انڈیگو کا بحران: ہوائی اڈوں پر بدنظمی، مسافر بے سہارا — ڈاکٹر مختار احمد فردین بھی سفر میں شدید پریشانی کا شکار فلاءیٹ چیک ان کے بعد بورڈنگ بند کرنا،اور ری شیڈول ٹکٹ آسمان چھوتا من مانی/ایم اے فردین مشکل میں

تاثیر 6 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

خصوصی رپورٹ انڈیگو فلاءیٹ کی من مانی اور مشکلات ایر پورٹ پر کویی پرسان حال نہیں ، ٹکٹ کی آسمان چھوتا، فلاءیٹ بغیر اطلاع کینسل، پسنجر کس مشکل گھڑی سے گذرتا ہے کسی کو احساس تک نہیں اور 2/دسمبر کا بہت خراب دن پریشانیوں سے بھرا دن کبھی ہوتا ہے اور اس کا شکار ہم بھی ہویے ہیں اور منسٹری کی جانب سے کویی بیان نہیں ، پسنجر اور نہ ہی کویی انتظام میں جسطرح سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ مثال بتا نہیں سکتے مگر حکومت کی ذمداری، اسپر شکاءیتں کس سے کی چاءیے

گزشتہ دنوں ڈاکٹر مختار احمد فردین نے حیدرآباد سے کلکتہ کا سفر کیا، لیکن انڈیگو ایئرلائنز کی بدنظمی اور cکسٹمر سروس کی نااہلی کے باعث انہیں بھی دیگر ہزاروں مسافروں کی طرح شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کسٹمرز کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا، نہ درست معلومات، نہ رہنمائی — ہر طرف بے ترتیبی ہی بے ترتیبی دکھائی دی۔

یہ ویڈیوز کسی ریلوے اسٹیشن یا بس اسٹینڈ کی نہیں، بلکہ بھارت کے ہوائی اڈوں کی تصاویر ہیں، جن میں انڈیگو ایئرلائنز کے بحران نے بھاری بدنظمی پیدا کر دی ہے۔ انڈیگو نے ایک ہی دن میں اپنی بیشتر پروازیں منسوخ کر دیں، اور پچھلے تین دنوں میں 1300 سے زائد فلائٹس منسوخ ہو چکی ہیں۔ ملک کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں مسافر شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہیں۔

دہلی ہو یا ممبئی، چنئی ہو یا بنگلورو — پورے ملک کے ہوائی اڈوں پر تباہی کا منظر ہے۔
خواتین، بچے، بزرگ — سب پریشان و بے بس۔ یہاں تک کہ ایک باپ اپنی بیٹی کے لیے بنیادی ضرورت جیسے سینیٹری پیڈ تک کے لیے تڑپتا نظر آیا۔
نہ کوئی جواب دہی، نہ کوئی ذمہ داری، نہ کوئی فوری مدد۔

اس ابتری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر ایئرلائنز نے کرایوں میں تین گنا اضافہ کر دیا ہے۔ دہلی سے ممبئی تک کے ٹکٹ پچاس ہزار سے اوپر وصول کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی حلقوں میں یہ سوالات ایک بار پھر اٹھ کھڑا ہوئے ہیں کہ یہ بحران اچانک کیسے بڑھ گیا؟
حکومت کی پالیسیوں پر بھی شدید تنقید سامنے آ رہی ہے کہ چند سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں سارا کنٹرول دے دینے کے نتائج عوام بھگت رہے ہیں۔
راہول گاندھی نے کئی سالوں سے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ حکومت چند امیر طبقوں کے زیرِ اثر ہو چکی ہے، جس کا خمیازہ غریب عوام بھگت رہے ہیں۔ ہر شعبہ میں مقابلہ ختم ہوتا جا رہا ہے اور چند کمپنیاں من مانی کر رہی ہیں۔

اہم سوال یہ ہے کہ:
ملک کی سول ایوی ایشن وزارت کہاں ہے؟
یہ صرف فلائٹس کا بحران نہیں، یہ پورے نظام کی ناکامی ہے۔
عوام کے وقت، پیسے اور ذہنی اذیت کا ذکر کرنے کی تاب بھی نہیں۔منستری کی جانب سے جلد اس کا نوٹس لیا جائے اور مستقل پھر اسطرح کے واقعات نہ ہو سکے، اسٹوری بشکریہ سوشیل میڈیا اور ریفرنس سوشیل میڈیا پرنٹ میڈیا اور دیگرے یوٹیوب چین  چینلوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،!!