این ڈی اے کی سیٹ شیئرنگ : مفاہمت کی عمدہ مثال

تاثیر 11 اکتوبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر جنتا دل (یونائیٹڈ) اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان سیٹ شیئرنگ کا فارمولا طے ہو گیا ہے۔اس کو لیکر اتحاد سے وابستہ چند رہنما اپنی خوشی چھپا نہیں پا رہے ہیں۔وہ اس پیش رفت کو اتحاد کی بڑی کامیابی مان رہے ہیں۔  تاہم اس کامیابی کے پیچھے کئی ایسے عوامل پوشیدہ ہیں جو اتحاد کے اندرونی ڈھانچے، مستقبل کی قیادت اور انتخابی سمت کو بڑی حد تک متعین کریں گے۔ سیٹ شیئرنگ کے فارمولے کے مطابق جنتا دل (یونائیٹڈ) کو 101، بی جے پی کو 100، لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کو 29، ہندوستانی عوام مورچہ کو 7 اور نیشنل لوک مورچہ کو 6 نشستیں دی گئی ہیں۔ بظاہر یہ تقسیم اتحاد کے اتفاقِ رائے کا نتیجہ دکھائی دیتی ہے، مگر دراصل یہ ایک باریک سیاسی توازن کا مظہر ہے، جہاں ہر جماعت نے اپنے اصولوں سے زیادہ بقا کی سیاست کو ترجیح دی ہے۔
2020 کے اسمبلی انتخابات بات کریں تو اس میں جے ڈی یو نے 115 نشستوں پر لڑ کر محض 43 پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس بار اس نے 14 نشستوں کی قربانی دے کر اپنے اتحادیوں کے لئے جگہ بنائی ہے۔ یہ عمل بظاہر سخاوت معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے پیچھے یہ احساس بھی ہے کہ گزشتہ ناکامی کے بعد عوامی تاثر کو بہتر بنانے کے لئے اشتراکی سیاست ضروری ہے۔دوسری جانب بی جے پی نے غیر معمولی سیاسی ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’چھوٹے بھائی‘‘ کی حیثیت قبول کی ہے، حالانکہ گزشتہ انتخابات میں اس کا اسٹرائیک ریٹ جے ڈی یو سے کہیں بہتر تھا۔ یہ رویہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بی جے پی فی الحال بہار میں نتیش کمار کے ساتھ اقتدار کی شراکت کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ 2025 کے نتائج کے بعد سیاسی امکانات کھلے رہیں۔
اتحاد کے نئے چہروں، چراغ پاسوان، جیتن رام مانجھی اور اوپندر کشواہا، نے اپنی حیثیت سے کم نشستیں قبول کرکے یہ تاثر دیا ہے کہ این ڈی اے کے اندر نظم و اتحاد کو برقرار رکھنا فی الحال سب سے اہم ہے۔ چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) نے اگرچہ ابتدا میں 40 سے زائد نشستوں کا مطالبہ کیا تھا، لیکن آخرکار 29 پر رضامندی ظاہر کرنا ان کی سیاسی حقیقت پسندی اور قومی سطح پر اپنے کردار کو مضبوط کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔اسی طرح جیتن رام مانجھی نے 7 نشستوں پر اکتفا کیا، حالانکہ ان کی پارٹی کا تنظیمی اثر کئی اضلاع تک پھیلا ہوا ہے۔ اوپندر کشواہا کی نیشنل لوک مورچہ کو محض 6 نشستیں ملیں، مگر انہیں پہلی بار اسمبلی میں باقاعدہ نمائندگی کا موقع ملا۔ یہ سب اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ این ڈی اے اس بار’’سیاسی رشتہ‘‘ بچانے کو ’’نشستوں کی گنتی‘‘ سے زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔
سیٹ شیئرنگ کا موجودہ فارمولا بنیادی طور پر لوک سبھا کی نشستوں کے نتائج پر مبنی ہے۔ جے ڈی یو نے 17 اور بی جے پی نے 16 نشستیں جیتی تھیں، اسی لئے اسمبلی میں بھی اسی تناسب کو دہرانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم سیاست میں فارمولے سے زیادہ عوامی تاثر اہم ہوتا ہے۔ اگر این ڈی اے اس فارمولے کو صرف انتخابی اتحاد نہیں بلکہ ’’ترقیاتی عہد‘‘ میں تبدیل کر پاتا ہے تو یہ حکمت عملی کامیاب ہو سکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بہار کے ووٹر اب ذات، علاقہ اور مذہب کے بجائے روزگار، تعلیم اور مہنگائی جیسے مسائل پر زیادہ حساس ہو چکے ہیں۔ اگر این ڈی اے اپنے انتخابی منشور میں ان نکات پر کوئی واضح روڈ میپ پیش نہیں کرتا تو سیٹوں کی یہ متوازن تقسیم محض ایک عارضی کامیابی ثابت ہوگی۔
مختصر یہ کہ این ڈی اے نے وقتی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر جو سیاسی توازن قائم کیا ہے، وہ بہار کی سیاست میں ایک نیا تجربہ ہے۔ مگر اصل امتحان الیکشن کے میدان میں ہوگا، جہاں اتحاد کی یکجہتی کو عوام کے فیصلے کی بھٹی سے گزرنا ہوگا۔ یہ سمجھوتہ اگر کارکردگی، نظم اور اعتماد میں ڈھل گیا تو این ڈی اے ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کا مضبوط دعویدار بن سکتا ہے۔
***********