تاثیر 12 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بھاگلپور ( منہاج عالم) مسلم ایجوکیشن کمیٹی، بھاگلپور کے زیرِ اہتمام ممتاز صحافی، اردو زبان کے سچے علمبردار، سماجی بیداری کے علم اور حق گوئی کی علامت مرحوم غلام سرور کے یومِ پیدائش کے موقع پر یومِ اردو کی ایک باوقار اور یادگار علمی و ادبی تقریب منعقد کی گئی۔ اس تقریب کا بنیادی مقصد مرحوم غلام سرور کی بے مثال صحافتی، سماجی اور لسانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو اردو زبان کی تہذیبی، ادبی اور فکری اہمیت سے روشناس کرانا تھا تاکہ اردو کے فروغ کے لیے ایک نئی فکری تحریک کو تقویت مل سکے۔تقریب کی صدارت مسلم ایجوکیشن کمیٹی کے صدر انجنیئر محمد اسلام نے کی، جب کہ نظامت کے فرائض کمیٹی کے جنرل سکریٹری پروفیسر ڈاکٹر فاروق علی نے نہایت خوش اسلوبی، متانت اور فکری گہرائی کے ساتھ انجام دیے۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد مرحوم غلام سرور کی حیات، جدو جہد اور اردو زبان کے لیے ان کی بے لوث خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔اس موقع پر مہمانِ خصوصی کے طور پر مونگیر یونیورسٹی، مونگیر کے یونیورسٹی پی جی اردو ڈپارٹمنٹ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر شاہد رضا جمال نے نہایت جامع، مدلل اور اثر انگیز خطاب کیا۔ انہوں نے مرحوم غلام سرور کو ایک نڈر، بیباک اور اصول پسند صحافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ غلام سرور مرحوم نے صحافت کو صرف خبر رسانی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماجی اصلاح اور عوامی بیداری کا ایک مؤثر ذریعہ بنایا۔ ان کا قلم ہمیشہ مظلوموں، کمزوروں اور حق سے محروم طبقوں کی آواز بنتا رہا۔پروفیسر شاہد جمال نے کہا کہ غلام سرور مرحوم اردو زبان کے صرف ایک خیر خواہ نہیں بلکہ ایک سچے مجاہد تھے، جنہوں نے اردو کے فروغ کے لیے عملی طور پر ایک منظم تحریک چلائی۔ انہوں نے کہا کہ غلام سرور مرحوم نے ایسے وقت میں اردو کی خدمت کی جب اس زبان کو نظرانداز کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں، مگر انہوں نے نہ جھکنے کا راستہ اختیار کیا اور نہ سمجھو تہ کیا۔ ان کی انتھک محنت، فکری بصیرت اور مسلسل جدو جہد کے نتیجے میں بہار میں اردو کو ایک نئی شناخت ملی اور اردو صحافت کو ایک مضبوط سمت نصیب ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ الحاج غلام سرور صاحب نے پہلی دفعہ اردو کے کاز کو 1967 میں انتخابات کا ایجنڈا بنایا تھاجو ایک تاریخی اور قابل تحسین قدم تھا. انہوں نے یومِ اردو کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے مختلف اہم شخصیات کے یومِ پیدائش اور یومِ وفات کا حوالہ دیا اور زور دیا کہ اردو داں طبقہ کسی ایک متفقہ دن کو یومِ اردو کے طور پر منانے پر اتفاق کرے، تاکہ اردو کے فروغ کے لیے مشترکہ جدوجہد کو مزید تقویت حاصل ہو اور نئی نسل اردو سے مضبوط رشتہ قائم کر سکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم ایجوکیشن کمیٹی کے جنرل سکریٹری پروفیسر ڈاکٹر فاروق علی نے کہا کہ مرحوم غلام سرور اردو زبان کے لیے ایک ادارے کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ غلام سرور مرحوم نے اردو کی خدمت اتحاد، اخلاص اور مسلسل محنت کے ساتھ کی، جو آج کے دور میں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غلام سرور مرحوم کی جدوجہد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زبانوں کی بقا صرف تقریروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ممکن ہوتی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر فاروق علی نے مزید کہا کہ غلام سرور مرحوم نے اردو صحافت کو دیانت، حق گوئی اور عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ ان کا قلم کبھی مفاد پرستی کا شکار نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ سچ کے ساتھ کھڑا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج اردو کو درپیش مسائل کا سنجیدگی سے مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں غلام سرور مرحوم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اتحاد، تنظیم اور مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔اس موقع پر ڈاکٹر حبیب مرشد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرحوم غلام سرور نے اپنے اخبار کے ذریعے نہ صرف سماج بلکہ حکومت کو بھی جواب دہ بنانے کا کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ غلام سرور مرحوم کا قلم اتنا طاقتور تھا کہ اس کی بازگشت حکومتی ایوانوں تک سنائی دیتی تھی، جو ایک سچے اور باوقار صحافی کی پہچان ہے۔تقریب میں اردو گرلز اسکول کی ٹیچر انیتا کماری، محبوب عالم، قمر امان، ظفر اقبال ,منٹو کلاکار اور دیگر مقررین نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے مرحوم غلام سرور کی صحافتی، سماجی اور لسانی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ اردو ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت ہے اور اس کے تحفظ و فروغ کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔تقریب کے اختتام پر اردو اخبارات کے نمائندوں اور رپورٹروں کو ان کی خدمات کے اعتراف میں شال اور ڈائری پیش کر کے اعزاز سے نوازا گیا۔ آخر میں صدرِ جلسہ انجنیئر محمد اسلام نے تمام مہمانوں، مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسی علمی و ادبی تقریبات اردو کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوں گی اور نئی نسل کو اردو سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرنے میں معاون ہوں گی۔

