تاثیر 7 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بھاگلپور (منہاج عالم)مشائخ چک واقع سجد میں حضرت سلطان المشائخ رحمۃ اللہ علیہ کا سالانہ عرس نہایت تزک و احتشام، عقیدت و احترام اور روحانی ماحول کے ساتھ منعقد ہوا۔ فجر کے بعد ہی عقیدتمندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، اور صبح ہوتے ہی پورا علاقہ درود و سلام کی گونج سے معمور ہوگیا۔ عرس کی تقریبات کا باضابطہ آغاز قرآن خوانی سے ہوا، جس میں مقامی علما، مشائخ، حفاظ، مدرسے کے طلبہ اور اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ قرآن خوانی کے دوران پورا ماحول روحانی کیفیت سے بھر گیا اور شرکا پر خاص سکون و اطمینان طاری رہا۔اس کے بعد ایک خصوصی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں دینی و اصلاحی موضوعات پر خطابات ہوئے۔ مدرسے کے طلبہ نے خوش الحانی سے نعتِ رسول ﷺ پیش کی، جس نے سننے والوں کے دلوں کو منور کر دیا۔ نعت کے بعد محفل میں ایک پر نور سکوت طاری ہو گیا، اور شرکا روحانی وجد کے ساتھ محفل میں محو ہو گئے اس موقع پر خانقاہ پیر دمڑ یا شاہ خلیفہ باغ، بھاگلپور کے سجادہ نشین مولانا سید شاہ فخر عالم حسن نے نہایت مؤثر اور علمی خطاب کیا۔ ان کا خطاب تقریب کی روح بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ “سجدوں میں گڑگڑا کر دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ بندہ جب محبتِ رسول ﷺ کے ساتھ اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نیک بندوں کی فہرست میں شامل فرما لیتا ہے۔”
مولانا نے اپنے بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بندے کی نیت، دل کی پاکیزگی اور سچی توبہ کو دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا:“اللہ جسے چاہتا ہے اپنا محبوب بنا لیتا ہے، مگر اللہ کا قرب پانے کے لیے ضروری ہے کہ بندہ صدقِ دل کے ساتھ اس کے سامنے جھکے، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرے، اور حضور ﷺ کی سنتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ بندہ جب ایک قدم اللہ کی طرف بڑھاتا ہے، اللہ اس کی طرف کئی قدم بڑھ کر آتا ہے۔ یہ اللہ کی رحمتوں کا دروازہ ہے جو اخلاص والوں کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ دنیا اور آخرت کی کامیابی صرف اسی شخص کے لیے ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتا ہے۔ جو شخص ایمان، محبت، عملِ صالح اور خدمتِ خلق کو اپنا اصول بناتا ہے، وہی جنت کا مستحق قرار پاتا ہے۔ مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ “ہمیں اپنی زندگیوں کو شریعت کے تابع کرنا ہوگا۔ اللہ کی بخشش انہی کو نصیب ہوتی ہے جو سچے دل سے اس کے قریب ہونے کی کوشش کرتے ہیں، اپنے باطن کو پاک کرتے ہیں، دل میں نفرت و حسد کے بجائے محبت اور خیرخواہی کو جگہ دیتے ہیں۔”

