بحث اور اختلاف جمہوریت کی روح ، لیکن فیصلہ سازی اور تعاون لازمی ہے: نائب صدر جمہوریہ

تاثیر 12 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

تنقیدی سوچ جے این یو کی روح ہے: دھرمیندر پردھان

نئی دہلی، 12 جنوری :۔نائب صدرجمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے پیر کے روز کہا کہ بحث، مباحثہ، اختلاف رائے اور یہاں تک کہ تنازعات بھی صحت مند جمہوریت کے ضروری عناصر ہیں، لیکن ان کا مقصد بالا?خر فیصلہ تک پہنچنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایک بار فیصلہ ہو جانے کے بعد اس کے موثر اور ہموار نفاذ کے لیے اجتماعی تعاون ضروری ہے۔
نائب صدرجمہوریہ یہاں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے نویں کانووکیشن (تقسیم اسناد کی تقریب)سے خطاب کررہے تھے۔ فارغ التحصیل طلباء￿ کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنے علم اور ہنر کو قوم کی خدمت کے لیے وقف کریں۔
جے این یو کی جمہوری روایت کا تذکرہ کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں فکر، بحث، مباحثہ، اختلاف رائے اور ذہن سازی کی ا?زادی انتہائی اہم ہے، لیکن ہموار انتظامیہ اور قوم کی تعمیر کے لیے اندازہ اور تعاون کا جذبہ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
سوامی وویکانند کے یوم پیدائش پر ان کے خیالات کو یاد کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس کا مقصد کردار سازی، فکری بااختیار بنانا اور خود انحصاری ہونا چاہئے۔ صرف تعلیم اور مناسب تربیت کے ذریعے ہی ہندوستان کے نوجوان وزیر اعظم نریندر مودی کے’’وکست بھارت -2047‘‘ کے وڑن کو پورا کر سکتے ہیں۔
ہندوستان کی قدیم علمی روایت کا تذکرہ کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے نالندہ اور تکشیلا جیسے قدیم علمی مراکز کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنشد، بھگود گیتا، کوٹیلیہ کا ارتھ شاستر اور تروکرل جیسی تحریریں تعلیم کو سماجی اور اخلاقی زندگی کا مرکز مانتی ہیں۔