تاثیر 15 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
سوپول (محمد ابوالمحاسن ( گذشتہ دنوں ارریہ سے پٹنہ واپس ہوتے ہوئےبہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے سیل انچارج الحاق وترقی درجات جناب ڈاکٹر نور اسلام علیگ صاحب کی جامعۃ القاسم آمد ہوئی ،مفتی محمد انصار قاسمی ،مفتی عقیل انور مظاہری اور شاہ جہاں شاد وغیرہ سے جامعۃ القاسم کے احوال و کوائف اور شعبہ جات کے تعلق سے تفصیلی گفتگو ہوئی ،جامعہ کامعائنہ کرتے ہوئے اپنے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بانی جامعہ حضرت مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد ایک خلا پیدا ضرور ہوا مگر اس کے بعد ادارہ کو اس طرح سے آگے بڑھانا اور تعلیمی تحریک کو جاری رکھنا قابل مبارکباد قدم ہے جو ادارے کے روشن چراغ کو بجھنے نہیں دیا ،انہوں نے اس موقع پر درجات عربی و شعبہ تحفیظ کے طلبہ سے بھی مختصر اظہار خیال کیا۔ طلبہ میں اس بات پر زور دیا کہ اپنی فکر میں وسعت پیدا کریں ،رہن سہن اسلامی تہذیب میں ڈھل جائیں ،یہ بڑی بات ہے ،انہوں نے فقیہ العصر حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ علیہ کے اقوال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت قاضی صاحب کو پڑھنی چاہیے انہوں نے مختلف مواقع پر ہم جیسوں کو جو نصیحت کی وہ زندگی میں بہت کام آئی،جو شخص بھی آپ پر بھروسہ کررہے ہیں چاہے والدین ہوں یا اساتذہ ان پر مکمل کھڑا اترنے کی کوشش کیجئے ،اس لئے محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کیجیے۔ جس مقام پر بھی رہیں ادارہ کے ساتھ الفت ومحبت باقی رکھیں۔انہوں نے کہاکہ جامعۃ القاسم میں یہ میری پہلی حاضری ہے ان شاء اللہ اب وقت لے کر آؤں گا اور تفصیلی گفتگو کروں گا ،اس موقع پر مدرسہ ہاشمیہ تھربٹہ کے پرنسپل قاری رضوان احمد اشاعتی ،مولانا زاہد حلیمی ،جامعہ کے اساتذہ میں مفتی حیات اللہ قاسمی ،قاری مشتاق احمد عثمانی اور قاری عقیل احمد جامعی وغیرہ بھی موجود تھے۔

