تاثیر 23 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو بھارت میں پناہ دینا محض ایک رسمی سیاسی قدم نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے سفارتی ماحول کی گہری جھلک ہے۔ دہلی نے یہ فیصلہ برسوں کی قربت، باہمی اعتماد اور اس اصول کے تحت کیا کہ ’’مشکل گھڑی میں دوست کا ساتھ نہیں چھوڑا جاتا‘‘۔ لیکن یہی فیصلہ اب بھارت کے لئے ایک نازک سفارتی مرحلہ بن گیا ہے، جہاں انسانی ہمدردی، علاقائی مفادات اور داخلی سیاست کے تقاضے ایک دوسرے سے پیچیدہ طور پر جڑتے دکھائی دیتے ہیں۔
شیخ حسینہ کے طویل دورِ اقتدار میں بھارت۔بنگلہ دیش تعلقات نے توانائی، تجارت، ٹرانزٹ اور سیکیورٹی کے شعبوں میں غیر معمولی پیش رفت کی۔ چین کے بڑھتے اثر کے مقابل بھارت کو وہ حکمتِ عملی کی گنجائش ملی جو خطے میں کسی اور ہمسایہ سے ممکن نہ تھی۔ اسی لیے حسینہ بھارت کے لئے نہایت اہم شراکت دار سمجھی جاتی رہیں۔مگر 2024 کے عوامی احتجاج، سیاسی بحران اور خصوصی ٹریبونل کی جانب سے ’’انسانیت کے خلاف جرائم‘‘ کی سزا نے پوری صورتِ حال بدل دی ۔ حسینہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئیں اور عبوری حکومت،جسے محمد یونس کی قیادت حاصل ہے،نے اقتدار میں آتے ہی خارجہ پالیسی کے نئے رخ کا عندیہ دے دیا۔ اس دوران بنگلہ دیش نے بھارت سے ان کی حوالگی کی درخواست کی، جسے دہلی نے رد کر کے ایک واضح سیاسی و اخلاقی موقف اختیار کیا ۔
یہ وہ مقام ہے، جہاں سفارتی اصول اور قومی مفادات ایک دوسرے کے مقابل آتے ہیں۔ بھارت جانتا ہے کہ حسینہ کی حوالگی نہ قانونی طور پر ممکن ہے، نہ اخلاقی طور پر قابل قبول۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ عبوری حکومت کی ’’ڈی انڈینائزیشن‘‘ پالیسی خطے میں نئی صف بندی کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں چین، پاکستان اور ترکی کے ساتھ بڑھتا جھکاؤ مستقبل میں بھارت کے لئے چیلنج بن سکتا ہے۔
دونوں ممالک کی 13 ارب ڈالر سے زائد تجارت، 4,096 کلومیٹر سرحد، مشترکہ دریا، توانائی کی ترسیل اور ٹرانزٹ رسائی ایک ایسا رشتہ بناتے ہیں، جو صرف سیاسی تبدیلیوں سے نہیں ٹوٹتا۔ اسی لئے ماہرین سمجھتے ہیں کہ وقتی سردمہری ممکن ہے، مگر بنیادی معاشی و سماجی روابط کمزور نہیں پڑتے۔عبوری حکومت کے حالیہ اقدامات،توانائی معاہدوں پر نظرثانی، رابطہ منصوبوں میں سست روی، عدالتی تعاون کی معطلی،یہ واضح کرتے ہیں کہ ڈھاکہ ایک نئے خارجہ رخ کی تلاش میں ہے۔ عوامی رجحان بھی اسی طرف جھکتا دکھائی دیتا ہے۔ایک حالیہ سروے کے مطابق 75 فیصد بنگلہ دیشی چین کے ساتھ گہرے تعلقات کے حامی ہیں، جبکہ بھارت کے حق میں صرف 11 فیصد رائے سامنے آئی ہے۔ بلا شبہہ یہ اعداد و شمار بھارت کے لئے سفارتی انتباہ ہیں۔
ایسے ماحول میں دہلی کے لئے جذباتی ردعمل کے بجائے خاموش اور ثابت قدم سفارت کاری زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہے۔ بھارت کے سامنے اصل چیلنج صرف حسینہ کی حفاظت نہیں بلکہ بنگلہ دیش میں ممکنہ عدم استحکام کے اثرات کو کم کرنا ہے،چاہے وہ بھارت مخالف بیانیے کی صورت میں ہوں، سرحد پار سرگرمیوں میں اضافہ یا شمال مشرقی خطے پر سیکیورٹی دباؤ کی صورت میں۔یہی وجہ ہے کہ ماہرین بھارت کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بنگلہ دیش کی فوج، بیوروکریسی اور اہم اداروں سے مسلسل رابطہ برقرار رکھے اور آئندہ انتخابات کے نتائج پر خاص نظر رکھے۔ اگر ایک مستحکم حکومت سامنے آئی تو دونوں ممالک کے تعلقات کو ازسرِنو مثبت سمت دی جا سکتی ہے۔اس تمام صورتحال کے باوجود کچھ بنیادی سوالات اپنی جگہ برقرارہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ کیا بھارت نے حسینہ پر حد سے زیادہ انحصار کر کے اپنی سفارتی لچک کم کر دی تھی؟ کیا نئی ڈھاکہ حکومت اس بحران کو بھارت مخالف سیاست کے ایندھن کے طور پر استعمال کرے گی؟ اور کیا دہلی وسیع تر علاقائی مفادات کو محفوظ رکھتے ہوئے ایک متوازن حکمتِ عملی جاری رکھ سکے گا؟
ظاہر ہے ،بھارت کے لئے بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ اصولی موقف، تحمل اور طویل المدت سفارتی سوچ کو بنیاد بنائے۔ دوست کی مشکل گھڑی میں اخلاقی ذمہ داری نبھانا بھی ضروری ہے اور خطے کے استحکام، ترقی اور باہمی مفادات کو قائم رکھنا بھی۔ یہی وہ حکمتِ عملی ہے جو بھارت اور بنگلہ دیش دونوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔
****

