دہلی ایمس کی خوشگوار پہل

تاثیر 16 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

دہلی کا آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) ملک کا ایک ایسا ادارہ ہے، جو نہ صرف صحت کی خدمات میں قومی سطح پر قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے بلکہ بین الاقوامی معیار کی طرف بھی تیزی سے گامزن ہے۔ حالیہ دنوں میں ایمس نے جو اقدامات کئے ہیں، وہ حکومت کی ،صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔ خاص طور پر، او پی ڈی مریضوں کے لئے سی ٹی اسکین کی سہولیات کو بہتر بنانے کی اسکیم ایک خوش آئند قدم ہے۔یہ مریضوں کی تکلیفوں کو کم کرنے اور طبی خدمات کو مزید مؤثر بنانے کی ایک خوشگوار پہل ہے۔
ایمس کی اس نئی پہل کا بنیادی مقصد مریضوں کو لمبی لائنوں اور انتظار کی اذیت سے نجات دلانا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایمس نے نجی اور معتبر ڈائگنوسٹک سنٹرز سے ایکسپریشن آف انٹریسٹ (ای او آئی) طلب کیا ہے تاکہ او پی ڈی مریضوں کو سبسڈی ریٹ پر بروقت سی ٹی اسکین کی سہولت دستیاب ہو۔ یہ قدم انتہائی بروقت اور عملی ہے، کیونکہ ایمس جیسے بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں، سی ٹی اسکین جیسی اہم جانچوں کے لئے ہفتوں کا انتظار مریضوں کی حالت کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ حکومت کی اس حکمت عملی سے نہ صرف ہسپتال پر دباؤ کم ہوگا بلکہ سنگین مریضوں کی جانچ میں تاخیر بھی روکی جا سکے گی۔
اس اسکیم کی خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ عوامی اور نجی شعبوں کے تعاون پر مبنی ہے، جو حکومت کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کی پالیسی کی کامیاب مثال ہے۔اس اسکیم کے تحت نجی سنٹرز سی جی ایچ ایس کی طے شدہ ریٹ سے زیادہ چارج نہیں لے سکیں گے، اور مریضوں کو ادائیگی ایمس میں ہی کرنی ہوگی۔ اس کے بعد ایمس ماہانہ بنیاد پر نجی سنٹرز کو ادائیگی کرے گا۔ظاہر ہے اس سے شفافیت کو یقینی بنانے میںمدد ملے گی۔ ایمس اور نجی سنٹرز مل کر ای ہاسپٹل سسٹم کے ذریعے اپوائنٹمنٹ کا انتظام کریں گے، جو ڈیجیٹل انڈیا کی مہم سے ہم آہنگ ہے۔ یہ اقدامات اس بات کے ثبوت ہیں کہ حکومت صحت کی دیکھ بھال کو نہ صرف قابل رسائی بلکہ سستی اور تیز رفتار بنانے کےلئے پرعزم ہے۔اس اسکیم کے تحت پینل میں شامل سنٹرز کو ایمس سے 10 کلومیٹر کے دائرے میں ہونا ضروری ہے۔ایسا مریضوں کی سہولت کےمدنظرکیا گیا ہے۔دو سال کے معاہدے کے ساتھ پہلے چھ ماہ کے پائلٹ فیز میں حسب ضرورتبدیلیوں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف دہلی بلکہ دیگر بڑے شہروں کےلئے ایک ماڈل بن سکتی ہے، جہاں طبی سہولیات کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ حکومت کی یہ سوچ کہ صحت کی دیکھ بھال کو نجی شعبے کی مہارت سے جوڑا جائے، ملک کی مجموعی صحت انڈیکس کو بہتر بنانے میں مدد دے گی۔
دوسری جانب ایمس کو عالمی سطح کا میڈیکل ریسرچ اور پریکٹس انسٹی ٹیوٹ بنانے کی کوششیں بھی قابل ستائش ہیں۔ نتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے پال کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہائی لیول کمیٹی ایمس کے موجودہ سسٹم کی گہرائی کے ساتھ جائزہ لے گی اور اصلاحات کا روڈ میپ تیار کرے گی۔ ان اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ایمس کو نہ صرف قومی بلکہ گلوبل ہب بنانے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ مرکزی حکومت کی یہ پہل، جو صحت کی دیکھ بھال کو تحقیق سے جوڑتی ہے، ملک کی سائنسی ترقی کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔
مجموعی طور پر، ایمس کی یہ نئی اسکیم اور متعلقہ اقدامات حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا مظہر ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں صحت کا شعبہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جہاں’’آیوشمان بھارت‘‘ جیسی اسکیموں سے لاکھوں غریبوں کو علاج مفت مل رہا ہے۔ ایمس کی یہ نئی پہل اسی تسلسل کا حصہ ہے، جو مریضوں کی تکلیفوں کو کم کرنے اور طبی خدمات کو مؤثر بنانے پر مرکوز ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے بھارت میں صحت کی دیکھ بھال کا مستقبل روشن نظر آتا ہے۔ مریضوں کو لمبی لائنوں سے نجات، غریبوں کو مفت خدمات اور ایمس کو گلوبل ہب بنانے کی کوششوں سے یہ واضح ہے کہ حکومت عوام کی ضروریات کو ترجیح دے رہی ہے۔یقین ہے کہ یہ اسکیم جلد ہی ملک بھر میں پھیلے گی اور صحت کا شعبہ مزید مضبوط ہوگا۔
*********