مہاراشٹر کی سیاست میں نئی صف بندی کے آثار

تاثیر 18 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بی ایم سی انتخابات کے نتائج نے مہاراشٹر کی سیاسی زمین میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ انتخابات میں بی جے پی اور اس کے اتحادی شندے گروپ کی شیو سینا نے مجموعی طور پر 118 سیٹیں حاصل کر کے ایک مضبوط پوزیشن حاصل کی ہے۔ ممبئی کی میونسپل کارپوریشن کے 227 اراکین والے ایوان میں، یہ تعدا اکثریت سے آگے ہے۔ایسا لگتا ہے کہ یہ نتیجہ نہ صرف ممبئی کی انتظامیہ پر اثرانداز ہوگا بلکہ ریاستی سطح پر سیاسی اتحادوں اور تنازعات کو بھی نئی شکل دے گا۔ اب توجہ کا مرکز ممبئی کے نئے مئیر کا انتخاب ہے، جو نہ صرف سیاسی طاقت کا مرکز ہے بلکہ اربوں روپے کے بجٹ اور شہری ترقی کے منصوبوںپر بھی کنٹرول رکھتا ہے۔ اس صورتحال میں اتحادیوں کے درمیان اعتماد کی کمی، مخالفین کے طنز اور ممکنہ دلبدل کی افواہوں سےسیاسی ہلچل کا مچنا فطری ہے۔
انتخابات کے نتائج کے فوراََ بعدسے ہی شندے گروپ کی شیو سینا نے اپنے 29 منتخب پارشدوں کو ایک ہوٹل میں جمع کر کے جشن منانا شروع کر دیا ہے۔بظاہر یہ ماحول خوشی کی تقریب جیسا لگتا ہے، لیکن سیاسی حلقوں میں اسے دلبدل کی روک تھام کی حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ بی جے پی، جسے 89 سیٹیں ملی ہیں، کو اکثریت کے لئے 114 سیٹوںکی ضرورت ہے، لہذا اتحادی کی حمایت ناگزیر ہے۔ اس تناظر میں، یہ قدم اتحاد کی کمزوریوں کو بے پردہ کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف ایسا لگتا ہے کہ اتحادیوں کے درمیان باہمی اعتماد کی کمی ہے، جو ماضی کی شیو سینا کی تقسیم کی یاد دلاتی ہے۔ دوسری طرف، مخالفین جیسے ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا (یو بی ٹی) اس پر اپنی دزدیدہ نظریں گڑائی ہوئ ہے۔ ٹھاکرے کا بیان کہ بی جے پی مئیر کی کرسی کے لئے شیو سینا کو مزید توڑ سکتی ہے، اس بات کا اشارہ ہے کہ سیاسی کھیل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ جو لوگ پہلے پالا بدل چکے ہیں، وہ دوبارہ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔یعنی مہاراشٹر کی سیاست میں دلبدل کی روایت ابھی بھی کروٹیں بدل رہی ہے۔
ایسے میںمئیر کا انتخاب اب کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ 28 جنوری کو ہونے والے اس انتخاب میں ریزرویشن کی لاٹری کا کردار کلیدی سامنے آ سکتا ہے گا۔اسی وقت طے ہوگا ک مئیر کا عہدہ عام، خواتین یا محفوظ طبقات کے لئے ہوگا۔ اس کے علاوہ، ممبئی کارپوریشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد 10 نامزد پارشدوں کا اضافہ بی جے پی کو فائدہ دے سکتا ہے، کیونکہ سب سے بڑی پارٹی ہونے کے ناطے اسے ان میں سے زیادہ حصہ ملنے کی توقع ہے۔ ماضی میں مئیر کا عہدہ شیو سینا کے پاس رہا ہے، جیسے سابق مئیر کیشوری پیڈنیکر، لیکن اب یہ عہدہ اتحادیوں کے درمیان شیئرنگ فارمولے پر منحصر ہے۔ ٹھاکرے کا دعویٰ کہ ان کا مئیر بننا ایک خواب ہے، جو پورا ہو سکتا ہے، یہ بتاتا ہے کہ مخالفین بھی کوشش میں ہیں اور دلبدل کی سیاست کو ہوا دے رہے ہیں۔
یہ صورتحال مہاراشٹر کی وسیع تر سیاست پر بھی اثرانداز ہو رہی ہے۔ چیف منسٹر دیویندر فڑنویس نے صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارشدوں کے ہوٹل میں جمع ہونے کا کوئی غلط مطلب نہ نکالا جائے۔ فیصلے باہمی اتفاق سے ہوں گے۔ ان کا یہ بیان اتحاد کی مضبوطی کی جانب اشارہ ضرور کرتا ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کو اپنے مئیر کے لئے شندےگروپ کی حمایت کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے برعکس، این سی پی کے دونوں گروپ میں اتحاد کی باتیں تیز ہو گئی ہیں۔ اجیت پوار کی شرد پوار اور سپریا سلی سے ملاقات، اور ضلع کونسل انتخابات میں مشترکہ لڑائی کا اعلان، یہ اشارہ دیتا ہے کہ انتخابات کی ناکامی نے مخالفین کو متحد کر دیا ہے۔ پونے اور پمپری چنچواڑ میں ناکامی کے باوجود، یہ اتحاد ریاستی سطح پر بی جے پی اتحاد کے لئے چیلنج ثابت ہو سکتاہے۔
مجموعی طور پر، بی ایم سی کے نتائج نے مہاراشٹر کی سیاست میں نئی صف بندی کو ہوا دیدی ہے۔ ایک طرف بی جے پی اور شندے اتحاد کی کامیابی ہے، جو ممبئی کی ترقیاتی پالیسیوں کو اپنے رنگ میں رنگ سکتی ہے۔ دوسری طرف، ادھو ٹھاکرے اور این سی پی کی کوششیں یہ بتاتی ہیں کہ مخالفین اب بھی سرگرم ہیں اور مئیر کی ریس کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال جمہوریت کی خوبصورتی ہے کہ کوئی بھی نتیجہ حتمی نہیں ہوتا، بلکہ اس کا انحصارسیاسی حکمت عملی اور اتحاد پر ہوتا ہے۔ تاہم، یہ بھی تشویشناک ہے کہ دلبدل اور ہوٹل پالیٹکس جمہوری اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ عوام کی توقع ہے کہ سیاست دان ممبئی کی مسائل جیسے انفراسٹرکچر، پانی اور صفائی پر توجہ دیں، نہ کہ صرف کرسی کی لڑائی پر۔ آنے والے دنوں میں مئیر کا انتخاب نہ صرف ممبئی بلکہ مہاراشٹر کی سیاست کا رخ بدل سکتا ہے۔بہر حال یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ سیاسی مفاد کے آگے یہ سیاسی اتحاد کتنے دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