بھارت اور افغانستان کے بہتر ہوتے رشتے

تاثیر 21 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بھارت اور افغانستان کے درمیان حالیہ دنوں میں بہتر ہوتے رشتے علاقائی سیاست اور معاشی تعاون کی ایک خوشگوار مثال پیش کر رہے ہیں۔ افغانستان کی طالبان حکومت کے ہیلتھ منسٹر مولوی نور جلال جلالی کے حالیہ دہلی دورے نے اس بات کو مزید واضح کر دیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھنے کے لئے تیار ہیں۔ اس دورے کے دوران بھارت نے افغانستان کی طویل مدتی ادویات کی ضروریات پوری کرنے کا وعدہ کیا، جبکہ افغان منسٹر نے بھارتی کمپنیوں کے لئے اپنے بازار کے دروازے کھولنے کی بات کی۔ یہ پیش رفت نہ صرف صحت کے شعبے میں تعاون کی علامت ہے بلکہ بھارت کے لئے علاقائی سفارتی کامیابی بھی ہے۔
تاریخی طور پر، بھارت اور افغانستان کے درمیان گہرے رشتے رہے ہیں۔ قدیم دور سے لے کر جدید وقت تک، دونوں ممالک ثقافتی، تجارتی اور انسانی روابط سے جڑے ہوئے ہیں۔ افغان شہری طویل عرصے سے بھارت کو تعلیم، علاج اور تجارت کے لئے اپنا دوسرا گھر سمجھتے رہے ہیں۔ کابل میں بھارتی چارج ڈی افیئرز کرن یادو نے اسی بات پر زور دیا کہ ’’افغان ہمارے بھائی ہیںاور ان کی مدد کرنا بھارت کی ذمہ داری ہے‘‘۔ یہ بیان نہ صرف جذباتی ہے بلکہ سفارتی بھی، جوافغانستان کے تئیں بھارت کی نرم مزاجی کو اجاگر کرتا ہے۔ حالیہ دورے میں، بھارتی کمپنیوں سے افغانستان کی ادویات کی ضروریات پوری کرنے کی اپیل اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بھارت اپنی فارماسیوٹیکل صنعت کی برتری کو علاقائی فلاح کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ بھارت کی ادویات نہ صرف سستی اور اعلیٰ معیار کی ہیں بلکہ ان کی سپلائی چین بھی مضبوط ہے، جو افغانستان جیسے ملک کے لئے ایک بہترین حل ہے، جہاں صحت کا شعبہ بحران کا شکار ہے۔
افغان منسٹر جلالی کا بیان کہ بھارت افغانوں کا’’کھویا ہوا بھائی‘‘ ہے، اس رشتے کی گرمجوشی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ سرحدی اور تجارتی تناؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 60-70 فیصد افغان ادویات پاکستان سے آتی ہیں، جو اب گوں ناگوں مسائل اور سیاسی مشکلات کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہو گئی ہیں۔ یہ صورتحال بھارت کے لئے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ پاکستان کی جگہ لے کر افغان مارکیٹ میں قدم جما سکے۔ جلالی نے بھارتی کمپنیوں کو مختصر اور طویل مدتی سرمایہ کاری کی دعوت دی، جیسے ادویات کی سپلائی سے لے کر مقامی پروڈکشن فیسیلیٹیز قائم کرنے تک۔ یہ نہ صرف بھارتی کمپنیوں کے لئے نئی مارکیٹ ہے بلکہ یہ بھارت کی علاقائی اقتصادی پالیسی کو بھی تقویت دے گی۔ بھارت پہلے ہی افغانستان کو انسانی امداد، تعلیم اور تربیت کے پروگرامز فراہم کر رہا ہے، جیسے تین ماہ کے میڈیکل ٹریننگ کورسز، جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان اعتماد بڑھاتے ہیں۔
ویسے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتےیہ رشتے چیلنجز سے بھی خالی نہیں ہیں۔ افغانستان کی طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے، جو بھارت کی سفارتی حکمت عملی کے نققطۂ نظر کے بر عکس ہے۔ تاہم، بھارت نے اسے ایک حقیقت پسندانہ زاویۂ نگاہ سے دیکھتے ہوئے انسانی اور معاشی تعاون پر توجہ مرکوز کی ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف بھارت کی علاقائی استحکام کی خواہش کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ چین اور پاکستان کی علاقائی چالوں کا مقابلہ کرنے میں بھی مددگار ہے۔ حالیہ مہینوں میں افغان وزراء کے مسلسل دورے،جیسے اکتوبر میں
وزیر خارجہ عامر خان متقی اور پچھلے مہینے تجارت کے وزیر الحاج نورالدین عزیزی کا دہلی آنا،یہ بتاتے ہیں کہ تعلقات تیزی سے بہتر ہو رہے ہیں۔ یہ بھارت کی کامیاب سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جو علاقائی امن اور ترقی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
بھارت کے لئے یہ رشتے متعدد فوائد رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے، یہ قدم وسطی ایشیا تک رسائی کو بڑھاتا ہے، جہاں بھارت کی معاشی دلچسپی ہے۔ دوسرا، یہ پاکستان کی علاقائی تنہائی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جو بھارت کی سیکورٹی کے لیے مثبت ہے۔ تیسرا، یہ بھارت کی عالمی شبیہ کو ایک ذمہ دار اور مددگار ملک کے طور پر مضبوط کرتا ہے۔ تاہم، اس رشتے کو متوازن  رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ بھارت اس تعاون کو انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے فریم ورک میں رکھے، تاکہ یہ طویل مدتی ہو۔
ماہرین کے مطابق بھارت اورافغانستان تعلقات کا یہ نیا سفر علاقائی امن اور معاشی ترقی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ بھارت کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی فارماسیوٹیکل اور دیگر صنعتوں کو افغانستان میں پھیلانا چاہیے۔اس سے نہ صرف تجارتی فوائدحاصل ہوں گے بلکہ عوامی سطح پر رشتوں میں بھی مضبوطی آئے گی ۔ظاہر ہے یہ پیش رفت بھارت کی سفارتی کامیابی ہے،جس سے علاقائی لیڈر کے طور پر بھارت کی شناخت قائم ہے۔اگر یہ مثبت رفتار اسی طرح جاری رہی تو دونوں ممالک کے درمیان نئی امیدوں کی کرنیں ضرور روشن ہوں گی۔