
قلمکار:محترمہ انّ پورنا دیوی، وزیر برائے خواتین واطفال کی بہبود، حکومت ہند
جب خواتین ترقی کرتی ہیں، تو ملک کا عروج ہوتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جس کی جڑیں مساوات اور انصاف پر مبنی اصولوں میں پیوست ہیں وہاں خواتین کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔حکومت ہند نے، وزیراعظم جناب نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت میں، اس یقین کو مشن شکتی کے ذریعے عملی شکل دی ہے- جو خواتین کے تحفظ، سلامتی اور بااختیار بنانے کے لیے ہمارا ایک جامع پروگرام ہے۔ جیسا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے کہا،‘‘ہماری حکومت خواتین کے لیے‘ سمان’ اور ‘ سویدھا’ کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے۔’یہ رہنما اصول محض جذبات نہیں ہیں –بلکہ یہ وہ بنیاد ہیں جس پر مودی حکومت نے ہندوستان کے ہر گوشے میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی اقدامات قائم کیے ہیں۔
اس کے مرکز میں ون اسٹاپ سینٹرز(او ایس سی)، جو مشن شکتی کے ذیلی اسکیم‘‘ سنبل ’’کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔ 2015 میں شروع کیے گئے یہ مراکز خواتین پر ہونے والے تشدد کے خلاف مربوط جواب دینے کا نظام فراہم کرتے ہیں، تاکہ خواتین خاموش رہ کر کچھ بھی برداشت نہ کریں یا مدد کے لیے انہیں در-در بھٹکنا نہ پڑے۔ اب تک، ہندوستان بھر میں862او ایس سی فعال ہیں،جہاں 12.20 لاکھ سے زائد خواتین کوقانونی مدد، طبی امداد، پولیس کی معاونت، پناہ اور نفسیاتی مشاورت جیسی جامع خدمات ایک ہی چھت کے نیچے فراہم کی جارہی ہیں۔
خوف سے آزادی تک ، خاموشی سے مدد تک-او ایس سی وہ جگہیں ہیں جہاں خواتین کے مسائل کے حل کی ابتدا ہوتی ہے۔ یہ مراکز حکمرانی میں ردعمل سے فعال نقطۂ نظر کی جانب تبدیلی کی علامت ہیں۔ خواہ خواتین کو گھر میں، کام کی جگہ یا عوامی مقامات پر تشدد کا سامنا ہو، او ایس سی،مودی حکومت کے اس عزم کی علامت ہیں جس کے ذریعے خواتین کی بحالی، عزت اور انصاف کو یقینی بنایا جاسکے۔اہم بات یہ ہے کہ یہ مراکز اسپتالوں کے اندر یا ان کے قریب واقع ہیں تاکہ فوری طبی امداد تک رسائی حاصل ہو سکے-جو بحران کے ردعمل میں پہلا اہم قدم ہے۔ اسی طرح، ویمن ہیلپ لائن (181) کی آفاقیت بھی اتنی ہی اہم ہے، جو پریشانی میں مبتلا خواتین کو او ایس سی کے ساتھ مل کر 24گھنٹے، پورے ہفتے مدد فراہم کرتی ہیں۔ یہ ہیلپ لائن 35 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں فعال ہے اور اس کو اب تک2.56 کروڑ سے زائد کالز موصول ہوچکی ہیں اور93.48 لاکھ سے زائد خواتین کو (30 ستمبر تک)مدد فراہم کی جا چکی ہے۔ ایمرجنسی ریسپانس سپورٹ سسٹم(ای آر ایس ایس- 112) کے ساتھ مربوط یہ ہیلپ لائن، پریشانی اور راحت کے درمیان رابطے کا کام کرتی ہے۔
اس نظام کی جوابدہی کو مضبوط بنانے اور انصاف کو تیز رفتار بنانے کے لیے، ہم نے 745 فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس قائم کئے ہیں، جن میں سے 404 خصوصی پاکسو عدالتیں بھی شامل ہیں۔ اب تک یہ عدالتیں 3.06 لاکھ سے زائد مقدمات کا فیصلہ کر چکی ہیں، اس بات کو یقینی بنا یا جاسکے کہ انصاف میں تاخیر ، انصاف سے محرومی نہ بنے۔ہر سنائی گئی سزا، ہر حق کی بحالی -یہ سب انصاف اور صنفی برابری کی طرف بڑھتے قدم ہیں۔ انصاف کی فراہمی اب طویل قانونی کارروائیوں کی پابندی سے محدود نہیں رہی اور ہر متاثرہ خاتون ایک طے وقت میں مقدمات کے تصفیے کی توقع کر سکتی ہے۔
