عالمی میڈیا اور عالمی رہنماؤں کی جانب سے بھارت–یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کا خیرمقدم

TAASIR:-  Syed M Hassan-29 JAN-2026

بھارت -یورپی یونین  آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کی تکمیل پر دنیا بھر سے زبردست  مثبت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا، غیر ملکی سیاسی قیادت، عالمی کاروباری رہنماؤں اور معروف پالیسی ماہرین نے اس معاہدے کی  بہت تعریف کی  ہے۔ اس معاہدے کو معاشی اور جغرافیائی  وسیاسی دونوں اعتبار سے تاریخی، اسٹریٹجک اور بروقت قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا

دنیا کے بڑے اور معتبر میڈیا اداروں نے بھارت -یورپی یونین  آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے دائرۂ کار، اہمیت اور  اسٹریٹجک  لحاظ سے مناسب وقت کو نمایاں طور پر اجاگر کیا ہے۔

دی ٹیلی گراف نے جیمز کرسپ کے مضمون’’ مودی از ریئل ونر ان مدر آف آل  ٹریڈ ڈیلز ود ای یو‘‘ میں  اس معاہدے کو ’’تمام تجارتی معاہدوں میں سب سے اہم معاہدہ ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے بھارت  ایک بڑے اسٹریٹجک فاتح ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ اخبار کے مطابق اس معاہدے کے تحت یورپی یونین کی بھارت کو ہونے والی  برآمدات پر 96.6 فیصد محصولات ختم یا کم کیے جائیں گے، جبکہ یورپی یونین سات سال کے اندر بھارت کی 99.5 فیصد اشیا ءپر محصولات کم کرے گی۔

دی وال اسٹریٹ جرنل نے اس معاہدے کو عالمی سطح پر  محصولات میں پیدا ہونے والی غیر یقینی کی صورتحال  کے جواب کے طور پر پیش کیا  ہے اور بتایا کہ امریکہ کی تجارتی پالیسیوں سے پیدا ہونے والے غیر یقینی کے حالات کے  دوران بھارت اور یورپی یونین اپنے اتحاد  کومضبوط کر رہے ہیں۔

دی نیویارک ٹائمز نے زور دیا  ہے کہ یہ معاہدہ تقریباً دو دہائیوں کی بات چیت کے بعد دنیا کے سب سے بڑے معاشی بلاک اور تیزی سے ترقی کرتی بڑی معیشت کو ایک ساتھ لاتا ہے۔

دی واشنگٹن پوسٹ نے اسے تاریخی معاہدہ قرار دیتے ہوئے سرخی لگائی ہے:’’انڈیا اینڈ ای یو  کلنچ دی مدر آف آل ڈیلز: ای یو اینڈ انڈیا سائن فری ٹریڈ ایگریمنٹ‘‘ یعنی بھارت اور یورپی یونین نے تاریخی آزاد تجارتی معاہدہ  مکمل کرکےتمام معاہدوں  میں سب سے اہم معاہدہ کیا ہے۔

دی گارجین نے بھی اسے ’’تمام معاہدوں میں سب سےاہم ‘‘ قرار دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ یورپی یونین اور بھارت نے آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

اسی طرح بی بی سی کی سرخی ہے:’’بھارت اور یورپی یونین نے تمام تجارتی معاہدوں  میں سب سے اہم معاہدے   کا اعلان کر دیا۔‘‘

بلومبرگ نے سپلائی چین کے مزید مضبوط ہونے کے امکانات پر بات کرتے ہوئے  کہا ہے کہ  گاڑیوں پر  محصول  100 فیصد سے زیادہ کی سطح سے کم ہو کر 10 فیصد تک آ جائے گی، جبکہ گاڑیوں کے کل پرزے پر محصولات مکمل طور پر ختم کر دیے جائیں گے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے  اس معاہدے کی اہمیت کو  اجاگر کرتے ہوئے لکھا ہے  کہ بھارت اور یورپی یونین نے ایسا آزاد تجارتی معاہدہ مکمل کیا ہے جو عالمی تجارت کے ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔

الجزیرہ نے بھی اس  معاہدے کی وسعت کو نمایاں کرتے ہوئے کہا  ہے کہ یہ معاہدہ 27 ٹریلین ڈالر کی مشترکہ منڈی تشکیل دیتا ہے۔

رائٹرز نے اسے ایک تاریخی معاہدہ قرار دیتے ہوئے  خبر دی ہے کہ بھارت اور یورپی یونین نے اہم تجارتی معاہدہ  مکمل  کر لیا ہے، جس کے تحت زیادہ تر اشیا ءپر محصولات میں نمایاں کمی کی جائے گی۔

