تاثیر 18 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ(فضاامام):-مدارس و مکاتب کو بند کرنے کی جس طرح منصوبہ بند سازشیں ہورہی ہیں ایسے میں انتہائی ضروری ہے کہ ان مدارس و مکاتب کے تحفظ کی فکر کی جائے یہ باتیں گزشتہ روز مدرسہ فلاح المسلمین کنور دربھنگہ میں منعقد تکمیل قرآن کے موقع پر منعقد پروگرام میں مفتی ارشد علی رحمانی قاضی شریعت دار القضاء امارت شرعیہ مہدولی دربھنگہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہیں، موصوف نے کہا کہ دوسرے مذاہب کے اداروں میں ان مذاہب کے ماننے والے اپنی کمائی کا دس فیصد پانچ فیصد حصہ جمع کرتے ہیں، ہمیں بھی اپنے تعلیمی اداروں کے لئے اپنی کمائی کا کچھ حصہ ضرور دینا چاہیے، موصوف نے کہا کہ علماء وحفاظ قرآن کو سیکھنے اور سکھانے والے امت کے بہترین افراد ہیں ہم لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ ان علماء و حفاظ کی قدر کریں ان کے مقام ومرتبہ کا خیال رکھیں اپنے معاملات میں ان سے مشورہ کریں اور ان کی رہنمائی میں کام کریں، موصوف نے کہا کہ آج سماج میں لوگ علماء وحفاظ کو حقیر نگاہ سے دیکھتے ہیں یہ انتہائی تشویشناک بات ہے، ہمیں اس سے پرہیز کرنا چاہیے، موصوف نے حفظ قرآن کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ قابل مبارکباد ہے وہ سینہ جس کو اللّٰہ نے حفظ قرآن کے لئے منتخب کیا اور اپنے ناموں میں سے ایک نام حافظ عطا کیا، اسی طرح خوش نصیب ہیں ان کے والدین جنہیں رب کائنات کی بارگاہ میں عزوشرف عطا کیا جائے گا ۔اس پروگرام میں مولانا محمد منظر عالم نعمانی، مدرسہ کے صدر سرفراز احمد مولانا امیرالحق ندیم احمد ڈاکٹر مبشر حسن مولانا نیازاحمد پپو بھائی حاجی محمد ارشاد محمد گلاب محمد نسیم مدرسہ ھذا کے اساتذہ و طلبہ کےعلاوہ بڑی تعداد میں لوگوں نےشرکت کی، قاضی شریعت کی دعا پر پروگرام ختم ہوا۔

