ایک عظیم ہدف کا تعین اورنیوکلیائی توانائی کی پیداوار کو بڑھانے کی خاطر جرأت مندانہ اقدامات

آر بی گروور

انسانی ترقی توانائی کی کھپت سے وابستہ ہے۔ 1971 میں سائنٹفک امریکن میں شائع ہونے والے ایک اہم مقالے میں، ارل ُکک نے ابتدائی سے تکنیکی انسان کے مراحل کے دوران فی کس توانائی کی کھپت میں اضافے کا تجزیہ کیا۔ قدیم انسان کو صرف کھانے کے لیے توانائی کی ضرورت تھی۔ شکار کے مرحلے میں گھر اور تجارت کے لیے توانائی کی ضروریات شامل کی گئیں۔ جب انسان کاشتکار بنے تو صنعت، زراعت اور نقل و حمل کی ضروریات بھی پیدا ہوئیں۔ صنعتی اور تکنیکی مراحل کے ذریعے خوراک، گھر، تجارت، زراعت اور نقل و حمل کے لیے توانائی کی ضروریات میں اضافہ ہوتا رہا۔ آج کادور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا دورہے اور معیشت کی ڈیجیٹل کاری کے لیے  اضافی توانائی کی ضرورت ہے۔

‘‘انسانی ترقیاتی اشاریہ’’ (ایچ ڈی آئی) انسانی ترقی کی منصفانہ نمائندگی کرتا ہے۔ اس میں تین اہم اشارے شامل ہیں، یعنی فی کس آمدنی، تعلیم اور صحت۔ ایچ ڈی آئی اور فی کس حتمی توانائی کی کھپت (ایف ای سی) کے درمیان تعلق سے استفادہ کرکے، کوئی بھی ایک مخصوص ایچ ڈی آئی تک پہنچنے کے لیے درکار توانائی کی سطح کا تعین کر سکتا ہے۔ جی 20 گروپ کے ایک رکن کے طور پر، بھارت ان ممالک سے برابری کررہا ہے جن کا ایچ ڈی آئی 0.9 سے اوپر ہے۔ ہمارے تخمینوں سے اشارہ  ملتا ہے کہ توانائی کی کارکردگی میں مزید بہتری اور اختتامی استعمال کی بجلی کاری پر غور کرتے ہوئے، بھارت کو سالانہ تقریباً 24 ہزار ٹیرا واٹ گھنٹے (ٹی ڈبلیو ایچ) پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی(سائنس، 2022،122 (5)، 517-527)۔ اس کا ایک حصہ، تقریباً 60 فیصد، بجلی کے طور پر استعمال ہوگا اور باقی الیکٹرولائزر میں ہائیڈروجن کی پیداوار کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اسٹیل، کھاد، پلاسٹک وغیرہ کی پیداوار جیسے شعبوں کو کاربن سے پاک کرنے کے لیے ہائیڈروجن کی ضرورت ہے۔ جب ہائیڈروجن کی پیداوار کے لیے متبادل عمل بڑے پیمانے پر تیار کیے جائیں گے تو کم بجلی کی ضرورت ہوگی۔

سال2023-24 میں پیداوار تقریباً 1950 ٹی ڈبلیو ایچ تھی اور حال ہی میں سی اے جی آر تقریباً 4.8 فیصد رہا ہے۔ تقریباً اس سطح پر ترقی کی شرح کو برقرار رکھتے ہوئے، چار سے پانچ دہائیوں میں 24 ہزار ٹی ڈبلیو ایچ سالانہ پیداوار کرنا ممکن ہوگا۔اگرچہ دو مشکل مرحلے ہیں۔

سب سے پہلے، بھارت کو اپنی توانائی کے مرکب کو کاربن سے پاک کرنا ہوگا۔ لہذا، بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ اختتامی استعمال کی بجلی کاری اور توانائی کے مرکب کو دوبارہ ڈیزائن کرنا ضروری ہے۔ ایف ای سی میں بجلی کا موجودہ حصہ تقریباً 22 فیصد ہے اور اس میں نمایاں اضافہ ہونا ضروری ہے۔ موجودہ توانائی کا مرکب فوسل ایندھن پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور انہیں ایسے توانائی کے ذرائع سے تبدیل کرنا ضروری ہے جو کاربن کا اخراج نہیں کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کو ہائیڈرو، نیوکلیائی، شمسی اور ہوا کے ذریعے زیادہ پیداوار حاصل کرنی ہے۔ بھارت میں ہائیڈرو اور ہوا کی صلاحیت محدود ہے۔ بھارت گنجان آباد والا ملک ہےجس کی وجہ سے زمین کے بڑے حصوں کو شمسی فوٹو وولٹک کی تعیناتی کے لیے مخصوص کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اگرچہ ہائیڈرو، شمسی اور ہوا کی مکمل صلاحیت کا بھرپور فائدہ اٹھانا ضروری ہے، لیکن ان کی صلاحیت 0.9 سے اوپر ایچ ڈی آئی حاصل کرنے کے لیے درکار توانائی کی سطح فراہم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ لہٰذا، نیوکلیائی توانائی کی پیداوار کو بڑھانا ضروری ہے اور جب تک یہ عمل مکمل نہیں ہوتا، بھارت کو فوسل ایندھن سے استفادہ کرنا جاری رکھنا پڑے گا۔

