کوئی بھی چیلنج ناقابل تسخیر نہیں

تاثیر 3 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

دنیا کا سب سے متحرک اور کثیر الثقافتی شہر، نیو یارک نےایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔1 جنوری، 2026 کو حلف برداری کے بعد زہران کوامے ممدانی نے شہر کے 112ویں میئر کے طور پراپنی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ رسمی حلف برداری نجی تقریب میں آدھی رات کے فوراً بعد تاریخی سٹی ہال کے زیر زمین سب وے اسٹیشن میں ہوئی۔ اس کے بعد عوامی تقریب سٹی ہال کے باہر منعقد ہوئی۔ یہ واقعہ نہ صرف امریکہ کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے بلکہ دنیا کی ایک خاص کمیونٹی اسے اپنی ایک علامتی فتح مان رہی ہے۔ممدانی نے قرآن پاک کے دو نسخوں پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا تھا۔ اس نظارے کو پوری دنیا کی آنکھوں نے دیکھا ۔ ظاہر ہے، اس واقعے نے ممدانی کی حلف برداری تقریب کو مذہبی اور تاریخی دونوں اعتبار سے منفرد بنا دیا۔
زہران ممدانی کی کہانی سے اب پوری دنیا واقف ہو چکی ہے۔ان کی کہانی ایک مہاجر مسلم نوجوان کی جدوجہد اور کامیابی کی داستان ہے۔ 1991 میں یوگنڈا کے کمپالا میں پیدا ہونے والے ممدانی بھارتی نژاد والدین، پروفیسر محمود ممدانی اور فلم ساز میرا نائرکے ساتھ جنوبی افریقہ اور پھر نیو یارک منتقل ہوئے۔ برونکس جیسے متنوع علاقے میں پرورش پانے والے ممدانی نے افریکانا سٹڈیز میں ڈگری حاصل کی اور فلسطینی حقوق کے لئے سرگرم رہے۔ سیاست میں آنے سے پہلے، وہ فورکلوزر پریوینشن کونسلر کے طور پر غریب خاندانوں کی مدد کرتے رہے، جو ان کی سوشلسٹ فکر کی بنیاد ہے۔ 2020 میں نیو یارک اسٹیٹ اسمبلی کے لئے منتخب ہونے والے وہ پہلے جنوبی ایشیائی مرد اور تیسرے مسلمان تھے۔ 2025 کے میئر الیکشن میں ٹرمپ کی شدید مخالفت کے باوجود انہوں نے 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرکے آزاد امیدوار اینڈریو کومو اور ریپبلکن کرٹس سلیوا کو شکست دی۔ ان کی مہم رہائش، نقل و حمل اور کھانے کی سہولیات کو منصفانہ بنانے پر مرکوز تھی، جو اختتام کو پہنچتے پہنچتے نیو یارک جیسے مہنگے شہر کے عام دلوں کی آواز بن گئی۔
ماہرین کے مطابق ممدانی کی کامیابی ایک امید افزا علامت ہے۔ امریکہ میں مسلم کمیونٹی کو 9/11 کے بعد سے نفرت اور شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے، لیکن ممدانی نے اپنے مذہبی عقیدے کو چھپانے کے بجائے اسے اپنی طاقت بنایا۔ اکتوبر میں ایک متنازع امام کے ساتھ تصویر پر تنقید کا سامنا کرتے ہوئے انہوں نے ببانگ دہل کہا تھا کہ ’’ہر مسلمان کا خواب یہ ہے کہ اسے دوسرے نیو یارکر کی طرح سمجھا جائے۔‘‘ ممدانی کاقرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھانا مذہبی آزادی کا کھلااظہار ہے۔ یہ قدم مسلم کمیونٹی کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ اپنی شناخت پر فخر کرتے ہوئے اعلیٰ عہدوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ عوامی تقریب میں سینیٹر برنی سینڈرز اور کانگریس وومن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کی شرکت بائیں بازو کی اتحادیوں کی طرف سے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔
اِدھر ممدانی کو تنازعات کا بھی سامنا ہے۔حلف برداری تقریب اور ان کی تقریر کے حوالے سے، سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آرہاہے۔کچھ لوگ اسے تاریخی لمحہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسرے چند لوگوں کوممدانی کا یہ عمل ان کی سیکولر شناخت سے ہٹتا ہوانظر آرہا ہے۔ سب سے بڑےتنازعے کا سبب ممدانی کا دہلی دنگوں کے ملزم عمر خالد کو لکھا گیا ایک مختصر سا خط ہے، جس میں انہوں نے خالد کے لئے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ایک خاص نظریہ کے حامل سوشل میڈیا کے ذریعہ ، عمر خالد کے نام ممدانی کے خط کو ’’نفرت انگیز ایجنڈا‘‘ اور’’اسلامی چرم پنتھ کا نیا چہرہ‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہ بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ ناقدین کا سوال ہے کہ ممدانی کادہلی فسادات میں ہلاک ہونے والے ہندوؤں یا پولیس اہلکاروں کےلئے کیوں نہیں پسیجا؟ بالواسطہ یا بلا واسطہ ،یہ تنقید فلسطینی اور انسانی حقوق کے تئیں ممدانی کی حمایت سے بھی جڑی ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس حمایت کا تعلق صرف انسانی حقوق کے تحفظ سے ہے۔اس کا دہشت گردی سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔
یہ سب جانتے ہیں کہ اسلام ہمدردی، انصاف اور مظلوموں کی آواز اٹھانے کی تلقین کرتا ہے۔ ممدانی، جو خود ایک مہاجر مسلم ہیں،فلسطینی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے تئیں ان کے قول و فعل کو ان کے تلخ تجربات و مشاہدات کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہئے۔یہ الگ بات ہے کہ ترجیحی بنیاد پر سب سے پہلے ممدانی کواپنی ذمہ داریوں کو فوقیت دینی چاہئے۔نیو یارک کے جرائم، بے گھری اور معاشی مسائل پر فوری توجہ ضروری ہے۔ ناقدین کو بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ امریکہ کی سیکولر جمہوریت میں مذہبی اظہار کوئی جرم نہیں ہے۔حالانکہ تمام تر مثبت و منفی خیالات و نظریات کےباوجود آج پوری دنیا یہ تسلیم کر رہی ہے کہ ممدانی کی میئرشپ ، اپنے عزم اور حوصلہ پر یقین رکھنے والے نوجوانوں کے لئے ایک امید کی کرن ہے۔ ممدانی کی کامیابی یہ ثابت کررہی ہے کہ ہمارے نوجوان اپنی جدوجہد کے بل بوتے اعلیٰ سے اعلیٰ مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ حلف برداری کی تقریر میں ممدانی نے’’سب کے لئے انصاف ‘‘کے وعدے پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تاہم، غیر ضروری تنازعات سے بچنے کےلئے انہیں متوازن پالیسیاں اپنانی چاہئیں۔بہر حال نیو یارک کی یہ تبدیلی دنیا بھر کے نوجوانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ امید اور اتحادکی طاقت اگر ساتھ ہو توکوئی بھی چیلنج ناقابل تسخیر نہیں ہے۔
***********