تاثیر 9 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
جموں و کشمیر کے ریاسی ضلع میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لنس (ایس ایم وی ڈی آئی ایم ای) سے متعلق نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) کا 6 جنوری، 2026 کا فیصلہ ملک کی طبی تعلیم کے حوالے سے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ این ایم سی نے 8 ستمبر 2025 کو جاری کردہ 50 ایم بی بی ایس سیٹوں کے’’ لیٹر آف پرمیشن‘‘ کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا فوری سبب ادارے میں کم از کم معیارات کی سنگین خلاف ورزیاں بتائی گئی ہیں، جن کی نشاندہی 3 جنوری، 2026 کو کیے گئے اچانک معائنے میں ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی کالج کی بینک گارنٹی بھی ضبط کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایک طرف طبی تعلیم کے معیار کی حفاظت کا پیغام دیتی ہے، تو دوسری طرف ایک نئے ادارے کے بند ہونے سے طلبہ کے مستقبل اور ملک میں ڈاکٹروں کی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش پر سوالات بھی کھڑا کرتی ہے۔
اس واقعے کے گرد دو مختلف بیانیے گھوم رہے ہیں۔ ایک طرف ہندوتوا تنظیموں اور’’شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی‘‘ کا موقف ہے کہ چونکہ یہ ادارہ ہندوتیرتھ یاتریوں کے عطیات سے چلتا ہے، اس لئے داخلے میں ہندو طلبہ کو ترجیح ملنی چاہئے۔ پہلے بیچ میں 50 طلبہ میں سے 47 مسلمان، ایک سکھ اور صرف دو ہندو ہونے پر نومبر، 2025 سے احتجاج شروع ہوئے، جن میں بجرنگ دل جیسے گروہوں نے ادارے میں گھس کر مظاہرہ بھی کیا۔ دوسری طرف جموں و کشمیر حکومت اور چیف منسٹر عمر عبداللہ کا واضح موقف ہے کہ یہ ادارہ شرائن بورڈ کے تحت ہے، مگر اسے حکومت سے بھی بڑی رقم (پچھلے دو سالوں میں 50 کروڑ سے زائد) ملتی ہے اور یہ کسی اقلیتی ادارے کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہے۔ لہٰذا داخلہ میرٹ (نیٹ)کی بنیاد پر ہی ہوگا، مذہب کی بنیاد پر نہیں۔
این این ایم سی نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا ہے کہ یہ کارروائی صرف انتظامی اور معیارسے متعلق خلاف ورزیوں کی وجہ سے کی گئی ہے، نہ کہ مذہبی تنازع کی وجہ سے۔ متاثرہ طلبہ کو دیگر تسلیم شدہ میڈیکل کالجوں میں سپر نیومری نشستوں پر منتقل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ چیف منسٹر عمر عبداللہ نے بھی اسے یقینی بنانے کے لئے ہیلتھ منسٹر کو ہدایت دے دی ہے کہ طلبہ کو ان کے گھروں کے قریب واقع کالجوں میں جگہ دی جائے۔
یہ پورا واقعہ ہمیں دو اہم سبق دیتا ہے۔ پہلا، طبی تعلیم میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ این ایم سی کی سخت پالیسی اس بات کی ضمانت ہے کہ نئے ادارے بھی اعلیٰ ترین معیار پر پورا اترنے کے بعد ہی کام شروع کر سکیں گے۔ دوسرا، ملک کو میڈیکل تعلیم کے تیزی سے فروغ کی ضرورت ہے۔ بھارت میں فی ہزار افراد پر ڈاکٹرز کی تعداد اب بھی 1 سے کم ہے، جبکہ عالمی اوسط 1.6 کے قریب ہے۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں یہ تناسب اور بھی خراب ہے۔ جموں و کشمیر جیسے علاقے میں ایک نیا میڈیکل کالج نہ صرف مقامی طلبہ کے لئے مواقع بڑھاتا، بلکہ علاقائی صحت کی خدمات کو بھی بہتر کرتا۔ چیف منسٹر کا کہنا ہے کہ اگر یہ ادارہ جاری رہتا تو چند سالوں میں اس کی گنجائش 400 سیٹوں تک پہنچ جاتی، جن میں سے 250 جموں و کشمیر کے طلبہ کے لئے ہوتے۔
چنانچہ ضروری ہے کہ ہم معیار کی حفاظت اور فروغ دونوں کو بیک وقت ترجیح دیں۔ حکومت اور این ایم سی کو چاہئے کہ وہ نئے اداروں کے لئے واضح رہنمائی، تکنیکی معاونت اور بروقت معائنہ کا نظام مضبوط کریں تاکہ ایسے ادارے معیارات پر پورا اترنے سے پہلے ہی بند نہ ہوں۔ ساتھ ہی سماج کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے مذہبی یا علاقائی سیاست سے بالاتر ہیں۔ میرٹ پر مبنی داخلہ نہ صرف آئینی ہے بلکہ ایک صحت مند اور منصفانہ معاشرے کی بنیاد بھی ہے۔
ظاہر ہے ، شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لنس کے متاثرہ طلبہ اپنے مستقبل کے لئے فکر مندں ہوں گے۔حالانکہ انہیں تسلی دی گئی ہے کہ ان کی تعلیم جاری رہے گی، مگر یہ واقعہ ہمیں باور کراتا ہے کہ تعلیم کی راہ میں کسی بھی قسم کا تعصب یا سیاسی مداخلت ملک کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ ہمیں ایک ایسا نظام چاہئے جہاں معیار برقرار رہے، نئے ادارے کھلیں اور میرٹ رکھنے والئے ہر ایک طالب علم کو، مذہب اور علاقہ سے بالا تر ہوکر ڈاکٹر بننے کا خواب پورا کرنے کا بھرپور موقع مل سکے۔یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم سب مل کر میڈیکل تعلیم کو ایک قومی ترجیح بنائیں، تاکہ بھارت ایک صحت مند اور متحد ملک بن سکے۔ ہمیں چاہئے کہ تعلیم کی راہ میں مذہبی دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے ایک پل بنائیں، جو سب کو جوڑکر ملک کو آگے بڑھانے میں معاون ہو سکے۔