دوسرا، سورج کی روشنی اور ہوا کا زور ایسے  ذرائع ہیں جوہمہ وقت دستیاب نہیں ہوتے۔ فوٹو وولٹک خلیوں یا پن چکی سے پیدا ہونے والی بجلی متغیر ہے۔ لہٰذا، بجلی کی فراہمی کو مانگ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے، اسے اس وقت ذخیرہ کیا جانا چاہیے جب یہ زیادہ ہو اور جب پیداوار مانگ سے کم ہو تو اسے بڑھایا جانا چاہیے۔ ذخیرہ کاری کا عمل مہنگا ہوتا ہے اور شمسی اور ہوا کے اثر میں موسمی تغیرات کو دور کرنے کے لیے ذخیرہ کرنا انتہائی مہنگا ہوتا ہے۔ صارفین کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے، بجلی کے مرکب میں بیس لوڈ پیدا کرنے کی کافی صلاحیت ہونی چاہیے، یعنی پیداوار کا انحصار موسموں یا دن کے وقت پر نہیں ہونا چاہیے۔ نیوکلیائی توانائی پلانٹس بیس لوڈ ہوتے ہیں اور انہیں کاربن سے پاک توانائی کے مرکب کا حصہ بننا چاہیے۔

اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے، ایٹمی توانائی کے محکمے کی اکائیاں، بھارتی صنعت کے تعاون سے، نیوکلیائی توانائی کو اس طرح استعمال کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں کہ مکمل سپلائی چین مقامی ہو۔ صرف یورینیم درآمد کیا جائے کیوں کہ بھارت کے پاس مناسب مقدار میں یورینیم نہیں ہے۔ بھارت نے ایندھن کی تیاری، بھاری پانی کی پیداوار اور پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹروں (پی ایچ ڈبلیو آر) کی تعمیر کے لیے ضروری تمام آلات تیار کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔ نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ نے مختلف درجہ بندی کے پی ایچ ڈبلیو آر کے ڈیزائن اور آپریشن میں مہارت حاصل کی ہے، جس میں سب سے زیادہ 700 میگاواٹ ہے۔ تین 700 میگاواٹ یونٹ پہلے ہی کام کر رہے ہیں اور چوتھا مکمل ہونے والا ہے۔ مزید دو تعمیراتی مراحل میں ہیں۔ 2017 میں مرکزی حکومت نے دس 700 میگاواٹ کے پی ایچ ڈبلیو آر کی تعمیر کی منظوری دی تھی اور ان اکائیوں پر کام جاری ہے۔

1980 کی دہائی میں ایک انضباطی ادارہ قائم کیا گیا جس نے نیوکلیئر پاور پلانٹس کو منضبط کرنے کی صلاحیت اور مہارت پیدا کی ہے۔ بھابھا ایٹمی ریسرچ سینٹر نے قیمتی مواد کی بازیابی اور نیوکلیائی کچرے کے بندوبست کے لیے استعمال شدہ نیوکلیائی ایندھن کو دوبارہ پروسیس کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز تیار کی ہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں، نیوکلیائی توانائی کی پیداوار بھارت کے لیے ایک تکنیکی طور پر قابل عمل، کفایتی اور محفوظ متبادل ہے۔

ان کامیابیوں نے مرکزی حکومت کو وسط صدی تک 100 گیگا واٹ جوہری تنصیب کی صلاحیت کا ہدف مقرر کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے ‘‘دی سسٹین ایبل ہارنسنگ اینڈ ایڈوانسمنٹ آف نیوکلیئر انرجی فار ٹرانسفارمنگ انڈیا بل 2025’’ کو  منظوری دی ہے۔ یہ بل ایک جامع قانون سازی ہے اور جوہری توانائی ایکٹ، 1962 اور سول لائیبلٹی فار نیوکلیئر ڈیمیج ایکٹ، 2010 میں شامل دفعات کو یکجا کرتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ ایٹمی انرجی ریگولیٹری بورڈ ‘‘اس ایکٹ کے تحت تشکیل دیا گیا سمجھا جائے گا’’۔ بل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ تحفظ، سلامتی اور حفاظتی انتطامات کی بنیادی ذمہ داری سہولت کے لائسنس دہندہ پر عائد ہوتی ہے۔

جوہری توانائی کے لیے جو ہدف مقرر کیا گیا ہے وہ دوراندیشی پر مبنی ہے۔ پارلیمنٹ سے منظور شدہ بل ایک جرات مندانہ قدم ہے۔ ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بننے کے لیے دوراندیشی پر مبنی اہداف اور جرأت مندانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

* مصنف ایک ممتاز جوہری سائنسدان اور جوہری توانائی کمیشن کے رکن ہیں، جنہوں نے ہندوستان کے جوہری توانائی کے روڈ میپ کو نمایاں شکل دی ہے ۔ انہوں نے بھارت-امریکہ سول نیوکلیئر معاہدے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ہومی بھابھا نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے بانی  وڈائریکٹر ہیں ۔