تاثیر 8 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
وطن عزیز بھارت کا ہوائی شعبہ، جو حالیہ برسوں میں تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، ان دنوں ایک سنگین بحران کا شکار ہے۔ انڈگو ایئر لائنز، ملک کی سب سے بڑی ایئر لائن، کے آپریشنل مسائل نے ہزاروں مسافروں کو پریشان کر دیا ہے۔ یہ بحران نومبر 2025 سے شروع ہوا تھا، جب نئے فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن (ایف ڈی ٹی ایل) قوانین نافذ ہوئے، جن کا مقصد پائلٹس اور کریو کی تھکاوٹ کم کر کے حفاظتی نظام کو مزید بہتر بناناتھا۔ تاہم، انڈگو کی ناکافی تیاری نے اسے ایک قومی سطح کے تنازع میں بدل دیا۔ آج،9دسمبر 2025 کو، جب ہم آپ سے محو گفتگو ہیں، حالات اب بھی نارمل نہیں ہوئے ہیں ، اور شاید کل بھی اس بحران میں کوئی کمی نہیں آ سکے گی۔
اس بحران کی شروعات اکتوبر، 2025 کے آخر میں ہوئی، جب انڈگو نےایف ڈی ٹی ایل قوانین میں چھوٹ کی کوشش کی تھی۔ یہ قوانین 1 نومبر سے نافذ ہوئے، جن کے تحت پائلٹس کی رات کی لینڈنگز کومحدود کر کے ان کے آرام کے اوقات بڑھائے گئے تھے۔ کمپنی نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی سی جی اے) سے ڈیڈ لائن بڑھانے کی اپیل کی، لیکن ڈی سی جی اے نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً، 1 دسمبر سے فلائٹس کی منسوخی شروع ہوئی۔ ابتدائی دنوں میں یہ مسئلہ کچھ زیادہ سنگین نہیں تھا، لیکن 2-3 دسمبر تک یہ ملک بھر کے ایئرپورٹس پر پھیل گیا۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو، حیدرآباد اور احمد آباد جیسے بڑے ایئرپورٹس پر ہزاروں مسافر پھنس گئے۔ 4 دسمبر تک تقریباً 2000 فلائٹس منسوخ ہو چکی تھیں۔ ظاہر ہے یہ انڈگو کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران ہے۔
6 دسمبر کو ڈی سی جی اےنے انڈگو کے سی ای او پیٹر ایلبرس اورسی او او کو شو کاز نوٹس جاری کیا، جس میں پلاننگ اور ریسورس مینجمنٹ کی ناکامی کا ذکر تھا۔ کمپنی نے جواب کے لئے 24 گھنٹے کا وقت مانگا، جو 7 دسمبر کو ختم ہوا۔ تاہم، انڈگو نے مزید ایک دن کی مہلت طلب کی۔ اسی دن، وزارت سول ایوی ایشن نے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی، جو کمپنی کی مبینہ لاپرواہی کی تحقیقات کر رہی ہے۔ کمیٹی یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ آیا انڈگو نے قوانین نافذ کرنے کی بجائے چھوٹ حاصل کرنے میں وقت ضائع کیا۔ 7 دسمبر تک 610 کروڑ روپے کے ریفنڈ جاری ہو چکے تھے۔ تاہم، دیگر ایئر لائنز نے کرایوں میں 15-20 گنا اضافہ کر دیا، جو مسافروں کے لئے مزید پریشانی کا باعث بنا۔
کل8 دسمبر کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں بھی یہ مسئلہ زیر بحث آیا۔ لوک سبھا میں کانگریس ایم پی گورو گوگوئی نے مسافروں کی پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے حکومت سے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اسپیکر اوم برلا نے یقین دلایا کہ سول ایوی ایشن منسٹر رام موہن نائیڈو جواب دیں گے۔ راجیہ سبھا میں اے آئی اے ڈی ایم کے ایم پی ایم تھمبی دورائی نے کرایوں پر کنٹرول کا مطالبہ کیا۔ نائیڈو نے مسافروں کی تکلیف پر افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ 5.86 لاکھ پی این آر منسوخ ہوئے، جن کے لئے اب تک 569 کروڑ روپے ریفنڈ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کرایوں پر حد مقرر کی گئی ہے اور خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہو رہی ہے۔ اسی دن، دہلی ہائی کورٹ میں ایک پی آئی ایل دائر ہوئی، جس میں مسافروں کو فوری مدد اور ریفنڈ کا مطالبہ کیا گیا۔ کورٹ نے 10 دسمبر کو سماعت کی تاریخ دی ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کو فوری طور پر سننے سے انکار کر دیا ہے۔سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے ہی متحرک ہے۔
واضح ہو کہ بحران کے اثرات سنگین ہیں۔ ایک ہفتے میں 4000 سے زائد فلائٹس منسوخ ہوئیں۔ اس سے ملک کی 60 فیصد ڈومیسٹک فلائٹس متا ثر ہوئیں۔ مسافروں کو نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ صحت، کاروبار اور خاندانی تقریبات بھی متاثر ہوئیں۔دوسری طرف ٹورزم اور بزنس سیکٹر کو اربوں کا نقصان پہنچا۔متوازن نظر سے دیکھا جائے تو انڈگو کی ذمہ داری واضح ہے۔ کمپنی نے دو سالوں میںاپنا نیٹ ورک ضروربڑھایا، لیکن کریو اور مینٹیننس میں سرمایہ کاری نہیں کے برابر کی گئی۔ پائلٹس کی تھکاوٹ کی شکایات کو نظر انداز کیا گیا، اور کریو روسٹرنگ سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ کرنے میں تاخیر ہوئی۔ تاہم، حکومت اور ڈی جی سی اےکی بھی تنقید ہو رہی ہے۔ مارچ 2024 سے کریو ٹائمنگ کے مسائل تھے، نوٹس جاری ہوئے لیکن کارروائی نہیں ہوئی۔ نئے قوانین کی تیاری کے لئے کافی وقت تھا، لیکن نگرانی کمزور رہی۔اب تک کی اپ ڈیٹس کے مطابق، انڈگو نے 75 فیصد آپریشن بحال کر لیے ہیں اور 1650 فلائٹس چلا رہی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ 10 دسمبر تک سب نارمل ہو جائے گا۔ پارلیمنٹری پینل اب ایئر لائنز اور ڈی جی سی اے افسران کو طلب کر رہا ہے۔ وزیر اعظم آفس بھی صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے، اور جرمانے، روٹس میں کمی یا سی ای او کی برطرفی جیسے اقدامات زیر غور ہیں۔
یہ بحران بھارتی ایوی ایشن کی کمزوریوں کا آئینہ ہے۔ ایک کمپنی کی ناکامی پورے سیکٹر کو متاثر کر سکتی ہے۔ حل کے لئے، قوانین پر سختی سے عمل درآمد، کریو کی تربیت میں سرمایہ کاری، اور ایمرجنسی پروٹوکول کو فعال کرنا ضروری ہے۔ مسافروں کے حقوق کی حفاظت کے لئے جرمانے اور ریفنڈ کی پالیسیاں مضبوط ہونی چاہئیں۔ دیگر ایئر لائنز کو مارکیٹ شیئر بڑھانے کی اجازت دی جائے تاکہ مونوپولی ختم ہو۔ اگر یہ بحران ایک’’ ویک اپ کال‘‘ ہے، تو اس سے سبق سیکھ کر ہی ہوائی شعبہ کو محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ قومی ذمہ داری کے تقاضے کے مطابق مسافروں کی پریشانیوں کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتاہے۔

