وزیر اعلی نے سمریدھی یاترا 2026 کے تحت منعقد عوامی سمواد پروگرام میں شرکت کی

تاثیر 16 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

 سمریدھی یاترا 2026 کے تحت منعقدہ عوامی سمواد پروگرام میں حصہ لیا۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ این ڈی اے حکومت پہلی مرتبہ بہار میں 24 نومبر 2005 کو تشکیل دی گئی تھی، تب سے ریاست میں قانون کی حکمرانی موجود ہے اور ہم مستقل طور پر ترقی کے کام میں مصروف ہیں۔ 2005 سے پہلے بہار کی کیا حالت تھی۔ شام کے بعد لوگ گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ سماج میں بہت تنازعہ تھا، ہر روز ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین تنازعہ ہوتا تھا۔ نظام تعلیم خراب حالت میں تھا۔ بہت کم پڑھتے تھے۔ علاج کے لئے کوئی مکمل انتظامات نہیں تھے۔ بہت کم سڑکیں تھیں اور جو تھیں وہ خراب حالت میں تھیں۔ بجلی کی فراہمی بہت کم جگہوں پر تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم شروع سے ہی بہار کے ترقیاتی کاموں میں مصروف ہیں۔ اب کسی بھی طرح کے خوف اور دہشت کا کوئی ماحول نہیں ہے۔ پوری ریاست میں محبت، بھائی چارے اور امن کا ماحول ہے۔ ہندو مسلم تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے، قبرستان کی گھیرا بندی 2006 سے شروع کی گئی۔ بڑے پیمانے پر قبرستانوں کی گھیرا بندی کی گئی۔ اب کوئی جھگڑا یا پریشانی نہیں ہے۔ 2016 کے بعد سے، 60 سال سے زیادہ قدیم ہندو مندروں کوکی گھیرا بندی کی گئی تاکہ چوری کے واقعات وغیرہ نہ ہوں۔ سب سے پہلے، تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انہوں نے کہا ’’ہم نے بڑی تعداد میں نئے اسکول کھولے اورکنٹریکٹ اساتذہ کو بحال کیا۔ پوشاک اور سائیکل اسکیم سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے چلائی گئی۔ بہار پبلک سروس کمیشن نے سال 2023 سے 2 لاکھ 58 ہزار سرکاری اساتذہ کو بحال کیا ہے۔ سال 2006 سے، 3 لاکھ 68 ہزارکانٹریکٹ اساتذہ کو بحال کیا گیا، جن میں سے 28 ہزار 976 بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ سرکاری اساتذہ بن گئے ہیں۔ اس کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ کانٹریکٹ کے اساتذہ کو بی پی ایس سی امتحان دینے کی ضرورت نہیں ہے، انہیں ایک سادہ سا امتحان دے کر سرکاری اساتذہ بنایا جائے۔ اس کے لئے انہیں 5 مواقع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب تک 4 امتحانات کئے گئے ہیں، جس میں 2 لاکھ 66 ہزار کانٹریکٹ اساتذہ پاس ہو چکے ہیں۔ اب صرف 73 ہزار باقی ہیں جنہیں ایک اور موقع دیا جائے گا۔ اب سرکاری اساتذہ کی کل تعداد 5 لاکھ 24 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔‘‘وزیر اعلی نے کہا کہ صحت کی خدمات میں بہتری میں بہتری آئی ہے۔ اس سے قبل صحت کا نظام بہت خراب تھا، صرف 39 مریض ہر ماہ پرائمری ہیلتھ مراکز میں علاج کے لئے آتے تھے یعنی 1 یا 2 مریض ہر روز آتے تھے