! درد ،جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں

تاثیر 18 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

مدینہ منورہ کے قریب سوموار 17 نومبر کو ایک اندوہناک سڑک حادثہ پیش آیا۔اس میں کم از کم 42 عاز مین ِ عمرہ جاں بحق ہوگئے۔ حادثے کے شکار تمام افراد کا تعلق حیدرآباد سے تھا۔مگر اس حادثے نے نہ صرف حیدرآباد اور بھارت بلکہ پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا ہے۔ مکّہ مکرمہ میں عمرہ کی تکمیل کے بعد یہ کارواں مسجد نبویﷺ میں سجدہ ریز ہوجانے کے مقدس ارادے کے ساتھ بذریعہ بس جا رہا تھا ۔دلوں میںنہ جانے کتنے خواب، کتنی امیدیں اور کتنی خوشیاں موجزن رہی ہونگی۔ تھوڑی دیر میں بس مدینہ منورہ پہنچنے ہی والی تھی کہ ایک ڈیزل ٹینکر سے ٹکر کے بعد چند لمحوں میں پوری بس آگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں تبدیل ہو گئی۔ساتھ ہی وہ درجنوں گھروں کی زندگی کو کچھ اتنے گہرے زخم دے گئی، جن کا بھرنا شاید اب کبھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔اس طرح کے المناک حادثے سے ملی محرومیوں کا بوجھ دل و دماغ سے کبھی نہیں اتر پاتا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 18 مرد، 18 خواتین اور 10 بچے شامل تھے۔ ایک ہی خاندان کے 18 افراد،جن میں نو بچے بھی شامل تھے،کا ایک ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو جانا ایک اجتماعی بپتا نہیں تو اور کیا ہے !
عازمین ِعمرہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے والے اہلِ خانہ اچانک اس وقت سکتے میں آگئے، جب رات تقریباً ڈیڑھ بجے سے ان کے عزیزوں کا فون بند ہو گیا۔کچھ دیر پہلے تک، جب وہ ایک دوسرے کے رابطے میں تھے، تب انھیں کیا معلوم تھا کہ کچھ ہی منٹ بعد ان کا پورا خاندان جلتی ہوئی بس میں محصور ہوجائےگا اور صبح ہوتے ہوتے ان کا گلشن تاراج ہو چکا ہو گا۔ واحد زندہ بچنے والے محمد عبدالشعیب کا بیان، جو اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں، مزید درد میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ ڈرائیور کے برابر والی سیٹ پر بیٹھے تھے اور اسی وجہ سے کسی طرح شعلوں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔پی ایم نریندر مودی نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے لواحقین سے اظہار تعزیت اورزخمیوں کی شفایابی کےلئے دعا کی ہے اور یقین دلایا ہےکہ بھارتی سفارت خانہ اور قونصل خانہ متاثرین کے اہل خانہ کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں۔ ریاض اور جدہ میں کنٹرول روم قائم کر کے ہیلپ لائن جاری کر دی گئی ہے، جب کہ سعودی حکام سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ شناخت، قانونی کارروائی اور میتوں کی منتقلی کے کام میں تیزی لائی جا سکے۔
مگر اس سانحے کے ساتھ کئی اہم سوال بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ڈیزل ٹینکر سے ٹکر کے فوراََبعد بس میں اتنی تیزی سے آگ کیوں بھڑکی؟ کیا بس میں ایمرجنسی راستے کھلے اور قابلِ استعمال تھے؟ کیا آگ بجھانے والے آلات موجود تھے؟ کیا ڈرائیور تربیت یافتہ تھا؟ اور کیا یہ حادثہ محض ایک بدقسمتی تھی یا پھر عمرہ زائرین کی آمد و رفت کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے ٹرانسپورٹ کے نظم و ضبط کو کمزور کر رکھا ہے؟ یہ سوال محض برائے سوال نہیں ہیں، ان کا جواب دینا ناگزیر ہے، کیونکہ یہ سانحہ ان واقعات کی فہرست میں ایک اور سیاہ اضافہ ہے ،جنھوںنے بارہا سعودی ٹرانسپورٹ نظام کی کمزوریوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔
حادثے کے بعد لاشوں کی شناخت میں جو مشکلات پیش آ رہی ہیں، وہ لواحقین کے کرب کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ کئی لاشیںاس حد تک جھلس چکی ہیں کہ شناخت کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ ایسے وقت میں متاثرہ خاندانوں کی تکلیف کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، جو اپنے عزیزوں کے آخری دیدار کے لئے بھی ترس رہے ہیں۔ حیدرآباد کے آصف نگر، مشیر آباد، کالاپتھر، لنگر ہاؤس، ملک پیٹ اور دیگر علاقوں میں ایک ہی رات میں ماتم کی فضا چھا گئی۔ درجنوں گھروں کے دروازے اب کبھی ویسے نہیں کھلیں گے جیسے چند دنوں پہلے تک کھلا کرتے تھے۔ جن بچوں نے پہلی بار مسجد نبوی ﷺ کی زیارت کی خوشی محسوس کی، وہی بچے انہی راستوں پر زندگی کی بازی ہار گئے۔
یہ سانحہ ہمیں اس تلخ حقیقت سے دوچار کرتا ہے کہ زائرین کے سفر میں درپیش خطرات کو عموماََ کم سمجھ لیا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سعودی حکام ٹرانسپورٹ سسٹم، بسوں کی مینٹیننس، ڈرائیونگ اسٹینڈرڈز، ایمرجنسی آلات کی دستیابی اور نگرانی کے نظام میں فوری اصلاحات کریں۔بھارتی حکومت کو بھی اسے اعلیٰ سفارتی سطح پر اٹھانا چاہئے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے سانحات کی روک تھام کی جاسکے اور زائرین کے سفر کو حقیقی معنوں میں محفوظ بنایا جاسکے۔مدینہ منورہ کا یہ اندوہناک واقعہ ایک مرتبہ پھر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی زندگی کتنی نازک ہے، اور کتنی معمولی بے احتیاطی پوری نسلیں اجاڑ سکتی ہے۔ ہم جاں بحق ہونے والے تمام زائرین کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں، زخمی محمد عبدالشعیب کے لئے سلامتی اور صحت کی دعا کرتے ہیں، اور متاثرہ خاندانوں کے لئے بارگاہ ایزدی میں صبرِ جمیل کی التجا کرتے ہیں۔ یہ غم کسی ایک شہر یا خاندان کا نہیں، پوری قوم کا مشترکہ درد ہے،ایک ایسا درد جسے لفظوں میں بیان کرنا بالکل ممکن نہیں ہے۔
***********