یکساں سماجی تحفظ کی سمت میں گامزن- ہندوستان کے لیبر کوڈ اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر سے تقویت یافتہ

 

جی. مدھومیتا داس
ایڈیشنل سکریٹری اورمالیاتی مشیر، وزارتِ محنت و روزگار

سوشل سکیورٹی کا نظام غربت کوکم کرنے، استحکام کو بہتر کرنے اور منصفانہ ترقی کو فروغ دینے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔یونیورسل سوشل سکیورٹی کے تحت ہرباشندہ کو،خواہ اس کی آمدنی، روزگار کی حیثیت یا جغرافیائی و سماجی خصوصیات کچھ بھی ہوں، کم از کم بنیادی سماجی تحفظ جیسے پنشن، صحت کی سہولیات، بے روزگاری کےفوائد یا معذوری کی امداد تک رسائی فراہم ہوتی ہے۔ ہندوستان یونیورسل سوشل سکیورٹی سسٹم بنانے کے قریب تر پہنچ چکا ہے -یہ ایسی کامیابی ہے جس کے لیے دنیا کے متعددترقی یافتہ ممالک نے دہائیوں تک مسلسل سرمایہ کاری کی ہے۔
لیبر کوڈ، بالخصوص کوڈ آن سوشل سکیورٹی، 2020، کے ذریعے اب ملک کے پاس ہر کارکن کے سماجی تحفظ کے لیے قانونی ڈھانچہ موجود ہے، خواہ وہ گِگ ڈرائیور ہو، فیکٹری کاملازم ہو یا مہاجر تعمیراتی مزدورہو۔ اس کوڈ کےذریعےنو بڑے قوانین کو ایک ہی فریم ورک میں یکجا کیا گیا ہے۔ اس سے انتظامی پیچیدگی کم ہوتی ہے، فوائد کی منتقلی آسان ہوتی ہے، آجرین کے لیے تعمیل آسان ہوتی ہے اور نگرانی و نفاذ مضبوط ہوتا ہے، جس سے خاص طور پر چھوٹے کاروباروں اور غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے ملازمین(جس میں ہندوستان کے 90 فیصد مزدور ہیں) بغیر نوکر شاہی رکاوٹوں کے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔
اس کوڈ سے حکومت کو یہ اجازت بھی ملتی ہے کہایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او)، ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ای ایس آئی سی)،زچگی کے فوائداورگریچوٹی کی سہولتکو تمام شعبوں کے کاروباری اداروں میں فراہم کیا جا سکے، تاکہ اس کا فائدہ پہلے سے غیر احاطہ شدہ مزدوروں کو بھی مل سکے اور چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے رضاکارانہ اندراج کی حوصلہ افزائی ہو۔ اس کے ساتھ اس میں نیشنل سوشل سکیورٹی فنڈ / اسٹیٹ سوشل سکیورٹی فنڈکے قیام کا بھی التزام ہے، جہاں حکومت کی مالی معاونت، سی ایس آرفنڈ، آجر اور ملازمین کی شراکتیں جمع کی جا سکتی ہیں، جس سے سماجی تحفظ کے احاطے میں مدد مل سکتی ہے۔
قانون سازی اس مہم کا صرف ایک حصہ ہے۔ہندوستان کو اپنے عالمی ہم منصب ممالک سے ممتاز کرنے والی اصل طاقت اس کا ابھرتا ہوا ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر ہے – جیسے ای –شرم ڈیٹا بیس،آدھار اتھینٹی کیشن،یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس(یو پی آئی)اورڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر(ڈی بی ٹی)پلیٹ فارم۔ یہ وہ آلات ہیں جن کی مجموعی عمل آوری سےہندوستان کو روایتی فلاحی طریقوں کو چھوڑ کر ایکمفید، شفاف، ٹیکنالوجی سے مربوط فلاحی نظام بنانے کا منفرد موقع ملتا ہے،جو دنیا میں کسی ملک کو حاصل نہیں ہے۔
آدھار:یونیورسلائزیشن کی ریڑھ
سماجی تحفظ کے شعبے میں عالمی سرکردہ ممالک ہرشہری کو منفرد شناخت فراہم کر کے یونیورسل سوشل سکیورٹی کو یقینی بناتے ہیں۔ ہندوستان میں یہ پہلے ہی آدھار کے ذریعے ممکن ہوچکا ہے، جو مفت اور انتہائی قابل اعتماد تصدیق فراہم کرتا ہے۔
آدھار کےذریعے سماجی تحفظ کی سب سے بڑی رکاوٹ دور ہوتی ہے:اس کے ذریعےریاستوں، شعبوں اور آجرین کی سطح پر مستحق افراد کی شناخت اور تصدیق ہوتی ہے۔مہاجر مزدوروں کے لیے آدھار پر مبنی منتقلی کی سہولت اس قابل بناتی ہے کہ انہیں کسی بھی مقام پر اپنے حقوق تک بلا تعطل رسائی حاصل ہو۔ یہ ناروےاور ڈنمارک جیسے ممالک کے ڈیجیٹل آئی ڈی سسٹمزکی عکاسی کرتا ہے جہاں شہریوں کو اپنی بہبودی شناخت تمام شعبوں اور خدمات میں یکساں دستیاب ہوتی ہے۔
