تاثیر 18 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
تل ابیب،18نومبر:اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کو ہونے والی جھڑپوں اور ایک اور حملے کے بعد اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے درمیان پرتشدد مگر “مٹھی بھر انتہا پسندوں” سے نمٹیں گے۔سکیورٹی فورسز نے آبادکاروں کی ایک غیر قانونی چوکی ختم کر دی جس کے نتیجے میں نام نہاد ہل ٹاپ یوتھ موومنٹ کے ارکان کی فوجیوں سے جھڑپ ہوئی۔ اس کے چند گھنٹے بعد پیر کی شام ایک فلسطینی گاؤں میں گھر اور گاڑیاں نذرِ آتش اور ہنگامہ آرائی کی گئی۔
حالیہ ہفتوں میں مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں بالخصوص چوکیوں میں رہنے والوں سے منسوب حملے کئی گنا بڑھ گئے ہیں جو فلسطینیوں اور بعض اوقات اسرائیلی فوجیوں تک کو نشانہ بناتے ہیں۔نیتن یاہو نے کہا، “میں پرتشدد فسادات اور مٹھی بھر انتہا پسندوں کی طرف سے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کو بہت شدت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔” انہوں نے مجرموں کو فلسطینی سرزمین میں اسرائیلی آبادکاروں ‘کی نمائندگی نہ کرنے والا گروہ’ قرار دیا۔انہوں نے ایک بیان میں کہا، “میں قانون نافذ کرنے والے حکام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ قانون کی مکمل حد تک فسادیوں سے نمٹیں۔ میں ذاتی طور پر اس معاملے سے نمٹنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور یہ سنگین مسئلہ حل کرنے کے لیے جلد از جلد متعلقہ وزراء کو طلب کروں گا۔نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج اور سکیورٹی فورسز امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مضبوطی سے کام جاری رکھیں گی۔فلسطینی قصبے سعیر کے قریب گش اتزیون کے علاقے میں واقع Tzur Misgavi کی غیر قانونی اسرائیلی آبادکار چوکی کو خالی اور مسمار کرنے کے لیے پیر کی صبح اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ارکان سینکڑوں کی تعداد میں تعینات تھے۔انہوں نے جھڑپ کے دوران انتہا پسند آبادکاروں پر آنسو گیس اور منتشر کرنے والے دستی بموں کا استعمال کیا جن کا مقصد فلسطینی باشندوں کو بے دخل کرنا اور مغربی کنارے میں حکومت کی منظوری کے بغیر بستیاں قائم کرنا ہے۔