فاکس نیوز پر پاکستانی صحافی قمر چیمہ نے کہا کہ اس معاہدے سے بھارت کو فائدہ پہنچنے والا ہے، کیونکہ کئی اہم شعبوں میں محصولات (ٹیرف) صفر کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ہمسایہ ممالک اب یورپی منڈی میں بھارت کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

غیر ملکی رہنما

یورپ بھر کے کئی سینئر سیاسی رہنماؤں نے اس معاہدے کا کھلے عام خیرمقدم کیا۔

جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے مذاکرات کے اختتام کو “نہایت مثبت اشارہ” قرار دیا اور ترقی و خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے اس کے فوری نفاذ پر زور دیا۔

فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب نے بھارت–یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو تاریخی اور دونوں فریقوں کے درمیان اب تک کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ قرار دیا، اور کہا کہ اس سے معاشی اور سیاسی تعلقات نمایاں طور پر مضبوط ہوں گے۔

سویڈن کے وزیر اعظم اُلف کرسٹرسن نے کہا کہ یہ معاہدہ تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جو تجارت اور شراکت داری کے ذریعے خوشحالی، مسابقت اور سلامتی کو تقویت دے گا۔

آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹوکر نے کہا کہ یہ معاہدہ دو ارب افراد کو فائدہ پہنچانے والا ایک آزاد تجارتی زون قائم کرتا ہے، اور تیزی سے بدلتے عالمی نظام میں یورپ کی مضبوطی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے اس معاہدے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اسے جغرافیائی سیاست کے اعتبار سے نہایت اہم قرار دیا، اور دو ارب افراد پر مشتمل مشترکہ منڈی میں پہلے قدم اٹھانے کے فائدے کو اجاگر کیا۔

فرانس کے وزیرِ مملکت برائے غیر ملکی تجارت اور اقتصادی کشش، نیکولا فوریسیے نے یورپی یونین–بھارت معاہدے کو ایک بڑا سیاسی قدم قرار دیا اور زور دیکر کہا کہ “یہ دیگر معاہدوں کی طرح عام معاہدہ نہیں ہے۔”

یورپی پارلیمنٹ کے رکن سانڈرو گوزی نے کہا کہ یہ معاہدہ شراکت داریوں میں تنوع پیدا کرنے اور خودمختاری و آزادی بڑھانے کی یورپی یونین کی ضرورت کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے بھارت کو ایک بڑا عالمی کردار قرار دیتے ہوئے کہا کہ جغرافیائی سیاست اور سفارت کاری کے نقطۂ نظر سے یہ معاہدہ یورپیوں اور بھارتیوں دونوں کے لیے اہم مواقع کھولتا ہے۔

کاروباری رہنما اور تنظیمیں

بھارت میں سرگرم یورپی اور عالمی کاروباری رہنماؤں نے بھرپور خوش بینی کا اظہار کرتے ہوئے اس معاہدے کو ایک طویل عرصے سے منتظر بڑی پیش رفت قرار دیا۔

ایئربس میں بھارت اور جنوبی ایشیا کے صدر و منیجنگ ڈائریکٹر اور بھارت میں یورپی کاروباری فیڈریشن کے صدر، یورگن ویسٹرمیئر نے 20 سالہ مذاکرات کے بعد اس آزاد تجارتی معاہدے  کو “ایک بڑا لمحہ” قرار دیا اور کہا کہ یہ دونوں فریقوں کے لیے مواقع کو تیز کرنے والا ثابت ہوگا۔

ایئربس انٹرنیشنل کے صدر ووٹر فان ورش نے اسے “ایک شاندار دن” قرار دیتے ہوئے میک اِن انڈیا، ٹیکنالوجی کی منتقلی، دفاع، خلائی شعبے اور جدید مینوفیکچرنگ کے لیے ایئربس کے طویل مدتی عزم کا اعادہ کیا۔

انڈو–جرمن چیمبر آف کامرس کے ڈائریکٹر جنرل یان نوتھر نے کہا کہ یہ معاہدہ دو ارب افراد اور عالمی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کو یکجا کرتا ہے، اور اسے “تمام آزاد تجارتی معاہدوں میں سب سے اہم” قرار دیا۔

برلن چیمبر آف کامرس ((آئی ایچ کے  برلن  )کے صدر سیباسٹین اسٹیٹزل نے بھارت–یورپی یونین ایف ٹی اے کو بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کے ماحول میں کھلے پن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا، اور کہا کہ بھارت اب مستقبل کی نہیں بلکہ حال کی منڈی ہے، جہاں برلن کو فوری طور پر مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

