تاثیر 15 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے نتائج نے ریاست کی سیاست میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ این ڈی اے نے دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت کے ساتھ نہ صرف سیاسی برتری قائم کی بلکہ انتخابی حکمتِ عملی، سماجی اتحاد اور ترقیاتی بیانیے کو مرکز میں لا کر انتخابی میدان پر غلبہ حاصل کیا ہے۔ دوسری طرف، مہاگٹھ بندھن کا تقریباً مکمل انہدام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاستی سیاست میں نظریاتی یا ذات پر مبنی اتحادی فارمولے اب ووٹروں کو پہلے کی طرح یکجا رکھنے میں کامیاب نہیں ہو رہے۔تاہم ان مجموعی سیاسی نتائج کے بیچ ایک اہم پہلو جس پر سنجیدہ بحث ناگزیر ہے وہ ہے مسلم سیاسی نمائندگی میں تاریخی کمی۔
1951 سے اب تک کے تمام انتخابات کو سامنے رکھا جائے تو مسلم اراکینِ اسمبلی کی نمایندگی کی سب سے کم تعداد صرف 11 اس بار سامنے آئی ہے۔2020 میں یہ تعداد 19 تھی، جبکہ 2015 میں 24 اور 1985 میں متحدہ بہار کے زمانے میں یہ تعداد 34 تک گئی تھی۔ انتخابات 2025 میں یہ گراوٹ 8 نشستوں کی کمی کے ساتھ نہایت نمایاں ہے۔تقریباً 17.7 فیصد آبادی رکھنے والا ایک بڑا سماجی طبقہ، جس کی عددی حیثیت کے اعتبار سے نظریاتی طور پر 40 سے زیادہ نشستوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت موجود ہے، اس کی نمائندگی صرف 11 نشستوں تک سمٹ جانا نہ صرف سیاسی سطح پر غور طلب ہے بلکہ یہ پورے سیاسی منظرنامے میں ایک نئے رجحان کا اشارہ بھی ہے۔
اس بار سب سے زیادہ کامیابی اے آئی ایم آئی ایم کو ملی ہے، جس نے پانچ نشستیں جیت کر اپنے روایتی علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھی۔آر جے ڈی کو تین، کانگریس کو دو اور جے ڈی یو کو ایک نشست ملی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ این ڈی اے کے بڑے اتحادیوں میں سے کسی نے بھی مسلم بنیاد پر بڑے پیمانے پر امیدوار کھڑے نہیں کیے۔ بی جے پی نے حسب روایت ایک بھی مسلم امیدوار نہیں دیا جبکہ جے ڈی یو نے صرف چار امیدوار اتارے، جن میں سے ایک کامیاب ہوا۔اے آئی ایم آئی ایم کی سیٹوں میں اضافے کے باوجود مجموعی مسلم نمائندگی کم ہونے کی وجہ ووٹ بینک کے تقسیم ہونے، محدود جغرافیائی اثر اور مہاگٹھ بندھن کی کمزور انتخابی حکمتِ عملی کو قرار دیا جا سکتا ہے۔مہاگٹھ بندھن کی طرف سے اگرچہ 30 مسلم امیدوار میدان میں تھے، لیکن صرف 5 ہی کامیاب ہو سکے۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ ریاست کے اقلیتی علاقوں میں بھی روایتی سیاسی انتخابی فریم ورک ٹوٹ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف آر جے ڈی نے اپنے مضبوط حصوں میں بھی پچھلی قوت برقرار نہ رکھی، وہیں کانگریس نے اپنی روایتی نشستیں محدود پیمانے پر ہی بچائیں۔ووٹنگ پیٹرن یہ بتاتے ہیں کہ نوجوان، پہلا ووٹ دینے والی نسل اور ترقیاتی بیانیہ ایک نیا سیاسی ماحول تشکیل دے رہا ہے جس میں مذہبی شناخت بطور سیاسی عامل کمزور پڑ رہی ہے۔
ایک رائے یہ ہے کہ مسلم نمائندگی میں کمی سیاسی حاشیہ بندی کی طرف اشارہ ہے۔مگر ایک دوسری رائے یہ بھی ہے کہ یہ تبدیلی بہار کی نئی سیاسی حقیقت کی علامت ہے جس میں ذات، برادری یا مذہبی خطوط پر مبنی سیاست کے مقابلے میں کارکردگی، بیانیہ اور بڑے اتحاد زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔این ڈی اے کی شاندار کامیابی نے یہ احساس بھی گہرا کیا ہے کہ اب ووٹروں کی ترجیحات بدل رہی ہیں اور مسلم علاقوں میں بھی انتخابی فیصلے صرف شناخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ترقی، نظم و نسق اور سیاسی استحکام کی بنیاد پر ہو رہے ہیں۔یہ نتائج مسلم قیادت، سیکولر پارٹیوں اور یہاں تک کہ اے آئی ایم آئی ایم کے لیے بھی ایک گہرا سوچنے کا موقع ہیں۔مسلم ووٹ آج تقسیم بھی ہیں اور عدم اطمینان کے ساتھ نئی سمت بھی تلاش کر رہے ہیں۔
پارٹیوں کے لئے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ نمائندگی کو محض ٹکٹ دینے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ مسلم علاقوں میں تعلیم، روزگار، صحت اور امن و قانون جیسے مسائل پر ٹھوس عمل در آمد کا خاکہ پیش کریں۔اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اقلیتوں کی قیادت کو اب جذباتی سیاست کے بجائے پالیسی اور کارکردگی پر مبنی ماڈل اختیار کرنا ہوگا۔بہار کے انتخابات 2025 نے ثابت کر دیا ہے کہ ریاست کی سیاست تیزی سے بدل رہی ہے۔این ڈی اے کی غیر معمولی کامیابی نے نئی ریاستی سمت متعین کر دی ہے، لیکن مسلم نمائندگی میں کمی ایک ایسا موضوع ہے جس کا سنجیدہ تجزیہ ضروری ہے۔یہ کمی کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں، بلکہ سیاسی قیادت کی کمزور حکمتِ عملی، ووٹ بینک کی تقسیم، اور بدلتے ہوئے سیاسی نظریات کے مجموعی اثرات کا حاصل ہے۔آنے والے دنوں میں اس بحث کو صرف سیاست تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس بات پر بھی توجہ دینی ہوگی کہ اقلیتی علاقوں کی ترقی، تعلیم اور روزگار کے امکانات کو کس طرح مضبوط بنایا جائے تاکہ نمائندگی کے توازن کے ساتھ ساتھ ریاست کی ہمہ گیر ترقی بھی یقینی بنائی جا سکے۔
*****

