پارلیمانی کمیٹی کاپین- پیپر موڈ کے امتحان پر زور،جے آر ایف کی رقم بڑھانے کی سفارش: رمیش

تاثیر 8 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 8 دسمبر: کانگریس لیڈر ڈگ وجئے سنگھ کی سربراہی میں تعلیم سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے ملک میں پیپر لیک ہونے کے مسائل سے نمٹنے کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے بڑھتے ہوئے آن لائن امتحانات کو محدود کرنے اور ایجنسی کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے امتحان کے قلمی پیپر کے طریقہ کار پر زور دینے کا مشورہ دیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے دگ وجئے سنگھ کی سربراہی میں تعلیم پر پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے این اے اے سی اورآئی سی ایچ آر میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات، یو جی سی قوانین پر نظرثانی،جے آر ایف کی رقم میں اضافہ اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جامع اصلاحات کی سفارش کی ہے۔
جے رام رمیش نے ایک ایکس پوسٹ میں کمیٹی کی 371 ویں رپورٹ کی سفارشات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ این ٹی اے حالیہ واقعات کے بعد ’اعتماد پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے‘، اور اس لیے اس نے اپنی داخلی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور قلم اور کاغذ پر مبنی امتحانی نظام کو ترجیح دینے کی سفارش کی۔ کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ امتحانی نظام میں شفافیت اور ساکھ قائم کیے بغیر طلباء اور والدین کا اعتماد بحال نہیں کیا جا سکتا۔ رمیش نے کہا کہ کمیٹی نے نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (این اے سی) میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں پر ایک وائٹ پیپر جاری کرنے اور اٹھائے گئے اصلاحی اقدامات کو عام کرنے کی سفارش کی۔ اس نے جنوری 2025 کے یو جی سی کے مسودہ ضوابط کو مرکزی مشاورتی کمیٹی برائے تعلیم (سی اے بی ای) کو نظرثانی کے لیے بھیجنے کا بھی مشورہ دیا۔