو، خواہ وہ گاؤں کی ہو یا شہر کی۔ لیکن اس کا فائدہ اٹھانے کے لئے جیوکا سیلف ہیلپ گروپ (ایس ایچ جی) سے منسلک ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی خاتون ابھی تک اس گروپ کا حصہ نہیں، تو فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ رکنیت کا عمل اتنا آسان رکھا گیا ہے کہ ہر کوئی اس سے جڑ سکتا ہے۔ بس ایک سادہ سا فارم بھرنا ہے، اور آدھار کارڈ، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، رہائشی ثبوت، پین کارڈ، اور پاسپورٹ سائز تصویرجیسی دستاویزات جمع کرانی ہیں۔ جیوکا گروپ کا کردار اس سلسلے میں نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ نہ صرف خواتین کو جوڑتا ہے بلکہ انہیں تربیت، رہنمائی اور مسلسل تعاون بھی فراہم کرتا ہے۔
درخواست کا عمل بھی اس منصوبے کی ایک بڑی خوبی ہے۔ دیہی خواتین اپنے گاؤں کے جیوکا گروپ یا گرام تنظیم کے ذریعے آسانی سے درخواست دے سکتی ہیں۔ وہاں موجود گروپ کی نمائندگان ان کی ہر ممکن مدد کرتی ہیں، چاہے وہ فارم بھرنے کی بات ہو یا دستاویزات جمع کرانے کی۔ شہری خواتین کے لئے جیوکا کی سرکاری ویب سائٹ پر آن لائن درخواست کا آپشن موجود ہے، جہاں وہ فارم بھر کر دستاویزات کی اسکین شدہ کاپی اپ لوڈ کر سکتی ہیں۔ یہ سادگی اس بات کی ضمانت ہے کہ کوئی بھی خاتون پیچھے نہ رہ جائے۔ اس کے علاوہ، یہ منصوبہ خواتین کو نہ صرف مالی امداد فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں کاروباری تربیت اور مارکیٹ تک رسائی کے مواقع بھی دیتا ہے، تاکہ وہ اپنے کاروبار کو پائیدار بنا سکیں۔
واضح ہو کہ یہ منصوبہ صرف مالی امداد کا نام نہیں، بلکہ بہار کی خواتین کے لئے ایک نیا عہد ہے۔ یہ ان کے ہاتھوں میں وہ طاقت دے رہا ہے جو انہیں اپنے خاندان کی معاشی بنیاد مضبوط کرنے اور سماج میں سر اٹھا کر جینے کا موقع دے گی۔ اس سے نہ صرف کروڑوں خاندانوں کی زندگی بدلے گی بلکہ بہار کی معیشت کو بھی ایک نئی رفتار ملے گی۔ یہ منصوبہ خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ہمت دیتا ہے، تاکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کے ساتھ ساتھ سماجی تبدیلی کی رہنما بھی بن سکیں۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی یہ پہل خواتین کی بااختیاری کے ساتھ ساتھ ریاست کے پائیدار ترقی کے خواب کو سچ کرنے کی طرف ایک مضبوط قدم ہے۔ آج کا دن صرف ایک رقم کی منتقلی کا دن نہیں ، بلکہ بہار کی خواتین کے لئے نئے مواقع، خود اعتمادی، اور عزت کی زندگی کےآغاز کا دن ہے۔ یہ منصوبہ ہر اس خاتون کے لئے ایک امید کی کرن ہے، جو اپنی محنت سے اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینا چاہتی ہے۔ یہ بہار کی خواتین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور انہیں سماجی و معاشی طور پر مضبوط بنانے کا ایک عظیم موقع ہے۔اس کا فائدہ بہار کی ہر ایک اہل خاتون کو ملے ، اس کو یقینی بنانا سماج کے ہر ایک باشعور فرد کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
*************************