ڈائبٹیز کو لاعلاج سمجھنے کا دور ختم

تاثیر 11 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بھارت آج دنیا کا ’’ کیپٹل آف ڈائبٹیز‘‘ کہلاتا ہے۔ یہاں کا ہر چھٹا شخص ڈائبٹیز کا مریض ہے۔ تقریباً 8.5 کروڑ افراد اس بیماری کی لپیٹ میں ہیں۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر ٹائپ-2 ڈائبٹیز کے مریض ہیں، جن کا ہیموگلوبن اے ون سی (HbA1c) 7.5 سے زیادہ ہونے کے باوجود برسوں دوائیں اور انسولین لینے کے بعد بھی شکر لیول کنٹرول نہیں ہو پا رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے سرجن ڈاکٹر منجوناتھ کی سربراہی میں، حالیہ چند مہینوں  میں کی گئی متعدد میٹابولک سرجریاں امید کی ایک نئی کرنِ ثابت ہو رہی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ محض دو گھنٹے کی اس سرجری سے نہ صرف موٹاپا کم ہوتا ہے بلکہ برسوں پرانی ان کنٹرولڈ ڈائبٹیز بھی مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے اور پھر اس کے بعد مریض کو زندگی بھر دوائی یا انسولین کی ضرورت نہیں پڑتی۔
گزشتہ ڈیڑھ سال میں ایمس میں 120 مریضوں پر کی گئی باریاٹرک سرجریوں میں سے 35 مریضوں نے تو صرف ڈائبٹیز کے علاج کے لئے یہ آپریشن کروایا تھا۔ ان سب کا ہیموگلوبن اے ون سی 7.5 سے 12 تک تھا اور تین سے چار دوائیوں کے باوجود شکر لیول 250-350 ملی گرام رہتا تھا۔ سرجری کے 24 گھنٹے کے اندر ہی ان کا فاسٹنگ شوگر 90-110 اور ہیموگلوبن اے ون سی آہستہ آہستہ 5.5-6.5 تک آ گیا، یعنی مکمل پوری طرح سے نارمل ہوگیا ۔ایک 65 سالہ رکنِ پارلیمنٹ جن کا ہیموگلوبن اے ون سی 11.7 تھا، 15 سال سے چار دوائیں لے رہے تھے، سرجری کے پانچ ماہ بعد آج وہ ایک گولی بھی نہیں کھاتے۔ دوسری کیس اسٹڈی ایک خاتون کی ہے، جو ہارٹ اٹیک کے بعد کارڈیالوجی سے ریفر ہوئی تھیں۔ ان کا ہیموگلوبن اے ون سی 9.8 تھا۔ مئی 2025 میں سرجری کے بعد آج ان کا شوگر لیول مکمل کنٹرول میں ہے اور دل کی دوائیوں کی تعداد بھی کم ہو گئی ہے۔
یہ سرجری دراصل’’سلیو گاسٹریکٹومی ود لوپ ڈوڈینو-جیجونل بائی پاس‘‘ کا جدید امتزاج ہے۔ اس میں معدہ 70-80 فیصد کم کر کے ایک چھوٹی ٹیوب میں تبدیل کیا جاتا ہے اور خوراک کا ابتدائی حصہ (ڈوڈینم) بائی پاس کر دیا جاتا ہے۔ اس سے وہ ہارمونز (جی ایل پی-1، پی وائی وائی) جو انسولین کی حساسیت بڑھاتے ہیں، بہت زیادہ خارج ہوتے ہیں جبکہ گھریلن جیسے ہارمونز جو بھوک بڑھاتے اور انسولین مزاحمت پیدا کرتے ہیں، کم ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جسم کا اپنا انسولین دوبارہ مکمل طاقت سے کام کرنے لگتا ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق یہ علاج ان مریضوں کے لیے بہترین ہے، جنہیں کم از کم دو سال سے ٹائپ-2 ڈائبٹیز ہو، ہیموگلوبن اے ون سی 7.5 سے زیادہ ہو، تین یا زیادہ دوائیاں لینے کے باوجود شکر کنٹرول نہ ہو، عمر 18 سے 65 سال کے درمیان ہو اور بوڈی ماس انڈیکس( بی ایم آئی ) 27 سے زیادہ ہو۔البتہ 15-20 سال پرانے مریض، جنہیں روزانہ 100 یونٹ سے زیادہ انسولین درکار ہو یا جن کا ہیموگلوبن اے ون سی 6.5 سے کم ہو، انہیں اس سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
یہ علاج یقیناً انقلاب انگیز ہے، مگر چند اہم چیلنجز بھی سامنے ہیں۔ پہلا، لاگت: سرکاری ہسپتالوں میں یہ 80 ہزار سے 1.5 لاکھ روپے تک ہوتی ہے جبکہ نجی ہسپتالوں میں 6-8    لاکھ۔ دوسرا، طویل مدتی مضر اثرات کا مکمل ڈیٹا ابھی جمع کیا جا رہا ہے؛ وٹامن بی-12، آئرن اور کیلشیم کی کمی، ہڈیوں کی کمزوری اور ڈمپنگ سنڈروم کے خطرات موجود ہیں۔ تیسرا، ہر مریض کے لئے مناسب اسکریننگ اور ماہر سرجنوں کی کمی ہے۔ تاہم ، حقیقت یہ ہے کہ جو مریض برسوں سے انسولین کے عادی ہو چکے تھے، وہ آج دوائی سے آزاد، صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی میٹابولک سرجری کو ٹائپ-2 ڈائبٹیز کے’’مکمل علاج‘‘ کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ بھارت جیسے ملک میں، جہاں ہر سال ڈائبٹیز سے 10 لاکھ اموات ہوتی ہیں، آیوشمان بھارت، سی جی ایچ ایس اور ای ایس آئی سکیموں میں اس سرجری کو شامل کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
بہر کیف ،ڈائبٹیز کولاعلاج سمجھنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ہیموگلوبن اے ون سی کی بلند شرح والے لاکھوں مریضوں کے لئے دو گھنٹے کی سرجری مستقل شفا کی سمت میں امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اسے سرکاری سطح پرسستا، ہر طرح سے محفوظ اورہر طبقے کےمریضوں کے لئے قابلِ رسا بنایا جائے۔تب ہی یہ علاج محض چند خوش نصیبوں کے لئے نہیں بلکہ ڈائبٹیز سے جوجھ رہے کروڑوں بھارتیوں کے مستقل علاج کا ذریعہ بن سکے گا۔
************