اسی دوران، ہم پولیس تھانوں میں 14,658 ویمن ہیلپ ڈیسک (ڈبلیو ایس ڈی )کے ذریعے زمینی سطح تک تقویت دے رہے ہیں، جن میں سے 13,700 سے زیادہ کی قیادت خواتین کے ہاتھوں میں ہیں۔ یہ ڈیسک صنفی حساسیت کے بارے میں تربیت یافتہ عملے کی مدد سے متاثرہ خواتین میں جرم کو درج کرانے کا اعتماد پیدا کرتے ہیں۔خواتین افسران کی موجودگی نہ صرف اعتماد پیدا کرتی ہے بلکہ ادارہ جاتی حساسیت اور جوابدہی کو بھی مضبوط بناتی ہے۔
ہم انسانی اسمگلنگ کے خلاف بھی اقدامات کر رہے ہیں، جس کے لیے 807 فعال اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹس(اے ایچ ٹی یو)قائم کی گئی ہیں اور نربھیا فنڈ کے تحت ریلوے اور سڑکوں کی ٹرانسپورٹ سروسز میں ایمرجنسی نگرانی کے نظام نصب کر کے خواتین کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات خواتین کے محفوظ نقل وحمل ، بلا خوف کام کرنے اور ہر عوامی و نجی شعبے میں ترقی کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
یہ مربوط نقطۂ نظر صرف ردعمل تک محدود نہیں بلکہ روک تھام، بحالی، اور بااختیار بنانے تک پھیلا ہوا ہے۔ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ (بی بی بی پی ) جیسی پہل کے ذریعے، ہم ذہنیت میں تبدیلی لا رہے ہیں ،عزت، برابری اور مواقع کے اصول سکھا رہے ہیں۔ پی ایم ایم وی وائی اور سکھی نیواس کے ذریعے، ہم ایسے نظام قائم کر رہے ہیں جو خواتین کو صرف متاثرہ افراد کے طور پر نہیں بلکہ قوم کی ترقی میں شراکت دار کے طور پر اہمیت دیتے ہیں۔ہمارے سکھی نیواس ہاسٹل26,000 سے زائد کام کرنے والی خواتین کو محفوظ اور مناسب رہائش فراہم کر رہی ہیں-ان میں سے بہت سی شہری اور نیم شہری علاقوں میں واقع ہیں،جس سے وہ بلا خوف اپنے خوابوں کی تکمیل کر سکتی ہیں۔
مشن شکتی کے تحت ہماری حکمت عملی ہم آہنگی، تعاون، اور کمیونٹی کی ملکیت پر مبنی ہے سنکلپ: خواتین کو بااختیار بنانے کے مراکزکو متعارف کرکے ہم نے مقامی سطح پر ایک اسٹریٹجک سطح شامل کی ہے، جو خواتین کو ایک ہی پلیٹ فارم کے ذریعے متعدد اسکیموں تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ اب تک27 لاکھ سے زائد خواتین ان مراکز سے مستفید ہو چکی ہیں، جو مقامی سطح پر بااختیاربنانے اور ہم آہنگی کے مراکز کے طور پر کام کرتے ہیں۔خواتین کے خلاف تشدد صرف خواتین کا مسئلہ نہیں، بلکہ قومی تشویش ہے۔ ہر قائم کیا گیا او ایس سی، ہر جواب دی گئی ہیلپ لائن، اور ہر حل کیا گیا کیس وزارت خواتین و اطفال کی بہبود کی اجتماعی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایسے ہندوستان کی کرنا چاہتی ہے جہاں ہر عورت عزت، حفاظت، اور فخر کے ساتھ زندگی گزارے۔
جب ہم امرت کال میں قدم رکھ رہے ہیں – جو ہندوستان کی ترقی اور تبدیلی کاسنہری دور ہے -خواتین کو بااختیار بنانا صرف ایک ہدف نہیں بلکہ ایک قومی مشن ہے۔2047تک وکست بھارت کا وژن اس وقت تک نامکمل ہے جب تک اس کے مرکز میں خواتین کو بااختیار بنانے کا نقطہ نظر شامل نہ ہو۔
ناری شکتی محض نعرہ نہیں، بلکہ ہماری حکمت عملی، ہماری طاقت، اور ہمارا مستقبل ہے۔ خواتین وکسِت بھارت میں خواتین – دیکھ بھال کرنے والے، تبدیلی لانے والے، کاروباری اور قائدین کی طرح ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہیں عزت، حفاظت اور مواقع فراہم کرنے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا۔
ایک وقت میں ایک بااختیار خاتون ، ایک وقت میں ایک محفوظ جگہ کے ساتھ ہمارا سفر جاری ہے اور ہر قدم کے ساتھ ہم ایک مضبوط ، محفوظ اور زیادہ جامع ہندوستان کی تعمیر کر رہے ہیں ۔