سرکردہ صنعتی نمائندوں، جن میں فاکس ویگن، بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز بینز جیسے بڑے جرمن کار ساز اداروں کے چیف ایگزیکٹو افسران شامل ہیں، نے اس معاہدے کی صلاحیت کو سراہا کہ یہ جرمن برآمدات کو بھارت تک بڑھائے گا اور عالمی سپلائی چینز کو مضبوط کرے گا۔
کروشین ایمپلائرز ایسوسی ایشن (ایچ یو پی) اور بزنس یورپ نے عالمی تحفظ پسندی کے ماحول میں یورپی یونین–بھارت ایف ٹی اے کو یورپی یونین کے اہم ترین تجارتی اقدامات میں سے ایک قرار دیا۔سویڈن کی کاروباری تنظیموں، جیسے سوینسکت نارنگسلیو اور فویتاگارنا، نے کم ٹیرف اور بہتر منڈی تک رسائی کو بنیاد بناتے ہوئے اسے ایک بڑا موقع قرار دیا۔آئرلینڈ کی معاشی اور کاروباری تنظیموں نے بھی یورپی یونین–بھارت ایف ٹی اے کا خیرمقدم کیا۔ چیمبرز آئرلینڈ نے اسے ایک تاریخی معاہدہ قرار دیا جو آئرش برآمد کنندگان، خصوصاً مشینری اور زرعی خوراک کے شعبوں کے لیے منڈی تک رسائی اور تنوع کو بہتر بناتا ہے۔

دیگر سینئر کاروباری شخصیات میں فرینک شلوڈر (منیجنگ ڈائریکٹر، ہیفیلے ساؤتھ ایشیا)، تھامس وولٹر (منیجنگ ڈائریکٹر، کرونز مشینری انڈیا)، لارس ایرک جوہانسن (ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ، اوکسیہ جی ایم بی ایچ)، یان اولوف یاکے (سی ای او، کنفیڈریشن آف سویڈش انٹرپرائز) اور فریڈرک پرسن (صدر، بزنس یورپ) شامل ہیں، جنہوں نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے قواعد پر مبنی تجارت، سپلائی چین کی مضبوطی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کی ترقی اور طویل مدتی مسابقت کے لیے ایک مضبوط اشارہ قرار دیا۔

بین الاقوامی ماہرین اور تھنک ٹینکس

عالمی پالیسی ماہرین اور تھنک ٹینکس نے اس معاہدے کو مواد کے اعتبار سے مضبوط اور حکمتِ عملی کے لحاظ سے بروقت قرار دیا۔

سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز یعنی اہم اور بین الاقوامی مطالعے کے مرکز (سی ایس آئی ایس) کے سینئر مشیر رچرڈ روسو نے کہا کہ یہ معاہدہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی اور عالمی تجارت کے ایک بڑے حصے کو یکجا کرتا ہے، اور اس کا مثبت تاثر اس کے مضبوط مواد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بھارت کے حالیہ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی ایز) زیادہ گہرے اور زیادہ پُرعزم تجارتی وعدوں کی جانب واضح پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔

اٹلانٹک کونسل کے سینئر فیلو مائیکل کوگل مین نے بھارت–یورپی یونین ایف ٹی اے کو “صحیح وقت پر صحیح معاہدہ” قرار دیا اور زور دیا کہ یہ محض امریکی ٹیرف کے اثرات کم کرنے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع اور تیزی سے بڑھتی ہوئی اہم شراکت داری کو مضبوط کرتا ہے۔

جیوپولیٹیکل اسٹریٹیجسٹ ویلینا چاکارووا نے اسے پیمانے اور اسٹریٹیجک مقصد دونوں کے اعتبار سے دہائی کے سب سے اہم جیو اکنامک یا جغرافیائی اقتصادی معاہدوں میں سے ایک قرار دیا۔کیل انسٹی ٹیوٹ فار دی ورلڈ اکانومی کے مطابق، یورپی یونین اور بھارت کے درمیان گہرے انضمام سے دوطرفہ تجارت میں 41 سے 65 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ دونوں فریقوں میں حقیقی آمدنی میں جی ڈی پی کے 0.12 سے 0.13 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔

یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز نے یورپی یونین–بھارت ایف ٹی اے کو حالیہ برسوں میں طے پانے والے سب سے بڑے تجارتی معاہدوں میں سے ایک قرار دیا، جو اشیاء، خدمات، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل تجارت اور ضابطہ جاتی تعاون کا احاطہ کرتا ہے۔

 اسٹریٹیجک مطالعے کے بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ (آئی آئی ایس ایس) کے مطابق، بھارت کی جانب سے متعدد شراکت داروں کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر حالیہ توجہ زیادہ کھلی معیشت کی جانب پیش رفت کی علامت ہے اور یہ بھارت کے طویل مدتی ترقیاتی اہداف کے حصول کے امکانات کو تقویت دے گی۔