تاثیر 17 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
ریاست کی نئی حکومت کے استقبال کے لئے بہار تیار ہے۔حالیہ انتخابات میں این ڈی اے کو ملی بھاری اکثریت کے بعد اب نظریں نئی حکومت کی تشکیل، وزارتوں کی تقسیم اور آئندہ پانچ برسوں کے سیاسی نظم و نسق پر مرکوز ہیں۔ ہفتہ کی رات مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ، جے ڈی یو قیادت اور بی جے پی کے اعلیٰ نمائندوں کی اہم نشست میں آخرکار وہ فارمولہ طے پا گیا، جسے آنے والی حکومت کی بنیاد کہا جا سکتا ہے، یعنی ہر چھ ایم ایل اے پر ایک وزیر۔
اس فارمولے کے مطابق بی جے پی، جس نے 89 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کے طور پر کامیابی حاصل کی ہے، کو 15 وزارتی عہدے ملیں گے۔ جے ڈی یو کے حصے میں14 وزارتیں آئیں گی۔ جب کہ لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کو3 وزارتیں ملیں گی، اور چھ سے کم نشستیں رکھنے والے دو اتحادی،’ہم‘ اور آر ایل ایم،کو ایک ایک وزارت دی جائے گی۔یہ تقسیم یک طرفہ فیصلہ نہیں، بلکہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ این ڈی اے قیادت بہار میں ایک مستحکم،متوازن اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی حکومت کی تشکیل چاہتاہے۔
نتیش کمار کے 10ویں بار وزیراعلیٰ بننے کے فیصلے پر بھلے ہی کبھی کبھار افواہیں اٹھتی رہی ہوں، لیکن بی جے پی کی مرکزی قیادت کے لئے ان کی انتظامی صلاحیت، ساکھ اور تجربہ ہی اس اتحاد کی کامیابی کی بنیادی ضمانت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ایم نریندر مودی کی رہائش گاہ پر گزشتہ روزمنعقد اجلاس میں اس بات پر مکمل اتفاق ہوا کہ نتیش کمار ہی ریاست کے اگلے وزیراعلیٰ ہوں گے۔اس تسلسل میں کل سوموار کو کابینہ کی آخری میٹنگ منعقد ہوئی اور اس کے بعدنتیش کمار نے گورنرعارف محمد خان کو استعفیٰ نامہ سونپ دیا۔امروز و فردا میں این ڈی اے لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں انہیں متفقہ طور پر قائد منتخب کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ جمعرات یعنی پرسوں گاندھی میدان میں نئی حکومت حلف لے گی، اسی لئے 17 سے 20 تاریخ تک میدان میں عام افراد کے داخلے پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔
این ڈی اے نے اس بار کابینہ میں خواتین کی مضبوط شمولیت کا اشارہ دیا ہے۔ انتخابات میں خواتین نے تاریخ ساز کردار ادا کیاہے۔انھوں نےلاکھوں کی تعداد میں ووٹنگ اور ہر محاذ پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔چنانچہ یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ نئی کابینہ میں کم از کم سات خواتین کو وزارت دی جائے۔ بی جے پی کی جانب سے یہ اشارہ بھی ملا ہے کہ ڈپٹی وزیراعلیٰ کے عہدے پر ایک خاتون کو لایا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف سیاسی توازن بہتر ہوگا، بلکہ خواتین ووٹروں کو واضح پیغام بھی جائے گا کہ ان کی سیاسی آواز کو مکمل اہمیت دی جا رہی ہے۔
جہاں تک وزارتوں کے مخصوص محکموں کی بات ہے، وہاں زیادہ تر وہی طریقۂ کار دہرایا جائے گا، جو گزشتہ دورِ حکومت میں نظر آیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق نتیش کمار داخلہ اور جنرل ایڈمنسٹریشن اپنے پاس ہی رکھیں گے، جب کہ فنانس ایک مرتبہ پھر بی جے پی کے کھاتے میں جائے گا۔باقی اہم محکموں کی تقسیم کے لئے ایک اور نشست متوقع ہے، تاکہ تمام اتحادیوں کو ایڈجسٹ کیا جائے اور کوشش ہو کہ کسی بھی طرح کےاختلاف کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ویسے بی جے پی کی اندرونی سیاست میں ڈپٹی سی ایم کے نام پر مشاورت جاری ہے۔ سابق ڈپٹی سی ایم سمراٹ چودھری پر موجود تنازعات اور انتخابی حلف نامے سے متعلق اعتراضات کے باوجود بی جے پی کے ایک طبقے کا ماننا ہے کہ ان کی حالیہ جیت عوام کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرنے کا اظہار ہے۔تاہم حتمی فیصلہ مرکزی قیادت کرے گی تاکہ کابینہ کی شروعات ہی سے اتحاد مضبوط اور بے داغ نظر آئے۔
این ڈی اے کے لئے یہ انتخاب کئی حوالوں سے فیصلہ کن ہے۔ 2020 کے مقابلے میں اس بار بی جے پی کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے، جب کہ جے ڈی یو کی نشستوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے، جس سے دونوں جماعتوں کے درمیان اعتماد کی نئی فضا قائم ہوئی ہے۔ لوجپا (آر)، ہم اور آر ایل ایم کی شمولیت سے ایک وسیع البنیاد حکمرانی کا ماڈل سامنے آ رہا ہے، جو علاقائی توازن اور مختلف سماجی طبقات کی نمائندگی کو یقینی بنائے گا۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بہار میں زیر تشکیل نئی حکومت کئی اعتبار سے پہلے سے زیادہ مرکوز، متوازن، شراکتی اور پالیسی پر مبنی دکھائی دے رہی ہے۔اب یہاںسوال یہ نہیں کہ حکومت کون بنا رہا ہے،بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکومت بدلے ہوئے سیاسی ماحول، ترقی کے دباؤ، بڑھتی عوامی توقعات اور بہتر حکمرانی کی ضرورتوں پر پورا اتر سکے گی؟ مانا جا رہا ہے کہ اگر نتیش کمار کی تجربہ کاری، بی جے پی کا طاقتور کیڈر اور اتحادیوں کی متحرک شمولیت یکجا ہو جاتی ہے تو یہ دور بہار کےلئے ایک نئے استحکام اور مستقل ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہی نئی حکومت کا سب سے بڑا امتحان بھی ہوگا اور سب سے بڑی امید بھی۔
******************

