تاثیر 17 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے گزشتہ روز’’نیشنل ہیرالڈ‘‘ سےمتعلق منی لانڈرنگ کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی چارج شیٹ پر کوگنجنس لینے سے انکار کر دیا ہے۔ظاہر ہےیہ کانگریس کی سینئر لیڈروں یعنی سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور دیگر کے لئے ایک بڑی عدالتی راحت ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ای ڈی کا مقدمہ بی جے پی لیڈر سبھرامنیئم سوامی کی نجی شکایت اور میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کے سمّنز پر مبنی ہے، نہ کہ کسی ایف آئی آر پر، اس لئے موجودہ مرحلے میں کوگنجنس لینا قانونی طور پر ممکن نہیں ہے۔ تاہم، عدالت نے ای ڈی کو مزید تفتیش جاری رکھنے کی مکمل آزادی دے دی ہے۔یہ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کیس ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اس فیصلے نے ایک طرف کانگریس کو راحت دی ہے ، تو دوسری طرف واضح کیا ہے کہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔
نیشنل ہیرالڈ کیس کی جڑیں 2012 میں ہیں۔بی جے پی لیڈر سبرامنیئم سوامی نے الزام لگایا تھا کہ ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (اے جے ایل) کی اربوں روپے کی جائیدادوں کو ینگ انڈین پرائیویٹ لمیٹڈ (وائی آئی ایل) کے ذریعے غیر قانونی طور پر ہتھیا لیا گیا ہے۔اس میں سونیا اور راہل گاندھی کی اکثریتی شیئر ہولڈنگ تھی۔ ای ڈی نے اسے منی لانڈرنگ کا کیس قرار دیتے ہوئے اپریل 2025 میں چارج شیٹ دائر کی تھی۔ دہلی پولیس کی اقتصادی جرائم شاخ نے بھی ای ڈی کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی، جس میں گاندھی فیملی پر مجرمانہ سازش اور دھوکہ دہی کے الزامات لگائے گئے تھے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ موجودہ مرحلے میں ملزموں کو ایف آئی آر کی کاپی دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
کانگریس نے اس فیصلے کو ’’سچ کی فتح‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے مودی حکومت کی ’’سیاسی انتقام اور ہراسانی‘‘ کی ناکامی بتایا ہے۔ پارٹی کے مطابق، ای ڈی کی کارروائی میں نہ تو منی لانڈرنگ کا کوئی ثبوت ہے اور نہ جائیداد کی کوئی منتقلی کی کوئی نشادہی کی گئی ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ یہ کیس محض اپوزیشن لیڈروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور انہیں ہراساں کرنے کا ہتھیار ہے، جو جمہوریت کےلئے خطرناک ہے۔ پارٹی نے عدالت کے فیصلے کو اداروں کے غلط استعمال کی ’’بے نقابی ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی پروپیگنڈا کی شکست ہے۔
دوسری طرف، بی جے پی نے کانگریس کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ کیس 2008 کا ہے اور اس وقت مودی حکومت نہیں تھی۔ سینئر بی جے پی لیڈر روی شنکر پرساد کا کہنا ہے کہ قانون اپنا کام کرے گا۔ کانگریس کو اپنی ’’لوٹ‘‘ کا حساب دینا چاہیے۔ ان کا موقف ہے کہ ایف آئی آر میں دفعہ 120بی (مجرمانہ سازش) اور 420 (دھوکہ دہی) کے تحت سنگین الزامات ہیں، جو پرانے ضابطہ فوجداری پر مبنی ہیں۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ یہ کیس سیاسی نہیں بلکہ قانونی ہے اور ای ڈی کی تفتیش شفاف ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ کورٹ اس فیصلے نے بھارتی سیاست میں اداروں کی آزادی اور ان کے ممکنہ غلط استعمال کے سوال کو ایک بار پھر موضوع بحث بنا دیا ہے۔ ایک طرف، اپوزیشن جماعتیں اکثر مرکزی تفتیشی ایجنسیوں پر حکومت کے اشاروں پر کام کرنے کا الزام لگاتی ہیں، جو جمہوری توازن کے لئےتشویشناک ہے۔ دوسری طرف، اگر سنگین الزامات ہیں تو تفتیش کا حق اداروں کو حاصل ہے اور عدالتوں کا کردار ہی فیصلہ کن ہوتا ہے۔ موجودہ فیصلہ ای ڈی کے لیے دھچکا ضرور ہے، لیکن تفتیش کی اجازت سے کیس کا مستقبل ابھی کھلا ہواہے۔ یہ صورتحال بتاتی ہے کہ طویل عدالتی کارروائیوں سے نہ صرف ملزم متاثر ہوتے ہیں بلکہ عوامی اعتماد بھی کمزور ہوتا ہے۔
قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیشنل ہیرالڈ کیس میں سیاست کے عمل دخل سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے ختم کرنے کا واحد راستہ قانون کی بالادستی اور شفاف تفتیش ہے۔ عدالتوں کو چاہئے کہ ایسے کیسز میں تیزی سے فیصلے کریں تاکہ سیاسی الزامات کی گنجائش کم ہو۔ دونوں فریقوں کو بھی الزام تراشی کے بجائے ثبوتوں پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ یہ فیصلہ ایک مرحلہ ہے، لیکن حتمی انصاف ابھی باقی ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ اس کیس میں انصاف کی جیت ضرور ہوگی۔

