تاثیر 17 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
ارریہ(رقیہ آفرین)ضلع کے ایک سرکاری اسکول کے پرنسپل پر بیڈ ٹچ کے الزام کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پرنسپل پر، چھٹی اور ساتویں جماعت کی قریب نصف درجن بچیوں نے بیڈ ٹچ کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ پرنسپل انہیں چاکلیٹ، بسکٹ، دہی چوڑا اور اسٹیشنری دینے کے بہانے ان کے کپڑوں میں ہاتھ ڈالتے ہیں۔ سوموار کو جیسے ہی طالبات کے اہل خانہ کو اس کا علم ہوا، وہ لوگ اسکول پہنچ گئے اور ہنگامہ شروع کردئیے۔ اس کے بعد پولیس کو جائے وقوعہ پر بلایا گیا۔ پولیس نے ملزم پرنسپل شمس الہدیٰ عرف معصوم (45) کو حراست میں لے لیا، لیکن ہجوم اتنا پرتشدد تھا کہ اس نے پولیس کی حراست میں ہی پرنسپل پر لاٹھی ڈنڈے سے حملہ کردیا۔ پولیس کو ہجوم پر قابو پانے اور ملزم پرنسپل کو ہجوم سے بچانے کے لیے کافی جدوجہد کرنا پڑی۔ کافی جدوجہد کے بعد، پولیس ملزم پرنسپل کو ہجوم سے بچاتے ہوئے تھانہ لے جانے میں کامیاب ہوئی۔ اس سلسلے میں ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ، “پرنسپل مارچ 2025 میں ہمارے اسکول آئے تھے۔ پہلے 10-20 دن تک، ہم ان کے رویے سے بے خبر تھے۔ آہستہ آہستہ، ہمیں ان کے غلط رویے کا احساس ہوا۔” وہ جب بھی کلاس میں آتے، کسی لڑکی کو بلا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتے۔ پھر وہ اسے نامناسب طریقے سے چھوتے۔ رفتہ رفتہ سب لڑکیوں کو ان باتوں کا احساس ہونے لگا۔ پھر ہم نے اساتذہ کو بتایا، جنہوں نے ہمارے والدین کو معاملے سے آگاہ کیا۔ ایک اور طالبہ نے کہا کہ، “جب ہم اسکول آتے تھے تو پرنسپل کہتے تھے، ‘آپ لوگ جینز اور ٹاپس پہنیں۔ جینز آپ کو اچھی لگتی ہے۔ سنیچر کے دن تمام لڑکیاں جینز اور ٹاپس پہن کر آئیں گی۔’ جب بھی وہ ہمیں اکیلے دیکھتے، ہمیں کلاس میں بلاتے، قلم اور بسکٹ پیش کرتے اور ہمیں چھونے کی کوشش کرتے۔” وہیں اس ضمن میں دریافت کرنے پر پرنسپل شمس الہدی معصوم نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی طلبہ نے کوئی اچھا کام کیا تو میں انہیں چاکلیٹ، بسکٹ اور دیگر انعامات سے ان کی حوصلہ افزائی کرتا، باقی تمام تر الزامات بے بنیاد ہیں۔ وہیں واقعے کے بعد پورے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کیس کی غیر جانبداری سے تفتیش کی جائے اور ملزم کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔ دریں اثنا، پولیس نے کہا کہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے اور تمام الزامات کی تحقیقات کی جائیں گی۔ ہیڈ ماسٹر فی الحال پولیس کی حراست میں ہے۔

