تاثیر 21 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 21 دسمبر: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز کانگریس کی سابقہ حکومتوں کے دوران آسام سمیت ملک کے کئی حصوں میں کھاد کے کارخانوں کی بندش کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے کسانوں کو یوریا کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا اور کبھی کبھی حالات پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے حالات کو خراب کیا اور موجودہ حکومت اسے بہتر بنانے کے لئے پوری عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے اور ملک بھر میں نئے کھاد یونٹس قائم کئے جا رہے ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے آج ڈبرو گڑھ کے نامروپ میں آسام ویلی فرٹیلائزر اینڈ کیمیکل کمپنی کے امونیا یوریا پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ نئے براؤن فیلڈ امونیا یوریا کھاد کے پروجیکٹ میں 10,600 کروڑ سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ 10,600 کروڑ کا یہ منصوبہ آسام اور پڑوسی ریاستوں کی کھاد کی ضروریات کو پورا کرے گا، درآمدات پر انحصار کم کرے گا، خاطر خواہ روزگار پیدا کرے گا، اور علاقائی اقتصادی ترقی کو تیز کرے گا۔
اس موقع پر ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے الزام لگایا کہ کانگریس پارٹی ملک دشمن سوچ کو فروغ دے رہی ہے اور صرف آسام کے جنگلات اور زمینوں میں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کو آباد کرکے اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو آسام کی شناخت، ثقافت یا وقار کی کوئی فکر نہیں ہے۔ یہ کانگریس پارٹی ہے جو غیر قانونی تارکین وطن کو آباد کرنے اور ان کی حفاظت کی ذمہ دار رہی ہے، اسی لیے وہ ایس آئی آر (ووٹر لسٹوں کی سیریل نمبر کلینزنگ) کی مخالفت کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آسام کو خوشامد اور ووٹ بینک کی سیاست کے زہر سے بچانا ضروری ہے اور یقین دلایا کہ آسام کی شناخت اور وقار کی حفاظت کے لیے بی جے پی فولاد کی طرح عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

