تاثیر 23 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
وطن عزیز بھارت، جو اپنے کثیر المذاہب اور کثیر الثقافتی ڈھانچے کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک مثال سمجھا جاتا ہے، آج ایک سنگین بحران سے دوچار ہے۔ پچھلے دنوں اڑیسہ میں ایک مسیحی پادری بپن بہاری نائک پر ہونے والا وحشیانہ حملہ اس بحران کی ایک تازہ مثال ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، 4 جنوری کو پیش آنے والے اس واقعے میں مبینہ طور پر دائیں بازو کی ہندو تنظیموں سے منسلک چند افراد نے پادری کو زدوکوب کیا، ان کے چہرے پر سندور مل دیا، گلے میں چپلوں کا ہار پہنایا، گاؤں میں گھمایا، نالی کا گندا پانی پلایا اور ایک مندر کے سامنے سجدہ کرنے کے ساتھ جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیا۔ پولیس نے 13 جنوری کو کیس درج کیا اور چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا، جبکہ کئی دیگر کی تلاش جاری ہے۔ یہ واقعہ محض ایک فرد پر حملہ نہیں، بلکہ بھارت کے سیکولر اصولوں اور مذہبی ہم آہنگی پر حملہ ہے۔ اس طرح کی کارروائیاں، جو بھگوا گمچھا دھاری ’’ہندوتو وادی غنڈوں ‘‘کی طرف سے کی جاتی ہیں، ملک میں نفرت کا زہر گھول رہی ہیں اور مسلسل اقلیتوں کو جہاں تہاں نشانہ بنا رہی ہیں۔
یہ کوئی اچانک واقعہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل رجحان کا حصہ ہے۔ 2014 میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد سے، اس طرح کی لاقانونیت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔جہاں بھی موقع ملتا ہے، ان بھگوا دھاری غنڈوں کے ذریعہ مسلمانوں کو، ان کی وضع قطع کی بنیاد پر روکا جاتا ہے، زدوکوب کیا جاتا ہے، جبراََ ان سےجے شری رام کے نعرےلگوائے جاتے ہیں، انھیں گوبر کھلایا جاتا ہے یاپھر چوری یا گاؤ کشی کا الزام لگا کر لنچنگ کی جاتی ہے۔ مسیحی برادری بھی اس کی زد میں ہے، جہاں مشنریوں پر جبراََ تبدیلیٔ مذہب کا الزام لگا کر عبادت گاہوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔ اڑیسہ میں ہی حالیہ مہینوں میں مسیحی تقاریب پر متعدد حملے ہوئے ہیں۔ یہ کارروائیاں بھارت کے آئین کی روح کے خلاف ہیں، جو تمام مذاہب کو برابرکے حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 14، 15 اور 25 اس کی واضح مثالیں ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب ہجوم کی سیاست قانون سے بالاتر ہو جائے، تو جمہوریت کا ڈھانچہ کمزورہونا طے ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان غنڈوں کی کارستانیوں سے سماج ڈرا سہما ہوا ہے۔ ایک طرف وہ ’’راشٹر واد اور سناتن واد‘‘ کے نام پر اکثریتی جذبات کو ہوا دیکر ملک کی اقلیتی آبادی کو احساس عدم تحفظ کا شکار بناتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کا شدید ردعمل سامنے آیاہے۔ بعض مبصرین نے اسے گری ہوئی حرکت اور ملک کوتاریک دور میں دھکیلنے کی کوشش کہا ہے۔ کچھ صارفین نے سپریم کورٹ سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ تاہم، افسوسناک طور پرچند عناصر اس کی حمایت بھی کرتے ہیں، جیسا کہ ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ ’’مذہب تبدیل کرنے والوں کو ایسی ہی عزت دینی چاہیے۔ ‘‘یہ بیانیہ نفرت کو جائز قرار دیتا ہے، جو بھارت کی گنگا جمنی تہذیب کے لئے خطرہ ہے۔ مسیحی فورم کے سربراہ ارون پنا لال کا کہنا ہے کہ اگر اس کے خلاف آواز نہ اٹھی تو سب کچھ منتشر ہو جائے گا۔ بی جے پی کی جانب سے اسے سیاسی رنگ دینے کا الزام لگانا بھی غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے، کیونکہ یہ واقعات ان کی حکومت کے دور میں ہی بڑھے ہیں۔ اپوزیشن پارٹی بی جے ڈی نے اسے افسوسناک قرار دیا ہے، جو ریاست کی مذہبی ہم آہنگی کی خلاف ورزی ہے۔
اس صورتحال پر قابو پانے کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے پہلے، حکومت کو سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ اڑیسہ میں بی جے پی کی حکومت ہونے کے باوجود، پولیس کی تاخیر سے کیس درج کرنا بالواسطہ طور ہر لاقانونیت کی حوصلہ افزائی ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت دینی چاہیے کہ ایسے ہجومی تشدد میں ملوث افراد کی فوری گرفتاریاں ہوں اور ان کے خلاف مقدمات کو جلد نمٹایا جائے۔ ان غنڈوں کو سیاسی سرپرستی دینے والوں کو بھی جوابدہ بنایا جائے۔ساتھ ہی اس سلسلے میں سیول سوسائٹیز کے لوگوں کو بھی آگے آنا چاہئے۔ضرورت ہے کہ دانشور، سماجی کارکنان، مذہبی رہنما اور عام شہری مل کر بین المذاہب مکالمے کو فروغ دیں۔ سوشل میڈیا پر مثبت مہمات چلائی جائیں۔ کرسچین فورم جیسی تنظیموں اور مسلم اداروں کومل کر ایسے واقعات کے خلاف جمہوری اقدام کرتے ہوئے عوام سے امن کی اپیل کرنی چاہئے۔
اس کے علاوہ عدلیہ کو اس کا از خود نوٹس لیتے ہوئے تاریخ ساز فیصلہ لینا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے ماضی میں لنچنگ اور نفرت انگیز تقریروں پر نوٹس لیے ہیں۔ اس واقعے میں بھی عدالت کو ریاستی حکومت سے وضاحت طلب کرنی چاہیے اور ہجوم کی لاقانونیت کے خلاف سخت ہدایات جاری کرنی چاہئیں۔ ایک جامع فیصلہ ،جو مذہبی آزادی کو مضبوط کرے اور غنڈہ گردی کو روکے، بھارت کی جمہوریت کو بچا نے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ہمیں یہ ہر گز نہیں بھولنا چاہئے کہ بھارت کی خوبصورتی اس کی تنوع میں ہی مضمر ہے۔ اگر نفرت کی یہ آگ بروقت بجھائی نہ گئی تو ملک کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ حکومت، سیول سوسائٹی اور عدلیہ کے مشترکہ کوششوں سے ہی ہم ایک پرامن اور سیکولر بھارت کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ یہ وقت عمل کا ہے، ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

