امریکی حملے کے خدشے سے ایران میں احتجاجی تحریک کے دوبارہ ابھرنے کا خوف

تاثیر 3 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

لندن،03فروری:برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے موجودہ اور سابقہ چھ ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی قیادت کو بڑھتے ہوئے خدشات لاحق ہیں کہ ممکنہ امریکی حملہ گزشتہ ماہ ملک بھر میں پھیلنے والے احتجاج کے بعد ایرانیوں کو ایک بار پھر سڑکوں پر نکلنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔مباحثوں کی پیش رفت سے آگاہ چار موجودہ حکام کے مطابق اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں عہدیداروں نے ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو آگاہ کیا کہ احتجاج کچلنے کے باعث عوامی غصہ اس حد تک پہنچ چکا ہے جہاں اب خوف رکاوٹ نہیں رہا۔حکام نے انکشاف کیا کہ خامنہ ای کو بتایا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں ایرانی دوبارہ سیکیورٹی فورسز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیںاور یہ کہ بیرونی دباؤجیسے ایک محدود امریکی حملہ انہیں ”حوصلہ دے سکتا ہے” اور سیاسی نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ذرائع نے خامنہ ای کے ردِعمل کے بارے میں بتانے سے انکار کیا۔ایک عہدیدار نے رائٹرزکو بتایا کہ اس کے بقول ”ایران کے دشمن” اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کے لیے مزید احتجاج چاہتے ہیں۔