یونیفائیڈ ڈیٹا بیس پر مبنی یونیفائیڈ کوڈ
دنیا بھر میں عام طور پر منظم شعبے کےملازمین سماجی تحفظ سے مستفید ہوتے ہیں، لیکن غیر منظم شعبے میں سرگرم مزدوروں کا احاطہ بہت مشکل ہوتا ہے جہاں آجر-ملازم کا مستحکم تعلق معلوم نہیں ہوپاتا ہے۔ بہت سے ممالک مربوط لیبر قوانین پر انحصار کرتے ہیں، لیکن ایسے بہت کم ممالک ہیں جن کے پاس ہندوستان کیای۔ شرم ڈیٹا بیسجیسی وسیع قومی ورکر رجسٹری ہے۔یکساں رجسٹریشن کے واسطےسوشل سکیورٹی کوڈ کا تقاضا ای- شرم کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہے، جس میں پہلے ہی غیر منظم شعبے کے 31 کروڑ سے زائد ملازمین کا ڈیٹا موجود ہے، جس میں سےہر ایک کو آدھار کے ذریعے منفرد شناخت دی گئی ہے اور ای-شرم یونیورسل اکاؤنٹ نمبر (یو اے این) فراہم کیا گیا ہے۔
غیر رسمی شعبوں کے کارکنان کو ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے شناخت، رجسٹر اور ٹریک کرنے کی ہندوستان کی صلاحیت تیزی سےاندراج، بہتر منتقلی اور بروقت ڈیٹا اپ ڈیٹ کرنے کی سہولت فراہم کر سکتی ہے۔ مستقبل میں، اگر ای-شرم اور ای پی ایف او کے یو اے این منتقلی کے قابل ہوتے ہیں، تو غیر منظم اور منظم شعبے کے ملازمین کی نقل و حرکت کو ٹریک کیا جا سکتا ہے، جس سے محنت کے بازار کی سرگرمیوں کے تجزیے کے لیے قیمتی ڈیٹا حاصل ہوگااور باخبرعوامی پالیسی سازی کے لیے قیمتی ڈیٹا فراہم ہوگا۔
یوپی آئی اورڈی بی ٹی: وہ گم شدہ ربط جس میں زیادہ تر ممالک کو اب بھی مہارت حاصل نہیں ہے
مضبوط فلاحی نظام والے ممالک بینک اور روایتی ادائیگی کےنظام پر انحصار کرتے ہیں۔تاہم ،ہندوستان نےیوپی آئی متعارف کرایا، جو دنیا کا تیز ترین، کم لاگت، اور قابل مطابقت ادائیگی کا نیٹ ورک ہے۔ڈی بی ٹی کے ساتھ مربوط ہونے سے، ہندوستان کوملک کے طول وعرض میں فوری اور براہِ راست سوشل سکیورٹی کے فوائد کی ادائیگی کارکنان تک پہنچانے کی صلاحیت حاصل ہے۔
یہ ایسی صلاحیت ہے جس کے لیے ترقی یافتہ معیشتوں کوبھی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ عالمی وبا کے دوران، امریکہ میں لاکھوں افراد کو امدادی چیک وصول کرنے میں ہفتوں لگ گئے، جبکہ ہندوستان نے لاکھوں مستحقین کوکووڈ-19 کی ہنگامی امداد کی ادائیگی بے مثال رفتار سے فراہم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے متعددسوشل سکیورٹی اسکیمیں چلائی جاتی ہیں جن میں لائف انشورنس، حادثاتی بیمہ، صحت کی کوریج، زچگی کے فوائد، بزرگوں کا سماجی تحفظ وغیرہ کی سہولیات شامل ہیں۔ ای-شرمپر ان اسکیموں کے لیے اندراج کرکے اور یو پی آئیاورڈی بی ٹی کے ذریعے فوائد فراہم کر کے، یکساں سماجی تحفظ کے ہدف کو بڑے پیمانے پر، صارف موافق، شفاف اور مؤثر طریقے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستان دنیا کو پیچھے چھوڑنے پر قادر ہے
تاریخ میں پہلی بار، ہندوستان کے پاس تمام عناصر موجود ہیں،یعنی قانونی فریم ورک (لیبر کوڈ)، قومی ورکر رجسٹری(ای۔شرم)، یونیورسل آئی ڈی سسٹم (آدھار)، بروقت ادائیگی کا نظام(یوپی آئی)اور براہِ راست فوائد کی منتقلی(ڈی بی ٹی)۔یہ مجموعہ دنیا بھر میں نادر ہے۔
اگر ان کا درست استعمال کیا جائے، تو ہندوستانی ایک ایسایونیورسل سوشل پروٹیکشن ماڈلبنا سکتا ہے،جو نا صرف جامع ہو بلکہ مقامی ڈجیٹل نوعیت اور مستقبل کے لحاظ سے محفوظ ہو، جس کا مطالعہ مستقبل میں ایک دن دوسرے ممالک بھی کریں گے۔
سوشل سکیورٹی کوڈ صرف قانون سازی نہیں ہے،یہ وہ موقع ہے کہ ملک اپنے کارکنان کی حفاظت کے طریقہ کار کو 21ویں صدی میں نئے سرے سے طےکرے۔ ہندوستان کو اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ لیبر کوڈ سارےکارکنان کے لیے یکساں سماجی تحفظ فراہم کرنے کے اس منفرد موقع کو حقیقت میں بدلیں۔