! جمہوریت جیت چکی ہے

تاثیر 12 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار اسمبلی انتخابات،  2025  کے نتائج کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہے۔کل 14 نومبر کی صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی۔  چند ساعتوں کے بعد سے ہی پہلا رجحان آنا شروع ہو جائے گا اور دوپہر ہوتے ہوتے تصویر صاف ہونےلگے گی۔وہیں شام تک حتمی نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔ ویسے 11 نومبر کو دوسرے مرحلے کی پولنگ مکمل ہو نے کے بعد سے ہی فتح و شکسٹ کی قیاس آرائیاں شروع ہو چکی تھیں۔  بیشتر اگزٹ پولز کے مطابق ریاست میں این ڈی اے (بی جے پی + جے ڈی یو اتحاد) ایک بار پھر اقتدار کی دہلیز پر ہے، جبکہ کچھ تجزیوں نے مہاگٹھ بندھن کی جیت کے امکانات کو زندہ کر رکھا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً 12 اگزٹ پولز میں این ڈی اے کو واضح برتری حاصل ہے، مگر ’اے آئی پولیٹکس‘ کے اگزٹ پول نے سب کو چونکا دیا ہے۔اس کے مطابق دونوں اتحادوں میں کانٹے کی ٹکر ہے۔محض ایک دو سیٹوں کے اِدھر اُدھر ہونے سے اقتدار کا پہیہ اِدھر سے اُدھر گھوم سکتا ہے۔اس اگزٹ پولز کی رو سے این ڈی اے کو 121 نشستوں کے آس پاس اور مہاگٹھ بندھن کو 119 کے قریب نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ چونکہ اسمبلی کی کل 243 نشستوں میں اکثریت کے لئے 122 نشستیں درکار ہیں، لہٰذا یہ مقابلہ محض ایک نشست کے فرق پر ٹک سکتا ہے۔ ’اے آئی پولیٹکس‘ نے بتایا ہے کہ بی جے پی 85 سے 93، جے ڈی یو 25 سے 31، اور ایل جے پی 2 سے 4 سیٹوں پر کامیاب ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف آر جے ڈی 89 سے 97، کانگریس 14 سے 21 اور بائیں بازو کے اتحاد کو مجموعی طور پر 7 سے 9 نشستوں کا امکان ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً تمام سروے کمپنیوں جیسے ،میٹرکس،آئی اے این ایس، پیپلز پلس، چانکیہ اسٹریٹجیز، پول ڈائری، ڈی وی ریسرچ وغیرہ نے بھی این ڈی اے کے لئے اکثریت کی پیش گوئی کی ہے۔ ’’بہار میں بَہار ہے، نیتش کمار ہے‘‘ کا نعرہ ایک بار پھر حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ البتہ ’ڈی بی لائیو‘اور ’الیکٹ لائن ‘کے اگزٹ پول نے اس رجحان کو الٹتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس بار بہار میں اقتدار کی تبدیلی طے ہے اور مہاگٹھ بندھن 130 سے 144 نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت حاصل کر سکتا ہے۔یاد رہے،ریاست میں اس بار ریکارڈ توڑ 66.90 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے، جو آزادی کے بعد کی سب سے بڑی شراکت داری ہے۔ پہلے مرحلے میں 65.08 اور دوسرے مرحلے میں 68.69 فیصد ووٹ پڑے۔ خواتین ووٹروں نے 71 فیصد کی شراکت کے ساتھ ایک نئی تاریخ رقم کی۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اس انتخاب کو ’’بھارتی جمہوریت کی شفاف مثال‘‘ قرار دیا۔ بلند شرحِ رائے دہی سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام نے اس انتخاب کو نہایت سنجیدگی اور ذمہ داری سے لیتے ہوئے ووٹ کے ذریعے اپنی توقعات و ترجیحات کا اظہار کیا ہے۔
سیاسی سطح پر دونوں اتحادوں نے اپنے اپنے طریقے سے انتخابی مہم کو آخری مرحلے تک گرم رکھا۔ این ڈی اے نے وزیر اعلیٰ  نتیش کمار کی قیادت میں ترقیاتی کاموں، انفراسٹرکچراور خواتین کی بااختیاری کو انتخابی ایشو بنایا، جبکہ بی جے پی نے مرکزی حکومت کی اسکیموں، خاص طور پر گھر، بجلی، راشن اور روزگار کے وعدوں، کو نمایاں طور پر پیش کیا۔ دوسری جانب، آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے نوجوانوں کے روزگار اور سرکاری بھرتیوں کو مرکز میں رکھتے ہوئے ’’نوکری والی سرکار‘‘ کا نعرہ دیا۔ ان کے مطابق، اس بارکےووٹ ’’حکومت بدلنے‘‘ کے لئے پڑے ہیں،نہ کہ ’’حکومت بنانے‘‘ کےلئے۔تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ اگزٹ پولز کی تعبیر ہمیشہ حقیقت کی مکمل عکاس نہیں ہوتی۔ ماضی میں بھی بہار میں کئی بار ایسے سروے الٹ ثابت ہوئے ہیں۔ 2015 کے انتخابات میں بھی بیشتر سروے این ڈی اے کی جیت کا اندازہ لگا رہے تھے، لیکن نتیجہ بالکل برعکس نکلا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں اتحاد اپنے اپنے انداز میں محتاط امید رکھے ہوئے ہیں۔
اِدھرسیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار بہار کا انتخاب محض اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور کارکردگی کا امتحان ہے۔ ایک طرف نیتیش کمار کے 20 سالہ نظم و نسق کا حساب ہے، تو دوسری جانب تیجسوی یادو کی قیادت میں نوجوان نسل کی امیدیں وابستہ ہیں۔ ’’جن سوراج‘‘ جیسے نئے پلیٹ فارم کی موجودگی نے انتخاب کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔گرچہ اِس پارٹی کو اس بار خاظر خواہ سیٹیں ملنے کی توقع نہیں ہے ، مگر ووٹ شیئر میں 12.7 فیصد کی موجودگی بتا رہی ہے کہ بہار کی سیاست میں ایک مضبوط متبادل سامنے آچکا ہے۔جہاں تک سیاسی ردعمل کا تعلق ہے، بی جے پی رہنماؤںنے ان نتائج کو’’تبدیلی نہیں، تسلسل کا مینڈیٹ‘‘ قرار دیا ہے۔ دوسری طرف تیجسوی یادو نے ان پولز کو’’پی ایم او سے سیٹ ایجنڈا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ اصل نتیجہ 14 نومبر کو عوام کے حق میں آئے گا۔ اب نتیجہ خواہ جس اتحاد کے حق میں آئے ، یہ بات مسلم ہے کہ اس بار بہار کے عوام نے جمہوریت کی ایک شاندار مثال قائم کی ہے۔ بلند ووٹنگ، پرامن ماحول اور خواتین کی غیر معمولی شرکت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بہار کی جمہوریت بالغ اور باشعور ہے۔ اب کل 14 نومبر کے نتائج یہ طے کریں گے کہ ریاست کا مستقبل تجربہ کار ہاتھوں میں رہے گا یا نئی قیادت کو موقع ملے گا، مگر یہ طے ہے کہ بہار جیت چکا ہے، جمہوریت جیت چکی ہے۔
***************