تاثیر 22 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
جموں, 22 دسمبر:بی جے پی سمیت متعدد ہندو تنظیموں نے پیر کے روز جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں بنگلہ دیش میں اقلیتی ہندو برادری کے خلاف مبینہ طور پر ہونے والے حملوں، آتش زنی، لوٹ مار اور قتل کے واقعات کے خلاف احتجاج کیا۔سناتن دھرم سبھا کی جانب سے دی گئی بند کی کال کے پیش نظر کشتواڑ میں کئی دکانیں اور تجارتی ادارے بند رہے۔سنتن دھرم سبھا کے صدر مہنت رام شرن داس آچاریہ کی قیادت میں مختلف ہندو تنظیموں نے کلید چوک میں بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مبینہ مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں مندروں پر حملوں اور خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کی مذمت کی گئی۔
احتجاج کرنے والوں نے دھرنا دے کر بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے ساتھ جاری مبینہ ظلم و ستم پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سنیل شرما اور بی جے پی کے دیگر سینئر رہنما بھی دھرنے میں شامل ہوئے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے قائد حزبِ اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ آج کشتواڑ میں بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ سناتن دھرم سبھا کی اپیل پر کشتواڑ میں مکمل بند رہا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ہندو بنگلہ دیش میں ظلم کا شکار اپنی برادری کے افراد کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’ہندوؤں پر حملے ہو رہے ہیں، مندروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دیپو نامی فیکٹری مزدور کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔‘

