پاٹلی پتر یونیورسٹی کی سینیٹ میں نالندہ کی اعلیٰ تعلیم کا مسئلہ گونجا، منّا صدیقی نے مضبوطی سے رکھے مطالبات

تاثیر 21 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بہار شریف،21 جنوری (دانش)پاٹلی پتر یونیورسٹی کی دسویں سینیٹ میٹنگ میں سینیٹ رکن منّا صدیقی نے نالندہ ضلع ہیڈکوارٹر سمیت پورے علاقے سے جڑے اعلیٰ تعلیم کے کئی نہایت اہم، سنگین اور فوری نوعیت کے مسائل کو یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے پوری مضبوطی اور ٹھوس حقائق کے ساتھ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی، تعلیمی اور ثقافتی اعتبار سے دنیا بھر میں معروف نالندہ ضلع میں اعلیٰ تعلیم کا موجودہ نظام طلبہ و طالبات کی تعداد اور ضروریات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے، جس کا براہِ راست اثر بالخصوص طالبات اور اقلیتی طبقے کے طلبہ پر پڑ رہا ہے۔سینیٹ میٹنگ میں منّا صدیقی نے نالندہ مہیلہ کالج، نالندہ کا مسئلہ خاص طور پر اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ضلع کا واحد گرلس کالج ہے، جہاں فی الحال صرف گریجویشن سطح تک ہی تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ سائنس اور آرٹس کے مضامین میں پوسٹ گریجویٹ کورسز کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسرے اضلاع کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی سلامتی، مالی حالت اور تعلیمی تسلسل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کالج کی بنیادی سہولیات کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔ عمارتوں کی شدید کمی ہے اور جو عمارتیں موجود ہیں وہ خستہ حالی کا شکار ہیں۔ انتظامی عمارت، طالبات کے لیے کامن روم، کھیل کا میدان اور جدید لیبارٹریوں جیسی سہولیات کا فقدان ہے۔ زمین کی قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے کالج کیمپس میں کثیرالمنزلہ عمارت کی تعمیر کی ضرورت پر بھی زور دیا۔منّا صدیقی نے یہ بھی کہا کہ طالبات کے لیے قائم اس کالج میں اس وقت ایک مرد پرنسپل تعینات ہیں، جو پٹنہ میں مقیم ہیں اور مہینے میں بمشکل ایک یا دو دن ہی کالج آ پاتے ہیں، جس کے باعث تعلیمی اور انتظامی نظام متاثر ہو رہا ہے۔ طالبات کے مفاد، وقار اور سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے مستقل طور پر دستیاب خاتون پرنسپل کی فوری تقرری کا مطالبہ کیا۔میٹنگ میں انہوں نے صغریٰ کالج، بہار شریف میں اردو کے ساتھ ساتھ دیگر مضامین میں بھی پوسٹ گریجویٹ کورسز شروع کرنے کی مانگ اٹھائی اور کہا کہ اس سے اقلیتی طبقے سمیت ضلع کے طلبہ و طالبات کو مقامی سطح پر اعلیٰ تعلیم کا موقع مل سکے گا۔ اس کے علاوہ نالندہ ضلع ہیڈکوارٹر میں واقع نالندہ کالج، کسان کالج اور ایس پی ایم کالج میں جاری پی جی کورسز کی سیٹوں کو طلبہ کی تعداد کے مقابلے میں نہایت کم قرار دیتے ہوئے ان میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔سینیٹ میٹنگ کے دوران یہ جانکاری بھی دی گئی کہ پاٹلی پتر یونیورسٹی کا مستقل کیمپس بختیارپور میں زیر تعمیر ہے۔ اس موقع پر منّا صدیقی نے اس علاقے کا نام بہار کے وزیر اعلیٰ اور ترقیاتی مردِ آہن جناب نتیش کمار کے نام پر “نتیش نگر، بختیارپور” رکھنے کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے بھرپور حمایت کی۔ ساتھ ہی انہوں نے نالندہ ضلع اور پٹنہ ضلع کے دیگر کالجوں کا نام بھی وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے نام پر رکھنے کی درخواست کی۔آخر میں منّا صدیقی نے کہا کہ ان کے ذریعے اٹھائے گئے تمام مسائل نالندہ اور آس پاس کے اضلاع کے طلبہ و طالبات، بالخصوص طالبات کے مستقبل سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونیورسٹی انتظامیہ ان معاملات پر سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ غور کرے گی اور جلد ہی مثبت فیصلے لے گی۔