استحکام ، سوشاسن اور ترقی کو پھر ترجیح

تاثیر 14 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے نتائج نے ریاست کی سیاست میں ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی ہے۔ این ڈی اے کو ناقابل یقین دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت کے قریب پہنچانے والے یہ نتائج نہ صرف انتخابی برتری بلکہ عوامی اعتماد کے ایک گہرے اظہار کی علامت ہیں۔انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے، جبکہ جنتا دل یونائیٹڈ دوسری بڑی جماعت کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ بی جے پی کا 82 فیصد اور جے ڈی یو کا لگ بھگ اسی فیصد اسٹرائک ریٹ اس امر کا ثبوت ہے کہ ووٹر نے اس بار کارکردگی، استحکام اور پالیسیوں کو پہلی ترجیح دی ہے۔
دوسری طرف مہاگٹھ بندھن کے لئے یہ نتائج کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں ہے۔ آر جے ڈی، جسے اس بار زائد نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بننے کی امید تھی، تیسرے نمبر پر سمٹ کر رہ گئی۔ کانگریس کی کارکردگی تو مزید مایوس کن رہی، جو دہائی کے عدد تک نہ پہنچ سکی۔ اس کے برعکس، این ڈی اے کی حلیف ایل جے پی (آر) نے 60 فیصد سے زائد اسٹرائک ریٹ کے ساتھ اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کیا ہے۔ یہ پورا منظرنامہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بہار کے رائے دہندگان نے اس بار جذباتی سیاست کے بجائے نتائج دینے والی حکومت کو ترجیح دی ہے۔
نتیش کمار کی قیادت پر عوامی اعتماد کا تسلسل بھی اس بار کے انتخابات کی اہم ترین خصوصیت ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں دسویں بار وزارتِ اعلیٰ کی دہلیز تک پہنچنا محض سیاسی حمایت نہیں، بلکہ طرزِ حکمرانی پر عوام کے پختہ اعتماد کا اظہار ہے۔ خواتین ووٹروں کی بڑی تعداد میں شمولیت اس رجحان کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ 71.6   فیصد کے ریکارڈ ووٹنگ میں خواتین کا کردار فیصلہ کن رہا۔’’مکھیہ منتری مہیلا روزگار یوجنا‘‘ اور ’’جیویکا دیدی‘‘ جیسی اسکیموں نے دیہی خواتین کے لئے معاشی خودمختاری کی نئی راہیں کھولیں ہیں اور اسی بنیاد پر خواتین ووٹرز نے این ڈی اے کو قابلِ اعتبار سمجھا ہے۔دوسری جانب انتخابی مہم میں بھی نتیش کمار کا نرم لہجہ، غیر متنازعہ انداز، اور اپنی کارکردگی کو اعتماد کے ساتھ پیش کرنا ان کی مقبولیت میں اضافہ کرتا رہا۔ ‘‘جنگل راج‘‘ بمقابلہ ‘‘سشاسن‘‘ کا بیانیہ بھی اس بار زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔ این ڈی اے نے گزشتہ برسوں میں قانون و نظم کی بہتری، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور فلاحی اسکیموں کے نفاذ کو جس طرح سامنے رکھا، اس نے خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین میں امنگ کی فضا پیدا کی ہے۔
مزید یہ کہ اس انتخاب نے یہ حقیقت بھی دوٹوک انداز میں واضح کر دی ہے کہ بہار کی سیاسی سوچ اب محض نعروں یا ذات پات کے بیانیے کے سہارے نہیں چلتی۔ ووٹر اب زیادہ باشعور، باخبر اور زمینی حقائق کو سمجھنے والا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، سڑکوں، روزگار اور اسکیموں کی شفاف فراہمی کے حوالے سے حکومت کی کاوشیں ہر گاؤں اور قصبے تک محسوس کی گئیں۔ گڈگورننس کے اسی تسلسل نے عوام کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں اور پہلی بار ووٹ دینے والوں نے ترقی، امن اور روزگار کے حقیقی مواقع کو ترجیح دی ہے۔ ووٹنگ پیٹرن میں یہ واضح تبدیلی دراصل بہار کے سیاسی شعور کی بالغ نظری کا اظہار بھی ہے۔
اسی پس منظر میں این ڈی اے کے شاندار نتائج ایک ایسے سیاسی ماحول کا ثبوت ہیں، جہاں مثبت طرزِ حکمرانی کی قدر کی جاتی ہے۔ بی جے پی اور جے ڈی یو کے درمیان تعاون نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ مضبوط قیادت اور مربوط حکمتِ عملی عوامی حمایت کے حصول میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اگرچہ بی جے پی اس بار سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، لیکن نتیش کمار کا سادہ، شفاف اور خدمت پر مبنی سیاسی مزاج اب بھی ریاستی سیاست کا محور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ این ڈی اے کی اعلیٰ قیادت نے متفقہ طور پر اُنھیں ہی ایک بار پھر وزارتِ اعلیٰ کے منصب کے لئے اپنا مشترکہ چہرہ قرار دیا ہے۔
بہر حال یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ انتخاب محض جماعتوں کی جیت یا ہار نہیں، بلکہ بہار کے ووٹر کی بالغ النظری، پالیسی پر مبنی سوچ، اور ترقی کے تسلسل پر اعتماد کا فیصلہ ہے۔ این ڈی اے کے لئے یہ موقع ہے کہ وہ اس مضبوط مینڈیٹ کو ریاست کی مجموعی ترقی، معیارِ زندگی کی بہتری، اور سماجی ہم آہنگی میں مزید اضافہ کرنے کے لئے استعمال کرے۔ اگر یہی رفتار اور خلوص برقرار رہا تو آنے والے برس بہار کے لئے ایک نئی سیاسی اور سماجی تعمیر کا دور ثابت ہو سکتے ہیں۔