غزہ کی آواز: ا من منصوبہ یا امریکی سازش؟

تاثیر 4 اکتوبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

پرسوں یعنی 7 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس جنگ کے دو سال مکمل ہو جائیں گے۔اس درمیان فلسطین کی غزہ پٹی، جو برسوں سے اسرائیلی جارحیت کا شکار ہے، آج ایک نئے بحران سے دوچار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نام نہاد ’’امن منصوبہ‘‘ کو قبول کرنے کے لئے حماس کوکل 6 اکتوبرکی شام 6 بجے تک قبول کرنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔حالانکہ یہ مانا جا رہا ہے ٹرمپ کا یہ ’’امن منصوبہ‘‘ ایک ایسا دھوکہ ہے، جس کا واحد مقصد فلسطینی جدوجہد کو کچلنے کی کوشش ہے۔ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ، جس میں انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ناکامی کی صورت میں’’حماس پر ایسا قہر ٹوٹ پڑے گا، جو کبھی نہیںدیکھا گیاہے‘‘، در اصل غزہ کی معصوم آبادی کو مزید خوف اور دہشت میں مبتلا کرنےکی کھلی دھمکی ہے۔ یہ منصوبہ، جو اسرائیل نے قبول کر لیا ہے اورجسے بعض عرب ممالک نے بھی سراہا ہے، فلسطینیوں کی آواز کو دبانے اور غزہ کو اسرائیلی مفادات کا غلام بنانے کی سازش ہے۔ ایسے میںغزہ کی حمایت میں آواز اٹھانا آج ہر انسانیت پسند کی ذمہ داری ہے، کیونکہ یہ صرف فلسطینیوں کا نہیں، بلکہ عالمی انصاف کا سوال ہے۔
ٹرمپ کا یہ ’’امن منصوبہ‘‘ بظاہر امن اور بندیوں کی رہائی کی بات کرتا ہے، مگر اس کی گہرائی میں فلسطینی حقوق کی پامالی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے تحت حماس کے ارکان کو ہتھیار ڈالنے پر’’معافی‘‘ دینے کا وعدہ، غزہ کو ایک ’’غیر سیاسی‘‘ فلسطینی ادارے کے حوالے کرنے کا دعویٰ، اور ٹرمپ کی سربراہی میں’’بورڈ آف پیس‘‘ کی نگرانی ،یہ سب فلسطینی خودمختاری کو ختم کرنے کی کوششیںہیں۔ غزہ کا انتظام ایک ’’تکنیکی‘‘ ادارے کو سونپنا، جس کی نگرانی امریکی صدر اور ٹونی بلئیر جیسے مغربی رہنماؤں کے ہاتھ میں ہو، دراصل اسرائیلی قبضے کی توسیع ہے۔ یہ امن منصوبہ انسانی امداد،  انفراسٹرکچر کی بحالی اور اسرائیلی ڈیفنس فورس(آئی ڈی ایف) کے مرحلہ وار غزہ سے نکلنے جیسی باتیں  ضرور کرتا ہے، مگر امریکہ کی چال کو سمجھنے والے اس حقیقت سے واقف ہیں کہ یہ در اصل لاکھوں فلسطینیوں کو اپنے وطن سے بے دخل کرنے کی چال ہے۔ حماس اور فلسطینی مزاحمت کو’’دہشت گردی‘‘ قرار دے کر انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا اور اسرائیل کی جارحیت کو نظر انداز دینا، یہ امتیازی انصاف کی انتہا ہے۔
غزہ کی صورتحال انسانی المیے کی خون چکاںداستان ہے۔ پچھلے دو سالوں میں 7 اکتوبر کے واقعات کے بعد، اسرائیلی بمباریوں نے ہزاروں بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی جانیں لی ہیں۔ غزہ پٹی، جو دنیا کی سب سے گنجان آبادی ہے، آج غذائی قلت، بیماریوں اور تباہی کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ 90 فیصد آبادی بے گھر ہو چکی ہے، اور پانی، بجلی اور دوائیوں کی شدید کمی ہے۔ ظاہر ہےٹرمپ کا الٹی میٹم اس المیے کو مزید گہرا کرنے والا ہے۔ اس الٹی میٹم کے پس پردہ حماس پر دباؤ ڈال کر فلسطین پر اسرائیلی حملوں کو جواز فراہمی ہے۔ساتھ ہی مصر اور قطر جیسے ثالثین کی طرف سے مزید بات چیت کی خواہش کو نظر انداز کرنا، امن عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ غزہ کی حمایت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس منصوبہ کو سرے سے مسترد کریں، کیونکہ یہ فلسطینیوں کی جائز جدوجہد کو’’دہشت گردی‘‘ کا لیبل دے کر اس کو ختم کرنے کی ایک منظم سازش ہے۔
حقیقی امن کےلئے فلسطینیوں کی حمایت ناگزیر ہے۔ غزہ کی آواز کو سننا ہوگا۔یہ آواز صرف بندیوں کی رہائی اور امداد  کے لئے نہیں ہے۔ یہ آواز فلسطین کی مکمل خودمختاری اور 1967 کی سرحدوں پر مبنی دوریاستی حل چاہتی ہے۔ اس آواز کا مطالبہ ہے کہ حماس کو الگ تھلگ کرنے کے بجائے، فلسطین پر قبضے کو ختم کرنے، غزہ کی ناکہ بندی ہٹانے اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لئے اسرائیل پر دباؤ ڈالا جانا چاہئے۔ عالمی برادری، خصوصاً مسلم ممالک، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ٹرمپ کے منصوبہ کی مخالفت کرنی چاہیے۔ یہ آواز جاہتی ہے کہ غزہ کی مزاحمت کو ’’دہشت گردی ‘‘ نہیں قرار دیا جائے ، بلکہ پوری ایمانداری اور دیانداری کے ساتھ اعلانیہ طور پر یہ تسلیم کیا جائے کہ نوآبادیاتی جارحیت کے خلاف یہ جائز اور ضروری دفاع ہے۔
الغرض فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل کا بائیکاٹ، اس کی جارحیت کے خلاف احتجاج اور سفارتی دباؤ ہی وہ راستہ ہے جو غزہ کو آزادی دلا سکتا ہے۔بلا شبہ غزہ کی بہادری اور صبر نے کئی طوفان جھیلے ہیں۔ظاہر ہے یہ اس حالیہ ٹرمپی طوفان کو بھی جھیل لے گا۔ مگر انصاف پسندی کا تقاضہ ہے کہ ہمارا ضمیر جاگتا رہے اور یہ دیکھتا رہے کہ کہیں غزہ کی آواز دب نہ جائے۔چنانچہ فلسطینیوں کی آزادی کے لئے ہماری حمایت جاری رہے گی اور تب تک جاری رہے گی ، جب تک انصاف فتحیاب نہیں ہو جاتا ہے۔