تاثیر 22 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
کیا خدا موجود ہے؟ یہ سوال انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ فلسفہ، مذہب اور سائنس،ہر دور میں اس سوال پر غور ہوتا رہا ہے، کبھی انکار کی صورت میں اور کبھی اعتراف کی شکل میں۔ حالیہ دنوں میں اسی سوال پر ایک سنجیدہ اور علمی مباحثے نے ملک بھرکے فکری حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ مباحثے کا موضوع تھا:’’Does God Exist‘‘۔ تقریباً دو گھنٹے تک چلی اس ڈیبیٹ میں معروف شاعر و اسکرپٹ رائٹر جاوید اختر اور اسلامی اسکالر مولانا شمائل ندوی آمنے سامنے تھے، جبکہ ماڈریٹر کی ذمہ داری مقبول ہندی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’’دی لّلن ٹاپ‘‘ کے بانی ایڈیٹر اور ایڈیٹر انچیف سورو دوویدی نے ادا کی ۔ پروگرام کو کچھ اس انداز سے ترتیب دیا گیا تھا کہ اس کا ماحصل نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا میں موضوع بحث بن گیا ہے۔
اس ڈیبیٹ کا پس منظر محض ایک پروگرام تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ برسوں سے جاری فکری کشمکش کا تسلسل تھی۔ جاوید اختر ماضی میں بھی خدا، مذہب اور ایمان کے تصور پر تنقیدی خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں، جس پر علمی و مذہبی حلقوں میں ردِعمل سامنے آتا رہا ہے۔اسی تناظر میں اسلامک اسکالر مولانا شمائل ندوی نے ایک منظم اور اکیڈمک مکالمے کی تجویز پیش کی تھی، جس کا مقصد جذباتی مناظرہ نہیں بلکہ خدا کے وجود پر سنجیدہ اور مدلل گفتگو تھا۔ اسی فکری پس منظر میں، نئی دہلی کے کانسٹی چیوشنل کلب کے بڑے ہال میں یہ ڈیبیٹ گزشتہ 20 دسمبر کو منعقد ہوئی تھی۔مباحثے کے دوران جاوید اختر نے خدا کے وجود سے انکار کے حق میں اپنے دلائل پیش کیے۔ ان کے مباحثے کی بنیاد انسانی دکھ، سماجی ناانصافیاں، اور مذہب کے نام پر ہونے والے تشدد پر تھی۔ بعض مواقع پر ان کا انداز جذباتی محسوس ہوا اور وہ اصل فلسفیانہ سوال،یعنی خدا کے وجود،سے ہٹتے ہوئے نظر آئے۔ دوسری طرف مولانا شمائل ندوی نے گفتگو کو اکیڈمک اور فکری دائرے میں رکھنے کی شعوری کوشش کی۔ انہوں نے خدا کے وجود پر کلاسیکی اور جدید دلائل پیش کیے، جن میں علت و معلول (Cause and Effect)، کائنات کا منظم ہونا، فطرت کے قوانین، اور انسانی شعور و اخلاقی حس جیسے نکات شامل تھے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ ایک منظم کائنات، جس میں ہر شے ایک مقصد اور قانون کے تحت چل رہی ہو، خود بخود وجود میں نہیں آ سکتی۔ کسی ’’اوّل سبب ‘‘کا ہونا عقلاً ناگزیر ہے، اور اسی اوّل سبب کو خدا کہا جاتا ہے۔
اس ڈیبیٹ کی سب سے بڑی کامیابی اس کا مجموعی ماحول تھا۔سورو دوویدی کی متوازن اور غیر جانبدار ماڈریشن نے گفتگو کو تلخی، بدنظمی اور ذاتی حملوں سے محفوظ رکھا۔ انہوں نے گفتگو کو نہ تو اشتعال کی طرف جانے دیا اور نہ ہی کسی ایک فریق کو غیر ضروری فوقیت دی۔ظاہر ہے، یہی رویہ کسی بھی سنجیدہ مکالمے کی کامیابی کی بنیاد ہوتا ہے۔ یہ ڈیبیٹ در اصل اس بات کی یاد دہانی تھی کہ اختلافِ رائے بھی وقار اور شائستگی کے ساتھ ممکن ہے۔تاہم اس ڈیبیٹ کے بعد بعض حلقوں میں ایک سوال شدت سے اٹھا کہ کیا خدا کے وجود کے منکرین کے ساتھ مکالمہ یا ڈیبیٹ اسلامی تعلیمات کے نقطۂ نظر سے درست ہے؟ اس سلسلے میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے افراد سے بات کرنے کا مطلب عقیدے کو خطرے میں ڈالنا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ آج خدا پر بحث ہوگی تو کل حضور اکرم ﷺ اور قرآن و سنت پر سوال اٹھائے جائیں گے۔ مگر اس طرح کے خیالات کے بر عکس اسلامی تعلیمات اس معاملے میں نہایت متوازن رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ اسلام نہ تو سوال سے خوف زدہ ہوناسکھاتا ہے اور نہ ہی بے لگام مناظرے کی اجازت دیتا ہے۔ قرآن مجید خود غور و فکر اور تدبر کی دعوت دیتا ہے، اور ساتھ ہی مکالمے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے اصل مسئلہ مکالمہ نہیں، بلکہ مکالمے کا انداز اور مقصد ہے۔ قرآن مجید واضح ہدایت دیتا ہے:’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ، اور ان سے بہترین طریقے سے بحث کرو‘‘( النحل: 125)۔اس طرح کی دیگر قرآنی آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ اصولی، مہذب اور علمی مکالمہ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے، بشرطیکہ مقصد حق کی وضاحت ہو، نہ کہ تضحیک یا اشتعال۔ دہلی کی یہ ڈیبیٹ دراصل اسی قرآنی اصول کی عملی مثال ہے کہ اختلاف کو دشمنی کی سطح تک لے جانے کے بجائے مکالمے کا ذریعہ بنایا جائے۔ خدا کے وجود کا اعتراف انسان کو اخلاقی جواب دہی اور مقصدِ حیات کا شعور دیتا ہے، اور اسی شعور کے ساتھ کیا گیا مکالمہ معاشرے کو تصادم نہیں بلکہ فکری بلوغت کی طرف لے جا سکتا ہے۔
آج جب معاشرہ مذہب اور عدمِ مذہب کے نام پر شدید تقسیم کا شکار ہے، اس طرح کی بین المذاہب اور بین النظریاتی گفتگو وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ اگر خدا کے وجود کے منکرین، مختلف مذاہب کے ماننے والے، اور مختلف فکری دھاروں کے افراد کھلے دل سے ایک دوسرے کی بات سنیں، تو اختلاف دشمنی میں بدلنے کے بجائے فہم و برداشت میں ڈھل سکتا ہے۔ یہی مکالمہ آگے چل کر اس ماحول کو روک سکتا ہے، جہاں مذہب یا نظریے کے نام پر نفرت اور فسادات جنم لیتے ہیں۔
****

