بہار کی نئی حکومت اور اس کا مزاج

تاثیر 25 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار میں نئی حکومت کے قیام نے ریاست کے سیاسی منظرنامے میں ہلچل سی پیدا کر دی ہے۔ بظاہر یہ وہی چہرے ہیں، جو گزشتہ دو دہائیوں سے ریاست کی سیاست میں فعال رہے ہیں، مگر اس بار اقتدار کی میز پر توازن تھوڑا بدل چکا ہے۔ دسویں مرتبہ وزیرِ اعلیٰ کی کرسی سنبھالنے والے نتیش کمار کے لئے یہ دورانیہ پہلے سے مختلف ہے۔سب سے بڑی تبدیلی کابینہ کی ساخت میں دکھائی دیتی ہے۔ 26 رکنی نئی کابینہ میں 14 وزرا، بی جے پی کے اور صرف 8 جے ڈی یو کے شامل کیے گئے ہیں۔ اس عددی فرق نے واضح پیغام دیا ہے کہ ’’بڑے بھائی‘‘ کی حیثیت اب جے ڈی یو کے پاس نہیں رہی۔ 2020 تک جس جماعت کو این ڈی اے میں فیصلہ ساز قوت سمجھا جاتا تھا، وہ 2025 کے انتخابات کے بعد برابری کی بنیاد پر میدان میں اتری اور نتیجہ یہ ہوا کہ بی جے پی 89 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، جب کہ جے ڈی یو 85 پر محدود ہوگئی ہے۔اور یہی سیاسی کمزوری اب حکومت کے اختیارات کی تقسیم میں بھی جھلکتی ہے۔
تاریخی طور پر بہار میں محکمہ داخلہ ہمیشہ وزیرِ اعلیٰ کے پاس رہا ہے۔ صرف دو مواقع،1967 اور1970 ایسے گزرے، جب یہ محکمہ کسی اور کے سپرد کیا گیا۔ مگر اس بار یہ انتہائی حساس اختیار ، جے پی کے ڈپٹی سی ایم سمراٹ چودھری کو دیا گیا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف سیاسی مبصرین کو چونکا دیا ہےبلکہ نئی حکومت کے طرزِ حکمرانی کے بارے میں بھی کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔کانگریس کے رہنما ابھشیک منو سنگھوی نے اسے ’’بی جے پی کی حکومت‘‘ قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ نتیش کمار کے اس ’’آخری دور‘‘ میں جے ڈی یو کا وجود مزید محدود ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کا جواب سادہ ہے،’’قانون کا راج‘‘ ہماری ترجیح ہے، اور یہ محکمہ پورے اعتماد کے ساتھ ہمیں سونپا گیا ہے۔تاہم انتظامی ڈھانچے کی حقیقت کچھ اور تصویر پیش کرتی ہے۔بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بہار میں اصل کنٹرول اب بھی وزیرِ اعلیٰ کے پاس ہے کیونکہ ضلع انتظامیہ، پوسٹنگ اور تبادلوں جیسے کلیدی اختیارات ان کے دائرے میں ہی آتے ہیں۔یعنی محکمہ داخلہ کا منتقل ہونا علامتی تبدیلی ضرور ہے، مگر عملی طور پر مکمل اختیارنتیش کمار کے پاس ہے۔ اس کے باوجو د ، بی جے پی کے جارحانہ سیاسی مزاج کے مد نظر یہ خدشہ برقرارہے کہ آنے والے وقت میں ’’بلڈوزر ماڈل‘‘ کی جھلکیاں بہار میں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عددی لحاظ سے کمزور ہونے کے باوجود جے ڈی یو نے بجٹ کے اعتبار سے طاقتور محکمے اپنے پاس رکھ لئے ہیں۔ تعلیم، دیہی ترقی، توانائی اور تجارت جیسے بڑے بجٹ والے محکمے جے ڈی یو کے پاس ہیں، جب کہ صحت اور شہری ترقی کے محکمے بی جے پی کے حصے میںگئے ہیں۔ظاہر ہے، اس صورتحال نے حکومت میں ایک نیا پاور اسٹرکچر قائم کیا ہے،بی جے پی کے پاس سیکیورٹی اور نظم و نسق کا کنٹرول ہے، جبکہ جے ڈی یو ’’ترقیاتی چابی‘‘ اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہے۔ گویا اقتدار کی گاڑی کے دو ڈرائیور ہیں، مگر اسٹیئرنگ کس کے ہاتھ میں ہے، ابھی یہ کھل کر سامنے نہیں آ سکا ہے۔
اسی تناظر میں اسمبلی اسپیکر کے عہدے پر جاری کشمکش غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ اسپیکر کی کرسی کسی بھی مخلوط حکومت کے لیے ’’سیکیورٹی شیلڈ‘‘ سمجھی جاتی ہے،خصوصاً جب سیاسی اتحاد مستقل مزاج نہ ہو اور وفاداریاں لمحوں میں بدلتی ہوں۔ بہار کی سیاست کا فارمولا ہمیشہ یہی رہا ہے کہ کوئی بھی فیصلہ حتمی نہیں ہوتا، اور مفادات کے بدلتے موسم میں سب سے مضبوط ہتھیار وہی ہوتا ہے جو کل کو حکومت بچا بھی سکے اور گرا بھی سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار جے ڈی یو اسپیکر شپ کے حصول کے لئے پوری سنجیدگی سے میدان میں ہے۔
اصل سوال اب یہ نہیں کہ نتیش کمار نے وزارتِ اعلیٰ کی کرسی کتنی بار سنبھالی ہے، بلکہ یہ ہے کہ موجودہ ترتیب میں فیصلہ سازی کی اصل باگ ڈور کس کے پاس ہوگی۔ نئی حکومت نے انھیں ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں اتحادی دباؤ اور اپنی جماعت کے محدود ہوتے سیاسی اثر، دونوں کا سامنا ان کو یکساں طور پر کرنا ہوگا۔ اگر آنے والے مہینوں میں بی جے پی اپنی عددی اور انتظامی قوت مزید منظم کرتی ہے تو جے ڈی یو کو اپنی شناخت اور سیاسی بقا کے لئے نئی حکمتِ عملی اختیار کرنا پڑ سکتی ہے۔
بہار کی سیاست عموماََ غیر متوقع موڑ لینے کے لئے مشہور ہے۔ اس بار بھی منظرنامہ یہی بتا رہا ہے کہ کردار وہی سہی مگر اسٹیج بدل چکا ہے، کھیل کے اصول میں تبدیلی آ چکی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اشتراک واقعی مشترکہ حکمرانی ثابت ہوتا ہے یا آہستہ آہستہ اختیارات کے یکطرفہ ارتکاز کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ظاہر ہے، اسی کے ساتھ یہ بھی طے ہوگا کہ نتیش کمار آنے والے دور میں مرکزی کردار میں رہیں گے یا تاریخ انھیں صرف عبوری مراحل کے نگراں کے طور پر یاد رکھے گی۔
*******